بندگانِ ارشاد کے لیے

ہمارے رسولِ اکرم نے ساری زندگی میں صرف ایک بار حج کیا تھا۔مگر اُنہوں نے اپنی پوری زندگی تبلیغ اور ارشاد(رہنمائی) میں گزار دی۔

* * * * *

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ نعمتوں سے مطابقت رکھنے والے کام نہیں کرتے وہ اپنے چشموں کے خشک ہونے کاسبب بنتے ہیں ۔

* * * * *

بعض آنسو بہت سے دلوں کی فتح کا وسیلہ بن جاتے ہے

* * * * *

بڑائی بڑے بڑے کاموں اور بڑے منصوبوں میں نہیں ملتی۔ اِسے انسان کے اپنی آنکھیں رضائے اِلٰہی پر جمائے رکھنے میں اور اللہ تعالیٰ کے اِن الفاظ میں ڈھونڈنی چاہیے کہ”میں تم سے راضی ہوں ‘۔‘

* * * * *

خبردار بیج بونے کا کام فصل کاٹنے کے وقت تک مت چھوڑو ورنہ دونوں موسموں کی کاوش ضائع جائے گی!

* * * * *

ایک صاحبِ یقین انسان کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اپنے ایمان کو ہر حالت میں عمل کے میدان میں رکھے۔ جب ایمان اور عمل دونوں کسی شخص کے احساسات پر حاوی ہو جاتے ہیں تو اُس کے طرز عمل کو بھی سیدھا راستہ دکھائی دینے لگتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی زمین پر ہمارا قبضہ‘ سرکاری زمین پر لوگوں کے ناجائزقبضے کی طرح ہے۔

* * * * *

اگر انسان کو اپنی کی ہوئی غلطیاں پریشان کرتی ہوں تو اِس کا یہ مطلب ہے کہ اُس کی نیکیوں میں سے اُس کے گناہ تفریق کیئے جا سکتے ہیں ۔

* * * * *

کامیابی کے دشمن خوشحالی اور عیاشی ہیں ۔ مسلمانوں کی کامیابی صرف ایک کمانڈو کی طرح سادہ زندگی گزارنے سے ہی ممکن ہے۔

* * * * *

اگر آپ کے پاس بہت سے انڈے اور چوزے ہیں تو خبردار اُن سب کو ایک ہی ٹوکرے میں مت رکھیئے گا۔۔۔۔!

* * * * *

اگر تدبیر تقدیر کو نہ بھی بدل سکے تو بھی انسان کو آخرِ کار تقدیر پر پتھر برسانے سے بچاتی ہے۔

* * * * *

حسنِ ظن اور عدم اعتماد دو مختلف چیزیں ہیں ‘ اِن کی اپنی اپنی جگہ کا تعین کرنا اربابِ فراست کا کام ہے۔

* * * * *

تبلیغ کے لیے اہم بات یہ ہے کہ جس موضوع کا ذکر کیا جا رہا ہو وہ اخلاص پر مبنی ہو اور اُسے خوشی سے قبول کیا جائے۔ ہر شخص کو چاہیے کہ جن لوگوں کا علم خود اُس کے علم کی سطح سے بلند ہو اُنہیں کسی موضوع پر تبلیغ کرنے کی کوشش نہ کرے ورنہ اُس کا اُلٹاردِ عمل ہو سکتا ہے۔یہ ضروری ہے کہ بیٹا اپنے باپ کو‘شاگرد اپنے استاد کو‘ اور چیلا اپنے گرو کو کچھ نہ سمجھائے۔حضرت ابوطالب ؓکا ہمارے پیغمبر کو خوش آمدید نہ کہناایک قابلِ غور موضوع ہے۔

* * * * *

ماں اور باپ کو کسی مقصد کے لیے قربان نہیں کیا جا سکتا‘ لیکن اگر وہ کہتے ہیں کہ” اسلام کی خدمت مت کرو“ تو پھر اِس پابندی کے بارے میں اُن کے حکم کی تعمیل جائز نہیں ہے۔ اِس کے سوا ماں باپ کے حکم کی تعمیل کرنے والا اپنی زندگی میں برکت پاتا ہے۔

* * * * *

مومن دنیا بھر میں سلامتی اور اعتماد کی علامت ہے۔

* * * * *

انسان حق بات بھی کہہ رہا ہو تو اُسے اپنے باپ سے بحث نہیں کرنی چاہیے۔جلال کی خوبی ہر شخص میں ہوتی ہے ‘کسی میں کم کسی میں زیادہ۔غصّہ کرنا پسند نہیں کیا جاتا لیکن اگر اسے تربیتِ محمدی کے ذریعے تربیت دی جائے تو یہ دشمنوں کے لیے وقار اور مومنوں کے لیے تواضع کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

* * * * *

وہ نشریات جو اسلام دشمنی پر مبنی ہوں یا اسلام پر حملہ آور ہوں ‘ اگر انہیں پڑھنا ناگزیر ہو جائے تو ضروری ہے کہ انہیں غور سے پڑھا جائے۔

* * * * *

برائیوں کے بندھن میں بندھے ہوئے شریر لوگوں سے انسانیت کے ساتھ سلوک کیا جائے تو اُن کے شر کو روکا جا سکتا ہے۔یہ ضرب المثل یاد رکھنی چاہیے کہ”انسان اچھائی کا غلام ہے۔“

* * * * *

ذاتی اقدار کے اعتبار سے کم مایہ انسان اپنے اِرد گِرد بھی ہمیشہ تمام کم مایہ اور گھٹیا شخصیت کے لوگوں کو اکٹھا کر لیتے ہیں ۔ اُن کا خیال ہوتا ہے اِس ذریعے سے اُنہیں تھوڑی ہی سہی کچھ نہ کچھ بلندی تو مل ہی جائے گی۔

* * * * *

شیطان اکثر ایسے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے جو اپنی زندگی دینی احکام کے مطابق بسر نہیں کررہے ہوتے۔امربالمعروف اور نہی عن اِلمنکر پر نہ چلنے والے لوگ وحی کی برکتوں سے محروم رہ جاتے ہیں ۔اِس قسم کے لوگوں کو کسی صورت میں بھی الہام کی ہوا نہیں لگ سکتی وہ کتابیں تو لکھ سکتے ہیں مگر جو کچھ لکھتے ہیں اُس میں فلاح اور برکت نہیں ہوتی بلکہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے

رہتے ہیں ۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنے والے ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن میں ہر وقت الہام کے جھونکے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگوں کو چاہیے کہ پڑھیں ‘ سوچیں اور ہر شخص کو بتانے کی کوشش کریں تاکہ ہم روحانی اعتبار سے زندہ و تابندہ رہیں ۔

* * * * *

اِس زمانے میں ہر مرشد کا مسئلہ اللہ جلِ جلالہ‘ کی خوشنودی ہونا چاہیے۔ اُس کا مطمعِ نظر کسی نوعیت کے دنیاوی احساسات اور خیالات نہیں ہونے چاہئےں ۔ایک مرشد کو یوں سوچنا چاہیے: شاید اگرایک روز مجھے جہنم کی راہ لینی پڑ جائے تو مجھے جاہیئے کہ وہاں بھی کوئی آشنا چہرہ ڈھونڈ کر اُسے حق و حقیقت کے بارے میں کچھ بتاتا رہوں “۔ تو یہ ہے ایک ایسے دعوے دار شخص کے خیالات کا خاکہ جس کی ہمارے ہاں اشد ضروت ہے۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔