سیاست

سیاست خدا اور خلقِ خدا کی خوشنودی کے چوکھٹے کے اندر رہتے ہوئے اداری کنٹرول کا فن ہے۔ حکومتیں جس حدتک عوام کو طاقت اور اقتدار کے ذریعے شر سے بچاتی ہیں اُنہیں عدالتوں کے ذریعے ظلم و ستم سے محفوظ رکھتی ہیں اُسی حد تک سیاست میں کامیاب سمجھی جاتی ہیں اور اچھے مستقبل کے وعدوں پر پوری اترتی ہیں ۔اس کے برعکس اقبال کی موم بتیاں جلد ہی بجھ جاتی ہے اور پھر گر کر یہ جا وہ جا‘ اپنے پیچھے ایک دشنام طراز ہجوم چھوڑ جاتی ہیں ۔

* * * * *

قدیم زمانے سے لے کر آج تک ذکی‘ باخبر اور بڑے بڑے چلتا پرزہ قسم کے سیاستدان‘ لوگوں کے ہجوموں کو کنٹرول کرتے چلے آ رہے ہیں ۔اور یہ سیاستدان اچھے ہوں یا برے‘ اِنہیں میں سے عقلمند اور تجربہ کار لو گ ا ِنہیں کنٹرول کرتے ہیں ۔دنیا پر ہماری حکومت کے دوران ایسے دور دیکھنے میں آتے ہیں جن میں ‘ہمارے ہاں بھی اس قسم کے لوگ پائے جاتے تھے۔

ایک اچھے منتظم اور سیاستدان کے لیے یہ نکات نہایت اہم ہیں ۔برحق سوچ‘حقوق کی برتری‘فرائض کا شعور‘الجھے ہوئے اور مشکل کاموں میں احساسِ ذمہ داری‘دقیق اور نازک کاموں میں مہارت اور قابلیت۔

* * * * *

حکومت کے معنی ہیں انصاف اور امن۔جس جگہ یہ دونوں چیزیں موجود نہ ہوں وہاں حکومت کا وجود مشکوک ہو جاتاہے۔اگر حکومت کاکسی پن چکّی سے موازنہ کیا جائے تو چکّی سے نکلنے والا آٹا نظام‘امن اور سلامتی کی نمائندگی کرتا ہے۔جو پن چکّی یہ اشیاءنہ نکال سکے وہ سوکھے شورشرابے پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر وقت محض ہوا ہی پیستی رہتی ہے

* * * * *

اگر ایک حکومت اپنی قوم کو”میری قوم“ کہتی ہے تو اس سے بڑھ کر اہم بات یہ ہو گی کہ قوم بھی اپنے سر پر بیٹھی حکومت کو”میری حکومت“کہے ۔ میرے خیال میں ہمیشہ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس اگر قوم اپنے سر پر بیٹھی حکومت کو اپنے جسم پر مسلط دیمک کا ایک سلسلہ سمجھے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کا سر اور دھڑ مدت مدید پہلے ایک دوسرے سے الگ ہو چکے ہیں ۔

* * * * *

عوام کے دلوں میں ریاست کے لیے عزت اور حکومت کے لیے حرمت‘ حکومت کے کارکنوں کی سختی کے ذریعے پیدا نہیں کی جا سکتی ۔ بلکہ اسے سرکاری اہلکاروں کے طور اطواراور طرزِ عمل کی سنجیدگی سے‘ ان کے کام اور خدمات کے خلوص سے پیداکرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آج تک نہ ظالم کارکنوں کے استبداد سے اور نہ ہی عوام کو غفلت کا شکاربنانے سے کسی حکومت کو دوام حاصل ہو سکا ہے۔

ایک عمدہ اور فضیلت مآب ریاست کے اِداری اہلکار اگر اپنے خمیر کی نجابت‘ سوچ کی نجابت اور احساسات کی نجابت کے اعتبار سے منتخب کیئے گئے ہوں تو و ہ ر یاست ایک اچھی اور طاقتور ریاست ہو گی۔ ان اعلیٰ قابلیتوں سے محروم اشخاص کو سرکاری حکام مقرر کر کے جو بدنصیب حکومت ان سے کام کروائے گی و ہ ایک اچھی حکومت نہیں ہو سکتی اور ایسی حکومت کی عمرکسی حالت میں دراز نہیں ہو سکتی۔کیو نکہ اگر سرکاری ملازم مطلوبہ قابلیت کے حامل نہیں ہوں گے تو ان کے ناقص طرز عمل کی عکاسی زود یا بدیر ان کے چہروں پر سیاہ دھبوں کی شکل میں نمودار ہونے لگے گی اور عوام کے ضمیر میں بھی ان کے چہرے سیاہ ہی دکھائی دیں گے۔

* * * * *

سرکاری حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی کے دوران قانون کی حدود کے اندر رہیں مگر اپنے ضمیر کی نرمی کے حساب سے نرمی ببھی برتا کرےں ۔یوں نہ صرف ان کا اپنا اعتبار قائم رہے گا بلکہ قوانین اور ریاست کا اعتبار بھی محفوظ رہے گا۔یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انتہائی سختی کے باعث ایسے دھماکے ہو سکتے ہیں جن کی امید بھی نہیں کی جا سکتی۔اِسی طرح ان کی انتہائی نرمی بھی معاشرے میں غیر انسانی رجحانات کے پودے کی شکل میں ظاہر ہو سکتی ہے۔

* * * * *

قانون ہمیشہ‘ ہر جگہ اور ہر شخص پر لاگو ہوتے ہیں ۔ ان پر عمل کروانے والے جرات مند بھی ہونے چاہیئں اور عادل بھی‘تا کہ عوام ایک طرف تو ان کے مقابل آتے ہوئے خوف کھائیں اور دوسری طرف اپنے اعتماد اور اپنی سلامتی سے مکمل طور پر ہاتھنہ دھو بیٹھیں ۔

* * * * *

جس قدر پختہ یقین‘ ذکی ‘ جرائت مند اور متحرک افراد ایک ریا ست کی نمائندگی کرےں گے اتنی ہی وہ ریا ست مضبوط اور قائم و دائم رہے گی او ر اس کے نتیجے میں خوش قسمت سمجھی جائے گی۔

* * * * *

باغبان پودوں کی پرورش کرتا اور اُنہیں بڑا کرتا ہے۔ اُنہیں آفات سے اور دیگر ضرر رساں عوامل سے بچاتا ہے‘ پھر جب پھل توڑنے کا موسم آتا ہے تو ان کا پھل اکٹھا کرتا ہے۔ حکومت اور قوم کاباہمی تعلق بھی وہی ہے جوایک باغبان اور پودوں کے درمیان ہوتا ہے۔

* * * * *

عالیشان حکومتیں عالیشان قوموں میں ہی پیدا ہوتی ہیں ۔عالیشان قومیں علمی قابلیت‘ مالی وسائل اور ایسی نسلوں سے بنتیہیں جن کے افراد کی سمجھ بوجھ کا زاویہ وسیع ہو اور جو روحانی معاملات کو بھی اہمیت دیتی ہوں ۔

* * * * *

ایک ایسی قوم جس میں ہر فرد کا پختہ کار ہونا ابھی ثابت نہ ہو سکا ہو اُس میں حکومت کا انتظام‘ آبادی کے سب سے عالِم ‘ سب سے تجربہ کار‘ اور سب سے ماہر اشخاص کو تلاش کر کے اُن کے سپرد کیا جاناچاہیے۔ کسی قوم کے لیے اس سے بڑھ کر کسی دوسری تباہی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت کے کام ایسے لوگوں کے سپرد کر دئیے جائیں جن کے پلّے نہ علم و عرفان ہو اورنہ ہی متعلقہ کام کی مہارت۔

* * * * *

اگر غلطی سے بھی ایسے بد نصیب لوگ کسی محکمے کے سربراہ بنا دئیے گئے ہوں جو علم و عرفان اور شرافت سے محروم ہوں اورجنہیں سرکاری کاموں کی بھی شد ھ بدھ نہ ہو تو وہ لوگ حکومت کی طاقت کو غلط استعمال کرنے سے‘ اقتدار کے نا جائز استعمال سے‘ ہرمعاملے میں اپنے مفاد کو پیش نظر رکھنے سے اور ایک مطلق العنان بادشاہ کی طرح محض حکم چلانے سے گریز نہیں کریں گے۔ جس ملک میں اس قسم کے لوگ اقتدار میں ہوں گے وہاں محض ظالموں کی ہاﺅ ہُو اور مظلوموں کی آہ و زاری ہی سنائی دے گی۔ آج تک جہاں سے بھی ایسے بدنصیبوں کی آوازیں اٹھیں تقریباََ ہر ایسی جگہ عاد اور ثمود کی عاقبت سے کسی صورت نہ بچ سکی۔

* * * * *

ہر حکومت کو چاہیے کہ وہ محض قوم کے معاملات‘ عملی اقدامات اور طرزِ عمل ہی کو نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قومی تفکراوراِدراک کو بھی منظم کرنے کی کوشش کرے۔ اُنہیں یوں منظم کرنے کے عمل میں سب سے اہم اور بنیادی عناصر سوچ‘ احساس اور تعلیم و تربیت کی یک جہتی ہیں ۔جن افراد سے مل کر قوم بنتی ہے اگروہ سب مختلف ثقافتوں اور مختاف سوچوں کے تحت پرورش پا چکے ہوں ‘ ایک دوسرے کے خلاف محازآرا رہتے ہوں ‘ اور ایک دوسرے کی متضاد ادراک کے باعث اٹھنے والے جھگڑوں میں اُلجھے رہتے ہوں تو اس قوم کے مقدر میں یہی لکھا گیاہے کہ وہ آپس میں ہی ایک دوسرے کو کھا کراپنے آپ کو ختم کر دے گی۔

* * * * *

احساسات‘ سوچ اور ثقافت کی یک جہتی ایک قوم کے طاقتور ہونے کے لیے جس حد تک اہم ہے‘ اُس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جانے میں ‘ دینی اور اخلاقی وحدت میں بگاڑلانے میں بھی اُسی حد تک موثر ہوتی ہے۔

* * * * *

ہر شے میں ایک سیاست ہوتی ہے۔جو لوگ ایک قوم کو اس کی حیاتِ نو کے لیے تیار کرتے ہیں اُن کی سیاست یہ ہے کہ وہ ہر شے کو‘ حتیٰ اپنے لطف و مزے کو بھی بالائے طاق رکھ کر‘ صرف اور صرف اپنی قوم کی خوشیوں اور لذتوں سے قوت پائیں اور اس کے دکھ دردسے دہرے ہو جائیں ۔

* * * * *

اعلیٰ انتظام اور بلند پایہ سیاست نہ سفید بالوں اور نہ ہی سفید داڑھیوں میں ‘نہ خوشامد اور ریاکاری کے ذریعے حاصل شدہ مناصب اور رتبوں میں ‘اور نہ ہی اس مصنوعی شہرت میں ڈھونڈنی چاہیے جو ایک طرح کے مقامی حلقوں کی مدد سے حاصل کی گئی ہو۔ ایسی سیاست تو روحانی طور پر بلند پایہ انسانوں میں ‘نہایت محنتی دماغوں میں اور اُن غلاموں میں ڈھونڈنی چاہیے جنہیں حقیقت آزاد نہیں سمجھتی۔

* * * * *

ہر گھر ایک مکتب ہے جس میں اس گھر کے افراد کی تعلیم و تربیت کی جاتی ہے۔ہر مکتب ایک چھوٹی سی چھاﺅنی ہے جس میں عسکری روح کی پرورش کی جاتی ہے۔ہر چھاﺅنی ایک اسمبلی ہے جس میں قوم کی حیات‘ بقا‘ اور امن و سکون کے بارے میں بحث مباحثہ کیا جاتا ہے۔اگر ہر اسمبلی اس قابل ہو کہ اس کے فرائض اور صلاحیت کے پیش نظرجو مسائل اس کے سپرد کیئے جائیں ان مسائل کی قومی روح اور قومی سوچ کی روشنی میں تشخیص کرنے والی ایک اجتماحی لیبارٹری کی حیثیت سے خدمات ادا کر سکے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ اس قوم کے پاس ایک نہایت مثالی اداری اور سیاسی عملہ موجود ہے۔

* * * * *

مختلف خیالات اور مختلف مطالعوں کا مالک ہونا انسانوں کے پختہ کار ہونے کی علامت ہے۔البتہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ معاشرے کو تقسیم کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور اسے مختلف سوچ اورمشاہدات والے گروہوں میں تقسیم کر دے اور پھران میں سے کسی ایک کی حمایت کرنے لگ جائے۔ کیونکہ تقسیم ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا اور پھر اس تقسیم کو برداشت کرنا یوں ہے جیسے کوئی اپنی قوم کو تباہ ہوتا دیکھ کرآنکھیں بند کرلے۔

* * * * *

وہ لوگ جو قومی احساسات اور سوچ میں برابر کے شریک نہیں ہوتے اُن کے متعلق آپ خواہ کتنے ہی پُر امیداور اچھی نیت کے مالک کیوں نہ ہوں آپ کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ لوگ آپ کے لیے ضرر رساں ثابت ہو سکتے ہیں ۔بالخصوص اُنہیں ایسا موقع ہرگز ہرگز نہیں دینا چاہیے کہ وہ قوم اور معاشرے کی شہ رگ کی اہم جگہوں پر قبضہ جما لیں !۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ انسان ایسے حالات سے دو چار ہو جائے جہاں اُسے اپنے آپ کوخطرے میں دھکیلنا پڑ جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں مگر اُسے یہ حق کسی صورت میں حاصل نہیں کہ وہ قوم اور ریاست کو بھی خطرے میں دھکیل

* * * * *

بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کے خیالات آپ کی سوچ سے مختلف ہوں اور جن کا دنیا کے بارے میں نقطہ نظربھی آپ سے مختلف ہو‘ مگر اس کے باوجود وہ نہایت مخلص اور مفید ثابت ہو سکتے ہوں ۔ اس بات کے پیشِ نظرخدشہ ہے کہ آپ جلدبازی سے کام لیتے ہوئے ہر اُس سوچ کے خلاف محاذآرا نہ ہو جائےں جو آپ کے خیالات سے مختلف ہے۔ایسے لوگوں کو ہاتھ سے نہیں گنَواناچاہیے‘ بلکہ ان کے خیالات اور مطالعے سے استفادہ کرنے کی راہیں تلاش کرنی چاہئیں اور پھر ان سے بات چیت کاآغاز کر دینا چاہیے۔ ورنہ محض یہ کہہ کر کہ وہ لوگ ہماری سوچ سے مختلف سوچ رکھتے ہیں ان سے ایک ایک کر کے دور ہوتے جانا یا ان کو دور ہو جانے دینا درست نہیں ہو گا۔ کیونکہ یہ غیر مطمئن لوگ عوام کو جوق در جوق اکٹھا کر کے ُانہیں آپ کے خلاف محاذآرا کر سکتے ہیں اور یوں آپ کو خاک میں مِلا سکتے ہیں ۔ انسانی تاریخ میں غیر مطمئن عناصر نے آج تک کبھی کوئی مثبت کارِنمایاں توکر کے دکھایا نہیں ‘ البتہ جن ممالک کواُنہوں نے برباد کیا ہے ان کی تعداد ان گنت ہے۔

* * * * *

انسان کو چاہئے کہ جو علم اور مشاہدات اپنے طرزِ حکومت‘ اپنے تفکر‘ اور اپنی دنیا کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں ‘ جہاں کہیں سے بھی حاصل ہو سکتے ہوں ‘ اُن کے بارے میں معلومات حاصل کرے اور خاص کر تجربہ کار لوگوں کے تجربات سے استفادہ کرنے میں تو کبھی بھی غلفت نہ برتے۔

* * * * *

دین ایک ایسا حیاتی ادارہ ہے کہ اگر اس کی متحد کرنے کی قوت اورتکمیل کی خصوصیت کو قوموں کے منتظموں کی نگاہوں کے سامنے رکھا جائے تو وہ اُس کی ناقابلِ شکست قوت کے سائے تلے رہ کر ہمیشہ اس سے استفادہ کرنا ضروری سمجھیں گے۔

* * * * *

سلامتی اور امن و امان کے حصول کے سلسلے میں ریاست اور قوم کے لیے دین کی قوت جیسی کوئی دوسری قوت سامنے لانا نا ممکن ہے۔ کیونکہ دین جس طرح ضمیر کے لیے ایک موئثرترین طاقت ہے اُسی طرح افراد کی حرکات و سکنات اور ان کے طرز عمل کو رلط و ضبط کے تحت لانے کے لیے بھی ایک سب سے بڑا حاکِم عنصر ہے۔اِس لحاظ سے منتظمینِ سلطنت کو چاہئیے کہ وہ دینی حیات کو قومی حیات سمجھتے ہوئے اسے عوام کے وجدان میں ہمیشہ زندہ رکھنے کی کوشش کریں ۔

* * * * *

قوم کو بلندی کی طرف لے جانا‘ نوجوانوں کو اس معیار پر پہنچا دینا جہاں سے وہ ہمارے اپنے یقین و ایمان اور سوچ کے چوکھٹے میں رہتے ہوئے اپنے دورِ حیات کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں ‘ ان باتوں پر منحصر ہے: غربت دور کرنے اور ضروریات بہم پہنچانے کے لیے ایک با شعور مہم کا اجرائ‘ جس سے عوام کے دلوں میں اپنے لیے پیدا شدہ اعتماد کی حفاظت ہو سکے‘ اورصنعت و تجارت کو ہمیشہ علم اور مہارت کے ساتھ پابند کیا جانا کہ دونوں ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکیں ۔

* * * * *

قوموں کو زندہ رکھنے کے لیے تین اہم عناصر کی ضرورت ہے: دین‘ حکمت اور اسلحہ۔ ان میں سے حکمت کا مطلب یوں سمجھایا جا سکتا ہے: حکمت‘ علمِ حقیقت کو سمجھنے کے بعد اس علم کو زندگی کے ساتھ یک جان بنا لینے کا نام ہے۔

* * * * *

دنیا ایک تجربہ گاہ ہے۔ یہاں تجربوں کے ذریعے حاصل شدہ معنوں اور اقدار کے مطابق ہر شے کو ایک مقام دیا جاتاہے۔میرے خیال میں ایک طرف تو تجربات سے گزاری جانے والی اشیاءکو اہمیت دیتے ہوئے‘ اور دوسری طرف نئے نئے تجربات اور اشیاءکی اقدار مقررکرتے ہوئے کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے

* * * * *

گورنروں میں شفقت‘ زودحسی‘ اور ذمہ داری‘ بلدیہ کے چئیرمینوں میں انتظام‘ صفائی اور بازاروں اور مارکیٹوں کی سلامتی‘ عدلیہ کے ا راکین کے لیے سچائی کا خیال ‘ غیر جانبداری اور شہری جسارت بنیادی چیزیں ہیں ۔

* * * * *

ریاستوں اور قوموں کا ایک دوسری کو برداشت نہ کر سکنا ایک قدرتی امر ہے۔اس لحاظ سے ان کی باہمی سیاست یا توصمیمی دوستی کے اردگرد جاری رہتی ہے اوریا پھر اپنے اپنے مفادکے اردگرد۔ طرفین کے اداروں پر”نہ کسی کو ضرر پہنچاﺅ نہ خود کسی کے ضرر کا نشانہ بنو“ کے اصول کے سِوا اور کوئی پابندی نہیں ہوتی۔لیکن اگر ایک ریاست کسی دوسری ریاست کو فریب دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تو پھر بھی اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کے فریب سے بچے رہنے کے لیے ہمیشہ اپنی آنکھیں کھلی رکھے۔یہ سیاست کا دوسرا رخ ہے۔

* * * * *

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست محض پارٹی ‘ پراپیگنڈا‘ انتخابات اور اقتدار کی جنگ پر مشتمل ہے وہ غلط سمجھتے ہیں ۔دراصل سیاست ایک ایسا وسیع و عریض انتظامی فن ہے جس میں آج کو کل سے اور کل کو پرسوں سے ملا کرمجموعی طور پرغور کیا جاتا ہے ۔اور عوام کی خوشنودی کو رضائے الٰہی کے ساتھ ملا کر مطالعہ کیا جاتا ہے۔

* * * * *

ماضی ایک ایسا سکول ہے جو لوہے کی ایسی پلیٹوں سے بھرا پڑا ہے جن پر زندگی سے حاصل شدہ مثالیں اور عبرت آمیز عبارتیں کندہ ہیں ۔ جو لوگ اس لحاظ سے اس سکول کی اچھی طرح تشخیص کر سکتے ہیں کہ اس نے ہمیں کیا دیا اور کیا حاصل کرنے میں ہمارے لیے کس حد تک مددگار ثابت ہوا‘ وہ مستقبل کو بھی کامیابی سے کنٹرول کر سکیں گے ۔ کیونکہ آج گزشتہ کل کی طرح اور گزشتہ کلاس سے پہلے کے روز کی طرح ہی ہے۔۔۔۔صرف رنگ ہیں جو تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔

* * * * *

طاقت کا راج آناجانا ہوتا ہے‘ مگر حق اور انصاف کی حکومت پائیدار ہوتی ہے۔طاقت کے بل پر راج کرنے والے آج نہیں تو مستقبل قریب میں یقیناَ آئے گئے ہو جائیں گے۔چنانچہ سب سے بڑی سیاست حق اور انصاف میں تلاش کرنے چاہیے۔

* * * * *

اگر ہمارے قبول کردہ پیمانوں کی حدود میں رہتے ہوئے یہ کہا جائے کہ”میں سیاست میں دخل نہیں دیتا‘ تم بھی سیاست میں دخل مت دو!“ تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ”میں وطن اور قوم کے کاموں میں ‘ قوم کی زندگی اور بقا کے معاملات میں دخل نہیں دیتا تم بھی دخل مت دو!“

* * * * *

ہمارے موجودہ زمانے میں اکثر لوگ روزمرہ کے سیاسی کھیلوں ‘ عوام کو دھوکا دے کرفریب کے جال میں پھنسانے‘اقتدار اور ذاتی مفاد کے جھگڑوں اور ان سب سے متعلقہ تمام غیر مشروع حرکات کو مشروع ظاہر کرنے کو ہی سیاست کا نام دیتے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی قلبی زندگیوں ‘سوچ کی جہتوں اورحق تعالیٰ سے تعلقات کی خاطر ہر سیاسی حرکت سے دور رہنا ضروری سمجھتے ہیں ۔افسوس صد افسوس! کہاں وہ سیاست جو انصاف اور حق کی سوچ سے مکمل ہوتی ہے اور کہاں وہ گلیوں میں گھومنے والے جھوٹے مدعی جن کی اکثریت کی بنیاد ہی جھوٹ ا ور دھوکے پر رکھی گئی ہوتی ہے۔۔۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔