ماں باپ

ماں اور باپ دو ایسی مقدس ہستیاں ہیں جن کی سب سے زیادہ عزت کرنا انسان پر لازم ہے۔ جو شخص اُن کی حرمت کرنے میں کسر اٹھا رکھتا ہے اُسے حق تعالیٰ کے خلاف محاذ آرا انسان سمجھا جاتا ہے ۔والدین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا زودیا بدیر خود بھی بدسلوکی کا شکار ہو جاتا ہے۔

* * * * *

انسان جس روز سے ایک چھوٹی سی جاندار مخلوق کی شکل میں زندگی کا آغاز کرتا ہے اُسی روز سے وہ ماں باپ کے کندھوں پر ایک بوجھ بن کر نشوونما پانے لگتا ہے۔اِس سلسلے میں اس بات کا کوئی امکان ہی نہیں کہ والد اور والدہ کی اپنے بچوں کے ساتھ شفقت کی گہرائی یا بچوں کی وجہ سے والد اور والدہ کو جو مصیبتیں جھیلنا پڑتی ہیں ان سب کی حدود مقرر کر دی جائیں ۔ اس لحاظ سے ان کی حرمت اور عزت نہ صرف اولاد کے لیے ایک انسانی قرض کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ اُولاد کا ایک فرض بھی ہے۔

* * * * *

جو لوگ والدین کی قدر سے آگاہ ہیں اور اُنہیں حق تعالیٰ کی رحمت تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھتے ہیں وہ اس دنیا میں بھی اورآخرت میں بھی سب سے زیادہ خوش قسمت انسانوں میں شمار ہوتے ہیں ۔اور جو لوگ اُن کی دل آزاری کر کے اُن کی زندگیوں سے بےزاری کا اظہار کرتے ہیں وہ ایسے بدبخت انسان ہیں جنہیں دربدر اور ذلیل ہونے کے لئیے نامزد کیا جا چکا ہے۔

* * * * *

ا نسان اپنے والد اور والدہ کی جتنی عزت کرتا ہے اُسی نسبت سے وہ عزت اُس کے خالق کی عزت بھی شمار ہوتی ہے۔ جوشخص اُن کی عزت نہیں کرتا وہ گویااللہ(جل جلالہ‘) کی بھی عزت اور احترام نہیں کرتا۔ کیا عجیب حقیقت ہے کہ آجکل صرف اللہ کا احترام نہ کرنے والے ہی نہیں وہ لوگ بھی مسلسل اپنے ماں باپ کی بے عزتی کرتے رہتے ہیں جواللہ تعالیٰ سے عشق کا دعویٰ

کرتے ہیں ۔ اولاد کو چاہیے کہ اپنی والدہ اور والد کی بے انتہا عزت اور اطاعت شعاری کرے۔ اور والدین کو بھی چاہیے کہ وہ جتنی اہمیت اولاد کی جسمانی صحت کو دیتے ہیں اُتنی ہی اہمیت ان کی قلبی اور روحانی زندگی کو بھی دیں اور جلد ازجلد انہیں تربیت کے لیے ماہر ترین اساتذہ کے سپرد کر دیں ۔ کس قدر جاہل ہوتے ہیں وہ والدین جو بچے کے قلب و روح کو فراموش کیئے رکھتے ہیں ۔ اورکس قدر بد نصیب ہوتے ہیں وہ بچے جو اس قسم کی بد تہذیبی کا شکار ہو جاتے ہیں !

* * * * *

والدین کے حقوق کی پرواہ نہ کرنے اور اُن کے خلاف بغاوت کرنے والی اولاد انسان کی بگڑی ہوئی شکل کے جنگلی حیوان جیسی ہوتی ہے۔اور وہ والدین جو بچے کی معنوی زندگی کو یقینی بنانے کی کوششوں سے محروم ہوتے ہیں وہ دونوں مرحمت سے عاری ظالم ہیں ‘ اور خاص کر وہ ماں باپ کہ جن کا بچہ صحیح راہ پا کر اُس پر پرواز شروع کر دے تو وہ اُسے مفلوج کر ڈالیں !

* * * * *

گھر معاشرے کی بنیادئی اکائی ہے۔ گھر کے ا فراد ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریوں کا جس قدر پاس کریں معاشرہ اُتنا ہی توانا اور صحتمند ہوتا ہے۔ اس کے برعکس گھر میں کھوئی ہوئی شفقت اور عزت کو معاشرے میں تلاش کرنا بالکل بے ہودہ ہو گا!

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔