بصیرت

علم‘ تجربے اور نورِ فراست کی مدد سے مشاہدہ کر کے محسوس کرنے اور کسی چیز کوسمجھ لینے کے بعد اس کی قدروقیمت کاتخمینہ لگانے کے بنیادی عناصر کا جامع اور مفصل ادراک بصیرت کہلاتا ہے۔اِس لحاظ سے سمجھ لیں کہ صاحبِ بصیرت انسان اگرعالمِ بالا کے بارے میں بھی کشادہ دل ہو‘ تو وہ ایک ایسا بندہِ حقیقت‘قہرمانِ معنویات ثابت ہو سکتا ہے جس نے انسانِ کامل بننے کا مصمم ارادہ کر رکھا ہے۔

* * * * *

عقل علم کا ایک اہم منبع ہے جبکہ بصیرت ثقافت کا ایک حقیقی سر چشمہ ہے۔ جس شخص میں عقل تو ہو مگر بصیرت نہ ہواور وہ بہت کچھ جانتا اور بہت کچھ سمجھتا ہو پھر بھی اُس کے لیے اس علم کے بل بوتے پر کسی مقام پر پہنچنا نہایت دشوار بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔

* * * * *

اگر بصیرت کسی چیز کو اُس کی اصلیت کے مطابق(یا اصلیت کے قریب قریب) سمجھنے کا نام ہے تو بھی ہر صاحبِ عقل انسان کا صاحبِ بصیرت ہونا ضروری نہیں ہو سکت

* * * * *

جس عقل کے ساتھ بصیرت نہ ہو اُس میں اکثر شُبہات‘تردد‘ اور تذبذب دکھائی دیتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں بصیرت کی دنیاہمیشہ اعتدال‘گرمجوشی‘نرمی‘ ارادے کی پختگی اور احساسِ حفظ و امان میں ڈوبی رہتی ہے۔

* * * * *

عقل و فکر ذہن کی سب سے آخری حدِّ فہم ہے جبکہ بصیرت روح کی اولین منزلِ ادراک ہے۔بصیرت کی چوٹی حکمت ہے کہ جس کے بارے میں قرآن کریم یہ کہہ کر اِس حقیقت کو نظروں کے سامنے لے آیا ہے کہ”جسے حکمت عطا کی گئی ہو سمجھ لو کے بے شک وہ بہت سی نیکیوں تک پہنچا دیا گیا ہے.۔“

* * * * *

وہ لوگ جو ہستی کومحض اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ہستی کے بارے میں اُن کی فہم بھی صرف اُن کی نظر کی حد تک ہی محدود رہتی ہے۔ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بصیرت کے ذریعے ہر چیز کا معائنہ کرتے ہوئے انتہائی باریکی سے بال کی کھال اتار لیتے ہیں ۔ جیسے شہد کی مکھی پھولوں سے شہد کے ذرّات اکھٹے کرتی ہے اُسی طرح یہ لوگ بھی تقریباَ ہر چیز سے میٹھے میٹھے معنی نکال لیتے ہیں ۔

* * * * *

آنکھ جن لوگوں کو دیکھتی ہے اُسے اُن کی شکل‘وضع قطع‘ اور قدوقامت نظر آتے ہیں ‘ مگر بصیرت اِن چیزوں سے بھی آگے متعلقہ لوگوں کے اخلاق‘ فضیلت اور روح کی قدروقیمت کا بھی اندازہ لگاتی ہے۔

* * * * *

آنکھیں ‘ اشیاءاور حوادث کو اُن کے ظاہری اور مادی پہلو دیکھ کر‘ جبکہ بصیرت اُن کے مندرجات‘فوائد‘ غایت اور حکمت جیسے اندرونی پہلو دیکھ کر پہچانتی اور سمجھتی ہے۔

* * * * *

جس طرح بصیرت سے مراد عقل نہیں ہے اسی طرح بصیرت کا مطلب سوچ بھی نہیں ہوتا۔ جس طرح سوچنا عقل اور عقل کے ماحصل سے بلند ہے اسی طرح بصیرت بھی سوچ سے بہت پرے ایک ربّانی صلاحیت ہے۔

انسان کو حیوانوں سے ممتاز کرنے والی شے اُس کا شعور‘ بصیرت اور پھر الہام اور حکمت پر عبور ہے۔ ان خواص سے محروم لوگوں کی شکل و صورت کیسی ہی کیوں نہ ہو ‘ اُنہیں جس نقطے پر پہنچنا چاہیے وہاں نہ پہنچ سکنے والوں میں شمار ہوتے ہیں ۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔