شادی اور گھربار

شادی ذوق اور لذت کی خاطر نہیں کی جاتی۔شادی اس لئیے کی جاتی ہے کہ خاندان وجود میں آئے‘قوم کو بقا اور دوام حاصل ہو سکے‘ فرد کے احساسات اور خیالات کو بے ترتیبی سے نجات دلائی جا سکے‘ اور جسمانی لذّتوں کو ربط و ضبط کے تحت لایا جا سکے۔ فطرت کے بیشتر مسائل کی طرح‘ اس موضوع پر بھی ذوق اور لذّتیں دو عناصر پر مشتمل ہوتی ہیں ۔ ایک ترقی اور دوسرخواہشوں کو اکسانے کی حس۔

* * * * *

شادی کے خواہشمند اشخاص کو شادی کا فیصلہ ایک دوسرے کے لباس‘ وضع قطع یہاں تک کہ دولت اور ظاہری خوبصورتی کی بنا پر بھی نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ اس نہایت سنجیدہ مسئلے میں ایک دوسرے کی روحانی خوبصورتی‘ عزت‘ ناموس اوراخلاص کا ادراک‘ فضیلت اور چال چلن کی بلندی کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔

* * * * *

جو لوگ شادی کرتے وقت ضروری تحقیقات نہیں کرتے یا اُنہیں اس کام کے لیے فرصت نہیں ملتی‘ اگر اُن پر ایسا وقتآ جائے کہ اُنہیں ایک دوسرے سے علیدگی کے سِوا کوئی چارہ ہی نظر نہ آئے‘ تو پھر اُن کے لیے نہایت عاقلانہ اصول بھی بے فائدہثابت ہوں گے۔ جی ہاں ! مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ نشیمن کی آگ سے کم از کم نقصان اٹھا کر کیسے جان چھڑائی جائے‘ بلکہ اہم بات یہ ہے ؓکہ جن عناصر سے آگ بھڑک اٹھنے کا امکان ہے اُنہیں نشیمن میں سرے سے داخل ہی نہ ہونے دیا جائے۔

* * * * *

کسی نا آشنا کو اپنی بیٹی کا رشتہ دینا ہی نہیں چاہیے۔ اور نہ ہی کسی ایسی لڑکی کا رشتہ مانگنا چاہیے جسے آپ جانتے نہ ہوں ۔ناواقف لوگوں سے شادی کا عقد یا طلاق پر اختتام پذیر ہوتا ہے (کہ یہ فعل اللہ جل جلالہ‘ کو نہایت نا پسند ہے) اور یا پھردونوں طرف کے لیے زندگی بھر شکنجے میں پھنسے رہنے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔

* * * * *

ایسے ایسے مبارک نشیمن بھی ہیں جن کی بنیاد پہلی کوشش میں ہی حق تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے منطق اور اچھی طرح کی دیکھ بھال پر رکھی جاتی ہے‘اور جو زندگی بھر بالکل ایک مکتب کی طرح کام کرتے ہیں ۔ ان میں تربیت پانے والے طلباءاپنی متعلقہ قوم کے دوام اور بقا کے ضامن ہوتے ہیں ۔

* * * * *

بغیر سوچے سمجھے ازدواج کے نام پر کی گئی شادیاں اور بندھن بعدازاں رو رو کر گلیوں میں دھکے کھانے والے شادی کے رفیقوں ‘ یتیم خانوں میں ترک شدہ یتیم بچوں ‘ اور دونوں خاندانوں کے افراد کے دلوں کو زخمی کرنے والے مجرموں پر منتج ہوتے ہیں ۔

* * * * *

ایک فرد کے لیے اگرشادی کا ایک فائدہ ہو تو قوم کے لیے بے شمار فائدے ہوتے ہیں ۔ اس اعتبار سے ایک ناکام شادی کی طرح سرے سے شادی ہی نہ کرنے سے لڑکیاں محتاج رہ جاتی ہیں اور لڑکے ذلیل ہو جاتے ہیں ۔ یہ ایک طرح کا ہیضہ ہے جس سے قوم کا خون اور پانی ضائع ہوتا رہتا ہے۔

* * * * *

ایک ایسا نشیمن جو روزِ اوّل سے ہی مضبوط بنیادوں پر بنایا گیا ہو اور جس میں مادّی اور معنوی خوشیوں کی لہریں موجزن رہتی ہوں ‘ قوم کے نقطہءنظر سے بقا کا محفوظ ترین بنیادی پتھر ہوتا ہے اور بافضیلت افراد کی تربیت اور نشونما کے لیے بھی ایک مبارک مکتب کا کام دیتا ہے۔وہ قومیں جو اپنے گھروں کو مکتبوں کی طرح مقدس و بابرکت اور اپنے مکتبوں کو اپنے گھروں کی طرح گرمائش والے اور آرام دہ بنا سکتی ہیں اُن کا شمار سب سے بڑی اِصلاحی تحریکوں میں ہوتا ہے۔اور وہ آئندہ نسلوں کے امن اور خوشیوں کی ضامن سمجھی جاتی ہیں ۔

* * * * *

قوم گھرانوں اور افراد سے بنتی ہے۔ اِس لحاظ سے اگر گھرانے اچھے ہوں گے تو قوم بھی اچھی ہو گی اور اگر گھرانے برے ہوں گے تو قوم بھی بری کہلائے گی۔ کاش کہ قوم کی اصلاح کے خواہشمند ہر شے سے پہلے گھرانو ں کی اصلاح کے لیے کا م کرتے۔۔۔۔!

* * * * *

ایک مکان کو اُس میں رہائش پذیر انسانوں کے مطابق گھر کہا جاتا ہے۔ ایک گھر کے فراد اِسی حد تک خوش سمجھے جاتے ہیں جس حد تک وہ تمام مکینوں کی انسانی اقدار میں ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں ۔ جی ہاں ! ہم کہ سکتے ہیں کہ ایک انسان اپنے گھر کے سہارے ہی انسانوں کی طرح رہ سکتا ہے اور ایک گھر اپنے اندر رہنے والے انسانوں کے باعث ہی گھر کہلاتا ہے۔

* * * * *

گھر ایک چھوٹی سی قوم اور قوم ایک بڑا سا گھرہوتی ہے۔ جس شخص نے کسی بڑے یا چھوٹے گھر کا انتظام بغیر کسی عیب کے کامیابی سے چلا لیا اور جو اس گھر کے مکینوں کو انسانیت کے اونچے درجے پر پہنچا گیا‘ وہ شخص تھوڑی سی مزید کوشش سے اس سے بڑے کسی اور ادارے کو بھی کامیابی سے چلا سکتا ہے۔

* * * * *

ایک گھر کی بد انتظامی اور گندگی اس بات کی آئینہ دار ہوتی ہے کہ اس میں رہنے والے لوگ گداگر ہیں اوراُن کی روحےں پریشانی کا شکار ہیں ۔ اسی طرح ایک شہر میں گھروں ‘ دُکانوں اور گلیوں کی گندگی‘ بے انتظامی ‘اور اشیاءکی کارکردگی کے نقائص اس شہر کے بلدیہ کے عملے کے درجہِ حسّاسیت کی تصویر پیش کرتے ہیں ۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔