عورت

بچوں کی تعلیم و تربیت‘ گھر کے نظام‘ امن اور آہنگ کے زاویہءنگاہ سے عورت مکتبِ انسانیت کی سب سے پہلی استاد ہے۔ آج کل جب کہ عورت کے لیے نئے نئے مقام تلاش کیئے جا رہے ہیں ‘ ہمارا خیال ہے کہ اگر ہم ایک بار پھر دستِ قدرت کے عورت کو عطا کردہ اس مستثنےٰ مقام کی یاد تازہ کرا دیں توشاید ایسی تلاشِ بے جا کو روک سکیں ۔

* * * * *

جس گھر میں غیر ت مند‘مہذب اور اپنے گھر میں گہری دلچسپی لینے والی عورت موجود ہو وہ جنت کے گوشوں میں سے ایک گوشہ ہوتا ہے۔ اُس گھر سے سنی جانے والی آوازیں اور سانس حوروں اور غلمانوں کے نغموں اور کوثر کے بہتے پانی کی آواز کی طرح ہوتی ہیں ۔ اِن سب میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

* * * * *

بعض اوقات انسان ظاہری زینت تلے پسی ہوئی کسی عورت کو دیکھ کر اپنے دل میں سوچتا ہے: ”نہ جانے یہ عورت ناموس‘عفّت اور فضیلت جیسی اندرونی زینت کو بھی کوئی اہمیت دیتی ہوگی یا نہیں ؟“

* * * * *

عورت کو فرشتوں سے زیادہ عُلوی اور نادر الما س کی طرح بنانے والی خوبیاں اس کی اندرونی گہرائی‘عفّت اور وقار ہیں ۔جس عورت کی عفّت کے بارے میں باتیں کی جاتی ہوں وہ ایک جعلی سکّے کی مانند ہوتی ہے۔اگر وہ بے وقار ہو گی تو مذاق کا موضوع بننے والی ایک پُتلی کی طرح ہو گی۔ اس قماش کی عورتوں کے جان لیوا ماحول میں نہ تو صحتمند گھرانے کی اور نہ ہی صحتمند نسلوں کی بات کرنا ممکن ہے۔

* * * * *

ایک عورت جسے اپنے باطن کے ذریعے فضیلت کا احساس ہوا ہو وہ اپنے گھر میں ایک بِّلور کے فانوس کی طرح ہوتی ہے۔ا س کی ہر حرکت سے گھر کے چاروں گوشوں میں روشنیاں بکھرنے لگتی ہیں ۔ جہاں تک عورت کے لباس میں ملبوس اُس بد نصیب عورت کاتعلق ہے جو اپنے آپ کو‘ اپنی روح کی دنیا میں اندھیرے خیالات کے سپرد کر چکی ہو ‘ تو وہ دھند اور دھوئیں کا ایک ایسا سرچشمہ ہوتی ہے جو جس جگہ سے گزرتا ہے اُسے گندا کر جاتا ہے۔

* * * * *

اجتماعی تربیت کی کتاب وہ واحد کتاب ہے جسے عورت کو چاہیے کہ ہاتھ سے چھوڑے بغیر ہر وقت پڑھتی رہے۔ اِس کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کتاب پوری کی پوری تحریر کی جا چکی ہے۔

* * * * *

اپنے آپ کو نفسانی ہوس کے سپرد کرنے والی عورتوں کو دیکھ کر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ”عورت کی عقل چھوٹی ہوتی ہے“۔میں ایسے لوگوں کو عقل کے اندھے سمجھتا ہوں ۔ میرا خیال ہے کہ اگر یہ بات کہنے والے لوگ آج کی عورت کو اشتہارات کا موضوع بنتا دیکھ لیتے تو اُنہیں کچھ کہنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔

* * * * *

پرانے زمانے کے لوگ کہا کرتے تھے کہ ” عورت کے ہاتھ میں سوئی ایسے ہوتی ہے جیسے مجاہد کے ہاتھ میں نیزہ“۔ سچ پوچھیں تو مجھے ان الفاظ میں ذرہ بھر بھی مبالغہ دکھائی نہیں دیتا۔

* * * * *

ماضی میں ایسے ادوار کی کسی طور پر کمی نہیں رہی جن میں عورتوں کو دوسروں کے لیے متاعِ ذوق‘ موضوعِ عیّاشی‘ اور اشتہاری مواد بنایاجاتا رہا ہے۔شکر ہے خدا کا کہ ان تمام بد نصیب ادوار میں آج تک ہمیشہ اس بات کی ابتداءہی کی جاتی رہی ہے کہ عورت کو دوبارہ زندہ کر کے اسے ایک نئی شکل دی جائے اور اُس کی حقیقت معلوم کی جائے۔

* * * * *

کبھی بیٹے کو ”مخدوم“ اور بیٹی کو ”کریمہ“ کہا جاتا تھا کیونکہ یہ الفاظ ”آنکھ کی پُتلی“ یعنی چہیتی یا چہیتا کے ہم معنی ہیں ۔ اِن معنوں میں یہ الفاظ ایک نہایت قیمتی انسانی عضو کو اُس کی پوری اہمیت کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ اور یہ عضو جتنا قیمتی ہے اُتنا ہی لازم بھی ہے‘ اور جتنا لازم ہے اُتنا ہی نازک ترین بھی ہے۔

* * * * *

ہم کہتے ہیں ”اپنے لہنگے کو گرد اور کیچڑ سے بچاﺅ“۔ نہ معلوم ہم اس کہاوت سے یہ اندازہ کر سکتے ہیں یا نہیں کہ ایک چہیتی عورت کو کتنی حفاظت کی ضرورت ہے اور اُسے کس حد تک کنٹرول میں رکھا جانا ضروری ہوتا ہے۔

* * * * *

جس طرح ایک با فضیلت عورت کی زینت اور سنگھار اُس کی عفت اور ناموس ہوتے ہیں اُسی طرح اُس کا سب سے زیادہ قابلِ ستائش اور حیران کن پہلو اجتماعی تربیت اور اپنے خاوند سے صداقت ہے۔

* * * * *

اچھی عورت وہ ہے جس کے منہ میں حکمت ہو‘ روح میں نفاست اور لطافت ہو‘ اور طرزِ عمل میں ہر شخص کی عزت اور حرمت کی تلقین کرنا دکھائی دے ۔ ایسی عورت کہ آشنا نگاہیں بھی اُس کے اِن مقدس پہلوﺅں کا احساس کرتے ہوئے اپنے اندر بشری کمزوریوں کے باعث پیدا شدہ گدلے پن کو اپنی ملامت اور مراقبے میں تبدیل کر لےں ۔

* * * * *

اپنی جسمانی زندگی کے ساتھ نشوونما پاتی ہوئی ایک عورت پر اگر اپنے دل اور روح کی کونپلوں کا انکشاف نہیں ہوتا‘توباوجود اس کے کہ اُس کے ذہن میں ایک مخصوص عرصے کے لیے پھول گھومتے پھرتے رہے ہوں وہ کچھ ہی عرصے کے بعد مرجھا کرپتہ پتہ ہو جانے ‘ اور پھر پاﺅں تلے روندے جا نے سے ہر گز نہیں بچ سکتی ۔ ابدیت کی راہ نہ پا سکنے والے لوگوں کی یہ عاقبت کس قدر حزین ہے!

* * * * *

عورت ایک ایسا قیمتی ہیرا ہے جس کے ساتھ تغافل برتتے ہوئے اُسے گندی نالی میں نہیں پھینکا جا سکتا۔ ہم نے فی الحال اِس امید کو ہاتھ سے نہیں جانے دیاکہ آنے والی خوش قسمت نسلیں جو علم و عرفان اور حقیقت کی اہمیت سمجھ کربیدار ہو چکی ہیں ‘ وہ عورت کو اپنی آنکھ کی پُتلی کی طرح عزیز جانیں گی۔

* * * * *

ہماری عورت ہمارے قومی شرف اور ہماری نجات کا بھی ا یک بے عیب بنیادی پتھر ہے ۔ہماری بے حد لمبی اور شاندار ماضی کی ساخت میں اس کا حصہ کسی طور بھی ان مجاہدوں سے کم نہیں ہے جو د شمنوں سے نبرد آزما ر ہتے ہیں ۔

* * * * *

نسوانی د نیا کے حقوق اور حریت کے دا عیوں کی ا کثریت عورتوں کو ان کی جسمانی لذتوں کے نام پر جو ش دلا نے اور ان کی روحوں میں خنجر گھونپنے کے سوا کچھ نہیں کر رہی۔

* * * * *

جو عورت روح کی پختگی کی حد تک پہنچ چکی ہو اُس کی پال پوس کر پیچھے چھوڑی ہوئی نیک اولاد کے وسیلے سے اُس کاگھر ایک ہمیشہ جلنے والے بخُوردان کی طرح دھواں چھوڑتا ہے جو ہر طرف دلوں کو ہشاش بشاش کرنے والی خوشبو بکھیرتا ہے۔ تویہ اُخروی مکان جس میں خوشبوئیں اُڑتی رہتی ہیں ہر قسم کی تعریف و توصیف سے بالا تر‘ مکمل طور پر جنت کا ایک باغیچہ ہے۔

* * * * *

ایک عورت جو اپنے دل کو ایمان کے نور سے ‘اور اپنے دماغ کو علم اور اجتماعی تربیت کے ذریعے منوّر کر چکی ہے وہ اپنے گھر میں خوبصورتی کی نئی نئی ابعاد کا اضافہ کرتی رہتی ہے‘ یوں جیسے وہ ہرروز نئے سرے سے اپنا مکان بنا رہی ہو ۔ جہاں تک بدچلن او رخودناشناس لوگوں کا تعلق ہے تو وہ اپنے موجودہ گھروں کو بھی توڑ پھوڑ کر کھنڈروں میں اور مایوس کن ماحول سے قبروں میں تبدیل کرتے رہتے ہیں ۔

* * * * *

جس طرح عورت ایک گندے برتن یا کسی مفت کی دھات کے ٹکڑے کی طرح نہیں ہوتی اُسی طرح اُس کا مقام بھی وہ نہیں ہے جو گندے برتنوں یا دھات کے ٹکڑوں کا ہوتا ہے۔ وہ ایک بے مثال چمکدار ہیرا ہے جسے ہر حالت میں صدف جَڑے ڈبوں میں حفاظت سے رکھنا چاہئیے۔

* * * * *

نفاست‘لطافت‘ اور حسّاسیت کے لحاظ سے عورت کا ایک مستثنیٰ مقام ہے۔ اِن خصوصیات کے ساتھ وہ جب تک اپنی فطرت اور اپنے مزاج کی حدود کے اندر رہتی ہے صرف اُس وقت تک اپنے گھر کے لیے اور یوں اپنے معاشرے کے لیے بھی فائدہ مندہو سکتی ہے

* * * * *

آج تک حقوقِ نسواں کے داعیوں کی طرف سے عورت کے نام پر پیش کی گئی ہر تجویز ایسی رہی ہے جس میں اُسے اجڈگنوار بنایا گیا‘ حقیر کیا گیا‘ اور اُس کی ہیت کو بگاڑ کر پیش کیا گیا ہے۔حالانکہ عورت ہستی کی زنجیر کا اک نہایت اہم حلقہ ہے اوراُس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اُس کی فطرت اور مزاج کی حدود کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہے۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔