فضیلت

اپنی ابدی روح کے یئے ہمیشہ اعلیٰ وقار اور نئے نئے مراتب کی تلاش میں رہو! ہمیشہ چوکّنے رہو کہ کہیں حاصل کردہ وقار واعزازات ہاتھ سے نہ نکل جائیں ۔

اگر ایک معاشرے میں بد صورت لوگ اور بدصورتی اس قدر پھل پھول جائے کہ اس کے متعلق کوئی غور ہی نہ کرے‘خوبصورت لوگوں اور خوبصورتی کا یوں تعاقب کیا جائے جیسے چوروں اور ڈاکوﺅں کا کیا جاتا ہے‘ حقیقت اور فضیلت کے عاشقوں کی حقار ت کی جائے اور اُن پر ناجائز دباﺅ ڈالا جائے‘ بد اخلاقی آسانی سے جہاں چاہے وہیں جا گھُسے‘ اُس ملک میں فضیلت کی خاطرزندگی گزارنے والوں کے لیے زیادہ بہتر ہے کہ وہ زمین کے اوپر رہنے کی بجائے زمین کے نیچے دھنس جائیں ۔

* * * * *

بجا طور پر کہا گیا ہے کہ فضیلت وہ شے ہے جس کی انسان قدر کرتے ہیں اور جوحیوانوں کو با لکل اچھی نہیں لگتی‘ ذلت وہ شے ہے جس سے انسان تھر تھر کانپتے ہوئے دور بھاگتے ہیں اور جسے حیوان کوئی اہمیت دئیے بغیر ہی اپنا وطیرہ بناتے چلے آ رہے ہیں ۔

* * * * *

دین‘ قوم‘وطن‘ناموس اور ملک جیسی بلند معنی تعبیروں کے لئیے گہری محبت کا اظہار کرنا جوانمرد روحوں کا کام ہے۔وہ ان بلند حقیقتوں کو نہ خود پامال کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو پامال کرنے دیتے ہیں ‘اور ضرورت پڑنے پر بلا ترد د ان کی خاطر دل وجان سے اپنی روحوں کو فدا کر دیتے ہیں ۔ وہ بدقسمت لوگ جو روح کی اتنی بڑی عظمت سے محروم ہوتے ہیں وہ اسے دیوانگی قراردیتے ہیں ۔

* * * * *

اگر بعض حالات اور شرائط میں فضیلت نقصان کا باعث بن جاتی ہے تو اس کے باوجود وہ فضیلت ہی رہتی ہے۔اسے حقارت کی نظرسے دیکھنا‘ اس کی وجہ سے پشیمان ہونا‘ ہمیشہ حق تلفی ہی کے مترادف ہوتا ہے ۔فضیلت کے باعث ہونے والے نقصانات کو فضیلت ہی کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

* * * * *

فضیلت روح کی وہ حالت ہے جس میں حُرمت کا مستحق ہونے کے باوجود حُرمت نہ ملنے کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔اور غرور روح کی وہ حالت ہے جس میں حُرمت کا مستحق نہ ہونے کی صورت میں بھی حُرمت کی امید کی جاتی ہے۔جب فضیلت گویا ہوتی ہے تو غرور خودی کے سینے میں پناہ لیتا ہے اور اضطراب کی حالت میں گوش بر آواز رہتا ہے۔

* * * * *

اپنے گزرے زمانے کے بڑوں کو اچھے الفاظ میں یاد کرنااُن کا حق ہے اور ہمارے لیے قدر شناسی کی علامت ہے۔کیونکہ اُن لوگوں میں سے ہر فرد ایک ایسی جڑ کی مانند ہے جو قوم کے لیے باعث شرف ہوتی ہے۔اُن جڑوں کو برباد کرنے کی کوشش اس بات کے مترادف ہے کہ یہ لوگ قوم کو اپنے معززانہ ماضی سے ڈرا کر دور بھگانے والے انسان ہے

* * * * *

وہ لوگ جو دوسروں کی مستحق شہرت کی قدر کرتے ہیں اور اُنہیں عزت سے یاد کرتے ہیں ‘ ایک روز ضرور آئے گا جب وہ بھی اسی طرح عزت سے یاد کیئے جائیں گے۔ اور وہ جو چاہتے ہیں کہ دوسروں کی شہرت پر تنقید کرنے اوران کی شہرت کو کم تر کرکے بیان کرنے والوں کے نام سے مشہو ہو جائیں تو ایسے لوگ نہایت بری شہرت کما لیتے ہیں ۔

* * * * *

خود شناسی بصیرت ہے اور خود بینی اندھاپن۔ خود شناس انسان حق تعالیٰ اور عوام دونوں سے قریب تر ہو جاتے ہیں ۔ مگر خودبین انسان خودپرستی کے علاوہ ہر شے سے دور ہو جاتے ہیں ۔

* * * * *

ماضی کی خطاﺅں کا محاسبہ کر کے اُن سے فائدہ اٹھانا‘ اور ماضی کے انسانوں کو کسی حد تک معاف کر کے ان کے ساتھمشغول نہ ہونا ایک عقلمندانہ روش ہے۔ خوا ہ مخواہ ماضی اور ماضی کے انسانوں کی برائیاں کرنا حماقت ہے۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔