حکمت کی شعاعیں فلسفے کے مطابق

عوام کی مخالفت غلطی ہے۔لیکن یہ مقولہ اُسی وقت لاگو ہوتا ہے جب عوام واقعی عوام ہوں ۔اگر حالت اس کے برعکس ہو توعوام سے موافقت کا اظہار کرنا غلطی ہے۔ایک بیمار کے بارے میں انجینیروں کی رائے سے مخالفت غلطی تصور نہیں کی جائے گی۔اسی طرح تعمیراتی حساب کتاب میں ڈاکٹروں کی رائے نہ لینا بھی غلطی شمارنہیں ہو گی۔

* * * * *

عجز محض طاقت یا اقتدار کی عدمِ موجودگی کے معنوں میں نہیں لیا جانا چاہیے۔ کتنے ہی طاقتور اور صاحبِ اِستعداد لوگ ہیں جو اِس وجہ سے عجز کے مقام پر پڑے ہیں کہ اُن کی استعداد کی تشخیص نہ کی جانے کے باعث اُن سے استفادہ ہی نہیں کیا گیا۔

* * * * *

جن کی روشنی کا سرچشمہ اُن کی اپنی ذات ہو اُن کی ضیاءاندھیروں سے نہیں بجھائی جا سکتی۔ اِسی طرح ایسی ضیاءکو کسی اورروشنی سے بھی مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔ روشنی کا ایسا سرچشمہ اپنی طبعی عمر کے دوران ہر شے کے باوجود نہایت چمکیلی روشنی دیتا اور اپنے ماحول کو منور کرتا رہتاہے۔

* * * * *

جو لوگ اپنے آپ کو ایمان کے زیور سے نہیں سجا سکتے اُن کے لیے عقل ایک پریشان کن آلہ ہے۔

* * * * *

محض دوسروں کو دیکھ کر اُن کی طرح کام کرنے والے لوگ اتنے کامیاب نہیں ہوتے جتنے اُسی کام کو سمجھ کر کرنے والےہوتے ہیں ۔اِسی طرح جو شخص کسی کام کوسمجھ کر کرتا ہے وہ اتنا کامیاب نہیں ہوتا جتنا وہ شخص جو وہی کام اپنے ضمیر کی آواز سن کر کرتا ہے۔

* * * * *

صرف پیسے کا نہ ہونا ہی غربت نہیں ہوتی بلکہ علم‘سوچ‘ اور ہنر کی عدم موجودگی بھی غربت ہی کے جدا جدا رنگ ہیں ۔ اِس اعتبار سے بے علم‘ بے ہنر‘ اور سوچ سے محروم امیر لوگ بھی ایک طرح سے فقیر ہی سمجھے جاتے ہیں ۔

* * * * *

عینک بعض اوقات آنکھ کے لیے ‘ آنکھ ہمیشہ عقل کے لیے ‘ عقل بصیرت کے لیے ‘ بصیرت ضمیر کے لیے اور ضمیر روح کے لیے مشاہدے اور بینائی کا کام کرنے والے ایک روزن کی طرح ہے۔

* * * * *

پاگل خانے میں سب سے قابلِ رحم شخص وہ ہے جو صاحبِ عقل ہو۔ اگر کوئی پاگل ہم لوگوں میں آ شامل ہو تو قابلِ رحم وہ خود بن جاتا ہے۔تمام لوگ پاگل تو ہیں مگر اُن میں صرف پاگل پن کی شدت کا فرق ہوتا ہے۔

* * * * *

انسانیت ایک درخت ہے۔قومیں اس درخت کی شاخیں ہیں ۔حوادث تندوتیز ہواﺅں کی طرح ہیں ۔اپنی شدت کے مطابق یہ ہوائیں ان درختوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتی ہیں ۔قدرتی بات ہے نقصان تو درخت ہی اٹھاتا ہے۔”ہر شخص جوکچھ کرتا ہے خود اپنے ساتھ ہی کرتا ہے“۔اس محاورے کا مطلب بھی ضرور یہی ہو گا۔

* * * * *

راتیں اُن میدانوں کی طرح ہیں جن میں انسان کا انکشاف اور نشوونما ہوتی ہے اور جہاں انسانیت کی خوشی اورسعادت تیار کی جاتی ہے۔بلند سوچ اور بلندپایہ اثرات ہمیشہ انہیں راتوں کے اندھیرے کے رحم میں پھلتے پھولتے رہے ہیں اور پھر انسان کے استفادے کے لیے پیش کر دئیے گئے ہیں ۔

* * * * *

جن لوگوں کو آسمان کے اُ س طرف سے سفر کا بلاوا آتا ہے وہ تقریباَ ہمیشہ اُن لوگوں میں سے چُنے جاتے ہیں جو سحرہوتے ہی اپنے راستے پر چل نکلتے ہیں ۔

* * * * *

معدہ اُن غذاﺅں کو باہر پھینک دیتا ہے جو ہضم نہیں ہوتیں اور جو جسم کے لیے مُضر ہوتی ہیں ‘ اور پھر اُن کے اوپر تھوک دیتا ہے۔وقت اور تاریخ بے فائدہ انسانوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں ۔

* * * * *

زنگ لوہے کا دشمن ہے‘ سکہ الماس کا‘اور اشیاءکو خوامخواہ ضائع کرنا روح کا زیاں ہے۔اشیاءکا نا جائز زیاں اگر آج نہیں تو کل یقینا گل سڑ کر برباد ہو جانے کا سبب بن جائے گا۔

* * * * *

ہر پیلی چیز سونا‘ ہر چمکدار شے روشنی‘ ہر بہتی چیز پانی نہیں ہوتی۔۔۔۔

* * * * *

ہر سیلاب ان ننھے ننھے قطروں سے معرضِ وجود میں آتا ہے جنہیں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور جوبالآخر ایک ایسی سطح پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ان سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔معاشروں کی بنیادیں بھی ہر لمحہ اس قسم کے سیلابوں کے لیے کھلی رہتی ہیں ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ یہ سیلاب اُن لوگوں کو بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جاتے ہیں جو اُن بنیادوں کے سامنے مقیم ہونے کے خواہشمند ہوتے ہیں ۔

ان پڑھوں کو علم اور حقیقت کے بارے میں سمجھانا پاگلوں کے ساتھ مغز کھپانے کی طرح مشکل تو ہوتا ہے مگرغلامانِ ارشادکو چاہئیے کہ یہ فرض خوشی خوشی سر انجام دیا کریں ۔

* * * * *

سب سے خطرناک بلا وہ ہے جو چہرے کی طرف دیکھ کر ہنستے ہنستے آتی ہے۔

* * * * *

برملا حقیقتوں کو ہر شخص ایک ہی سطح پر دیکھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ اس لیے انفرادی راہ کو ترک کر کے تشخیص اور تمثیل کی راہ کا انتخاب کیا گیا ہے۔

شکایت ہمیشہ زمان و مکان سے کی جاتی ہے‘ حالانکہ اصل مجرم جہالت ہے۔ زمان اور فلک دونوں بے گناہ ہیں مگر انسان نمک حرام بھی ہے اور جاہل بھی۔

* * * * *

وطن جنگل نہیں بلکہ ایک باغیچہ ہے۔اس کو ترتیب دیتے ہوئے پھلدار پودوں اور پھولوں کی تعداد کو بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

* * * * *

نہ جانے اُس شخص کو کیا کہا جائے جو اپنے باغیچے کو جنگلی بوٹیوں کے تسلط میں جانے دیتا ہے اور بعد میں ”آہ فلک!“ کہہ کہہ کر شکایت کرتا رہتا ہے۔

* * * * *

بے شمار صاف ستھری‘ سورج کی دھوپ سے روشن‘ گھاس اور پھولوں سے لدی سڑکیں ایسی ہیں جو چلتے چلتے جان لیوا صحراﺅں سے جا ملتی ہیں ۔اور بے شمار ایسی خاردار پگڈنڈیاں بھی ہیں جو کھڑی چٹانوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی پل صراط کے جنت والے کنارے سے جا ملتی ہیں ۔

* * * * *

سب سے بڑی دانائیوں میں سے ایک دانائی یہ ضرب المثل ہو سکتی ہے:”انسان اپنی زبان تلے پوشیدہ ہے۔“ میرے خیال میں اس سے بھی بڑی حکمت یہ الفاظ ہیں :”دوست چاہتے ہو تو اللہ ہی کافی ہے‘ساتھی چاہتے ہو تو قرآن۔“

* * * * *

لوگ ادراک کو اور جس کا ادراک کیا جائے اُس کو تو جانتے ہیں مگر ادراک کنندہ کو نہیں جانتے! ادراک کنندہ روح ہوتی ہے جو عقل کے ذریعے سمجھتی ہے۔دیکھنے والی بھی روح ہی ہوتی ہے جو آنکھوں کے ذریعے دیکھتی ہے۔

اگر حرکت کسی عقلی یا طبعی محرّک کے نتیجے میں کی جائے تو وہ حیوانی ہے ‘ اور اگر ارادی اور وجدانی محرّکوں پر منحصر ہے تو پھر روحانی اور انسانی ہے۔

* * * * *

غربت ایک بھیانک نیستی ہے۔نیستی ایک ایسا لامنتناہی اور سرگرداں کر دینے والا میدان ہے جس میں ایسا ایک ذرہ ڈھونڈ نکالنا بھی نا ممکن ہے جو ہستی پر دلالت کر سکے۔

* * * * *

اب دیانتدار لوگوں کو متعصب کہا جاتا ہے۔تعصب‘ باطل کے پیدا کردہ چڑ چڑے پن کے باعث کسی چیز پر اڑے رہنے کو کہتے ہیں ۔حق کے معاملے میں اصرار کرنا تو ایک فضیلت ہے اور مومن کا یہ طرزِ عمل قطعاَ تعصب نہیں ہوتا۔

* * * * *

وہ فلسفہ جو الہامِ خداوندی پر مبنی نہیں ہوتا وہ سوچ کی ایک فاش غلطی ہوتا ہے ۔

* * * * *

حقیقی فلسفہ روح اور سوچ کا ایک چلہ ہے۔ یہ صرف اور صرف اللہ کی طرف سے انسان کو حکمت کے موضوع پر کی جانے والی تنبیہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔