جہالت: ایک خطرناک صورت حال

جہالت:  ایک خطرناک صورت حال

تاریکی اور جہالت کے دور میں ہمیں تعلیم اور اعتماد کے ذریعے اپنے پہلے سے قائم کردہ خیالات کا ناقدانہ جائزہ لینا چاہیے۔

یہ خدمت کا ایک اور موقع ہے۔ ہمارے محبت سےسرشار دل حضرت یوسف علیہ ا لسلام کےمشتاق مگر زلیخا[1] کی طرح غمزدہ ہیں اور ہم حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرح آہ و بکاہ کررہے ہیں،تاہم اس کے باوجود ہم چشم کشا اور حوصلہ افز خوش خبری کے منتظر ہیں۔ برسہابرس کے مصائب، تباہ کاریوں اور ملبے کے ڈھیرے تلے دبے اپنے لوگوں کی دل سوز حالت کو دیکھ کر دکھی نہ ہونا ممکن نہیں۔

اب ذرا جاکر ان ممالک کا دورہ کیجیے، جو اسی قسم کے حالات سے دوچارہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ان کے لیے دکھ اور رحم کے جذبات محسوس کیے بغیر نہ لوٹ سکیں گے۔ بڑے بڑے شہروں سے لے کرچھوٹے چھوٹے دیہاتوں تک اور آباد ترین شہری علاقوں سے لے کر دور دراز کے دیہی مقامات تک ایسی بے شمارجگہیں ہیں،جو معاشرتی مسائل اورجہالت کی شکار ہیں۔ یہ صورت حال پورے معاشرے بلکہ بعض اوقات پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والے گرداب کے مشابہ ہے۔ ان ممالک میں آپ اس قسم کے سنگین سماجی، روحانی اور معاشی مسائل کا بکثرت مشاہدہ کریں گے۔ فوری طورپر انہیں حل نہ کرنے کی وجہ سے ان کی جڑیں مضبوط ہوچکی ہیں اور اب وہ ناقابل حل مسائل بن چکے ہیں۔

تاہم انتہائی ناقابل علاج بیماری جہالت ہے۔ وہ پوری قوم کو دیمک کی طرح چاٹ کر اس کے وجود کوخطرے میں ڈال دینے والا مزمن مرض ہے۔ جہالت علم سے محرومی، حاصل شدہ علم کے مطابق مقاصد کا تعین نہ کرسکنے اور صداقت اور صحیح طرزِ فکر سے عاری زندگی سے عبارت ہے۔ وہ ایک ایسی مصیبت ہے، جو ہر زمانے میں پائی جاتی رہی ہے۔ دیگر اقوام کی طرح ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اس جامد دلدل کو خشک کریں، علم کی روشنی سے عوام کے دلوں کو منور کریں، نئی نسلوں کی صحیح طرز فکر اور تاریخی شعور کی طرف رہنمائی کریں اور انسانی اساس سے متصادم منفی رجحانات کا سدِباب کریں بصورت دیگر اس بیماری کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحرانوں سے نکلنا ہمارے لیے ممکن نہ رہے گا اور ہم بدی کے چکر میں گھرے رہیں گے۔

کیا یہ جہالت ہی نہ تھی،جس کی وجہ سے ہم اپنی زرخیز زمینوں کو صحیح طرح استعمال نہ کرسکے، ان پر فصلوں اور پھلوں کی پیداوار میں اضافہ نہ کرسکے اورا پنے تند و تیز دریاؤں سے فائدہ نہ اٹھا سکے؟ کیا یہ جہالت ہی نہ تھی،جس نے ہماری جنت نظیر دنیا کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا؟ ہم اپنی خوبصورتیوں اور عدن کے باغات جیسےخزانوں سے مکمل طورپر ناواقف رہےاور اپنے کھیتوں اور معدنیات سے بھرپور فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اس سے بھی بدتر صورت حال یہ پیش آئی کہ ہم احساس کم تری کا شکار ہوکر امیداور قوتِ ارادی کھو بیٹھے۔ ہماری قوم کی صلاحیتوں کو دھیرے دھیرے برباد کرنے والی جہالت آج اپنی تاریک ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔

دورحاضر میں جبکہ سائنسی اورتکنیکی طرز فکر انتہائی تیزی سے ترقی کررہی ہے اور امید کی ایک کرن روشن ہوئی ہے، کچھ لوگ ان مسائل سے نکلنے کی جدوجہد کے دوران ایک اور بھنور میں پھنس گئے ہیں۔ احساس کم تری کا بُری طرح شکار ہوکر انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ قومی آگاہی اور شعور کو دبانا، اخلاقی اقدارکوتباہ کرنا اور اپنی اعلیٰ روایات سے جان چھڑانا ترقی یافتہ قوموں کے مقام تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ دلوں کو ایمان سے منور اور ذہنوں کو علم و حکمت سے مسلح کرتے، جس کے نتیجے میں فن اور تجارت کے ذریعے ہر طرف خوشحالی پھیلتی، انہوں نے ہمارے قومی جذبے اورشناخت کو شدید نقصان پہنچایا۔

ایک لحاظ سے یہ دوسری قسم کی جہالت زیادہ تباہ کن اور خطرناک ثابت ہوئی ہے۔ پہلی قسم کی جہالت کا جب علم و حکمت سے سامنا ہوا تو وہ ختم ہوگئی، لیکن دوسری قسم کی جہالت ہر جگہ پہنچ چکی ہے ۔ وہ علم و ثقافت کے نام پر پھیل رہی ہے اور ہر کوئی اس کی تعریف و تحسین کرتا ہے۔ پہلی جہالت نے دنیا کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا اورصرف تاریکی کے دلدادہ لوگوں کو مسرت پہنچائی ہے، لیکن بعد میں پیش آنے والی دوسری صورت حال نے روحانی بلندی، بے غرضی اور ایثار جیسی تمام عمدہ صفات کا صفایا کرکے قوم کو سرگرداں و پریشان کر دیا۔

تاہم مستقبل کی تعمیر کی ذمہ داری اٹھانے والے مصلحین اور ماہرین تعلیم ان دونوں قسموں کی جہالت کے خلاف علم جہاد بلند کریں گے۔ انہیں انسانیت کوتابناک دور تک پہنچانے کے لیے ہر جائز ذریعہ استعمال کرناچاہیے اور اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک ثقافتی تحریک چلانا ضرروی ہے۔ ہمیں گھروں اوراسکولوں سے لے کر قہوہ خانوں اور فوجی چھاؤنیوں تک وطن عزیز کے چپے چپے کو تعلیمی مراکز میں تبدیل کردینا چاہیے۔ جہالت، غفلت، تصنع اور قومی ثقافت اور اقدار سے ناواقفیت کے خلاف بڑے پیمانے پر تحریک چلائی جانی چاہیے ، جانبداری سے کیے گئے فیصلوں کا تنقیدی جائزہ لیا جانا چاہیے، سائنس اور سائنسی تحقیق کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے اورنئے اور صحت مند تصورات اپنائے جانے چاہئیں۔

بلاشبہ اس مقدس فریضے کے اولین علم بردار وہ خوش قسمت ماہرین تعلیم اوراساتذہ ہیں، جو اپنے طلبہ کی جسمانی اور اخلاقی دونوں طرح کی صلاحیتوں پر توجہ دیتے ہیں۔ انہیں کائنات میں انسانی مقام اور تعلقات کو لازماً پیش نظر رکھنا چاہیے۔ انہیں اپنے طلبہ کے دلوں میں ان کے مقصد تخلیق کے مطابق جذبہ اور ولولہ پیدا کرنا چاہیے اور طبیعاتی اور مابعد الطبیعاتی دنیاؤں کو ایک ہی حقیقت کے دو رُخ تصور کرنے والے اساتذہ کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

جی ہاں، انسان کے مادی پہلو کو نظر انداز کرنا جیسا کہ رہبانیت اور تصوف کی بعض صورتوں میں ہوتا ہے یا اس کے صرف جسمانی اورمادی پہلوکو پیش نظر رکھنا جیسا کہ بعض فلسفیانہ نظاموں میں ہے، انسانیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔یہ ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ انسان ایک ایسا استثنائی وجود ہے، جس کا اس کائنات میں ایک مستقل مقام ہے۔ وہ اعلیٰ مقاصد کا امین ہے اور مختلف عہدوں اور منصبوں کا امیدوار ہے۔

ایک ایسی مخلوق جو ہر قسم کے علوم و فنون سے مستفید ہونے کی اہل، واقعات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے بہرہ مند، ہر قسم کے جمال کو دیکھنے، سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت کی حامل،مختلف قسم کی مسرتوں اور لذتوں میں امتیاز کرنے کے قابل اور ہمیشہ ابدیت کی خواہش مند ہو، وہ کسی ذمہ داری اور ابدیت کے بغیر کیسے رہ سکتی ہے؟ انسان کو کسی فریضے اور ذمہ داری کے بغیر اور لازوال اور پُرمسرت مستقبل سے محروم سمجھنا اس کے باعزت مقام کو انتہائی نچلے درجے کے مقام تک گرانے، اس کی تمام جسمانی اورذہنی صلاحیتوں اورجذبوں کی نفی کرنے، اسے انتہائی دشوار اورتکلیف دہ راستے پر دھکیلنے اوراس کی زندگی تلخ کرنے کے مترادف ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظلم اور زیادتی ہوسکتی ہے!

ہمارے نزدیک حقیقی اساتذہ اور مربی وہ باسعادت انسان ہے، جو اپنے بے پناہ صلاحیتوں کے حامل طلبہ و طالبات کو نیکی اور صحیح طرز تفکیر کی تعلیم دیتا ہے۔ حقیقی معلم ان کے جذبات ابھارتا ، ان کے شوق اورقوتِ ارادی کو مہمیز دیتا اوران کے حوصلے بلند کرتا ہے۔ وہ اپنے طلبہ و طالبات کے راستے میں رکاوٹ بننے والی تمام تاریکیوں اورزیادیتوں کا ازالہ کرکے ان کی روشن سرچشموں کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسی مبارک، قابل اعتماد اور راست باز ہستیوں سے متاثر ہر چیز انتہائی قابل قدر مقام حاصل کر لے گی، بے قدر و قیمت سمجھی جانے والی چیزیں سونے جیسی قیمتی بن جائیں گی، انتہائی تاریک روحیں منور ہوجائیں گی اور جسمانی خواہشات کے غلام اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پالیں گے۔

وہ اساتذہ کس قدر مبارک ہیں، جو سائنس کےتمام شعبوں کے ذریعے حقیقت کی طرف رہنمائی اور اس کی تصدیق، اعلان اوراظہار کرنے کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیتے ہیں ! جو اپنے شاگردوں کے ارتقا کے ہر مرحلے میں ان کی نگرانی کرتے اور انہیں حقیقی انسانیت کے مقام تک بلند کرنے کے جذبے سے ہمیشہ سرشار رہتے ہیں اور گوکہ بعض اوقات وہ آسمانی بجلی کی طرح تند و تیز ہوجاتے ہیں، لیکن پھر روشنی کی خوشگوار کرنوں کی طرح نرم اور پُرسکون ہوکر اپنے طلبہ و طالبات کے دل و دماغ کو روشن کرتے ہیں!

[1] زلیخا حضرت یوسف علیہ السلام کو غلام کی حیثیت سے خریدنے والےعزیزمصر کی بیوی تھی۔ قرآن کریم اور بائیبل کی روایت کے مطابق اس نےحضرت یوسف علیہ السلام کےعشق میں مبتلا ہوکر انہیں ورغلانے کی کوشش کی، لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا، جس کی پاداش میں انہیں کئی سال تک قید کاٹنی پڑی۔اگرچہ اس خاتون کا نام قرآن کریم میں مذکور نہیں، لیکن اسلامی مآخذ میں اس کا نام زلیخا مشہور ہے۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔