کیا ایتھرکاوجودہے؟اگرہے تواس کی حقیقت کیا ہے؟

Christaan Huygens(۱۹۲۶ء۔۱۶۹۵ء)نے سب سے پہلے بغیر جزم کے ایتھرکوبہت ہی لطیف ماہیت کے حامل ایسے مادے کی حیثیت سے پیش کیا،جو ہرچیز میں سرایت کیے ہوئے ہے، لیکن جونہی ماکس ویل (Maxwell)نے اس نظریئے کی تائیدکی‘‘خلائے بسیط کانظریہ’’ اپنی اہمیت کھو بیٹھا۔ ماکس ویل کہتاہے:‘‘الیکٹرو میگناٹک‘‘ (Electromagnetic) مظہرکے اثبات سے ایتھر کی صورت میں کسی نہ کسی واسطے کی ضرورت جنم لیتی ہے۔‘‘دوسرے لفظوں میں عالم اکبر(کائنات)سے لے کرعالم اصغر (ایٹم) تک ہرچیز ایتھرکے ضمن میں حرکت کرتی ہے۔اس کا یہ بھی کہناہے کہ اس دریافت کا پہلانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ روشنی کی لہریں محض الیکٹرومیگناٹک لہریں ہیں یایوں کہیں کہ روشنی کا مظہر دراصل الیکٹرومیگناٹک مظہر ہے۔ درحقیقت یہ دریافت مظاہرفطرت کی وحدت کی طرف پہلاقدم سمجھا جاتا ہے۔

درحقیقت ‘‘مائیکل فریڈے‘‘(Michael Faraday)’’ماکس ویل’’سے بھی پہلے یہ کہہ چکا تھاکہ الیکٹرو میگناٹک لہریں خلامیں نقل وحرکت نہیں کرسکتیں، لہٰذا انہیں نقل وحرکت کے لیے کسی واسطے کی ضرورت ہے۔اپنے دریافت کردہ قوانین میں اس نے لکھاہے کہ یہ لہریں عرضی لہریں ہیں جوانعطاف،تکسراورمرکب تکسرکے اعتبارسے روشنی کی خصوصیات رکھتی ہیں، جبکہ ماکس ویل کادعوی یہ ہے کہ روشنی کسی قدر چھوٹی الیکٹرومیگناٹک لہروں کاہی نام ہے۔اس کے بعد‘‘ہرٹز‘‘(Hertz)نے متعدد تجربات سے مکس ویل کے نظریئے کی تائید کی،کیونکہ اس نے مشاہدہ کیاکہ جب وہ کمرے کے کسی بھی کونے میں برقی رو چھوڑتاہے توکمرے کے دوسرے کونے میں رکھے برقی دورے میں دونوں کے درمیان کسی قسم کے ربط کے نہ ہونے کے باوجود فوراً بجلی کے شرارے پیداہوتے ہیں۔اس کے بقول ان لہروں کی رفتارروشنی کی رفتارجتنی ہے،یہی وجہ ہے کہ ان لہروں کو‘‘ہرٹزی لہریں‘‘(Hertzian waves)کہاجاتاہے۔بعدمیں یہی نظریہ ریڈیو، وائرلیس اورٹیلی فون کی دریافت کی بنیادبنا۔

ایتھرکے نظریئے کے مقبول ہوجانے کے کافی عرصہ بعد‘‘مورلے‘‘(Morley)اور مچلسن(Michelson)نے تجربات کی روشنی میں ایتھرکے وجودکوپرکھناچاہا۔اس مقصدکے لیے انہوں نے درج ذیل تجربہ کیا:’’اگرہم دوشعاعیں ڈالیں۔ایک زمین کی حرکت کے رُخ پر اور دوسری عمودی رُخ پراورآئینے کے ذریعے ان شعاعوں کو تجربے کامشاہدہ کرنے والے کی آنکھ پر منعطف کریں، تو زمین کی حرکت کے رُخ پرڈالی گئی شعاع کوزمین کی حرکت سے عمودی رُخ پر ڈالی گئی شعاع کی بہ نسبت دیرسے اپنی منزل پر پہنچناچاہیے،کیونکہ اسے زمین کی حرکت کے مخالف رُخ پر ایتھرکے بہاؤ کی مخالفت کاسامنا کرناپڑاہے،لیکن ان کی یہ توقع پوری نہ ہوئی،کیونکہ دونوں شعاعیں ایک ہی لمحے میں بغیرکسی فرق کے اپنے مقام پرپہنچیں اورباربارتجربہ دہرانے کے باوجود یہی نتیجہ نکلا۔ یہ ایتھرکے وجودکے خلاف ایک ثبوت تھا،جس سے یہ ثابت ہوتاتھا کہ ریڈیائی لہریں نقل وحرکت کے لیے کسی واسطے کی محتاج نہیں ہیں۔

اس نتیجے پربعض لوگوں نے اعتراضات کیے۔ان میں سے ایک لورنٹز (Lorentz) بھی تھا۔ لورنٹزنے یہ اصول دریافت کیاکہ حرکت کے رخ پراجسام اپنے طول کا کچھ حصہ کھوبیٹھتے ہیں اور مورلے اورمچلسن کے تجربے میں یہی اصول کارفرماتھا۔اس نے ریاضی کے اصولوں سے دو شعاعوں کے ایک ہی وقت میں مرکز یامشاہدہ کرنے والے کی آنکھ تک پہنچنے کوثابت کیا۔اس وقت اس اعتراض کوکافی وزنی سمجھاگیا،تاہم یہ بات سمجھنے کی ہے کہ مچلسن جس چیزکے وجود کو ثابت کرناچاہتاہے اس کی حقیقت کیاہے؟ اورلورنٹز جس ایتھرکے وجودکاقائل ہے اس کی ماہیت کیا ہے؟

اول الذکر سائنسدان اپنے تجربے کی بنیادپرایتھرکے نہ ہونے کاقائل ہے، کیونکہ وہ ایتھرکوایک کثیف چیزسمجھتاہے یا کم ازکم اسے کرۂ ارض پرمحیط ہوا کے مشابہ قراردیتااورزمین پرمحیط اس سیال مادے کی حرکت کوزمین کی حرکت کے مساوی قراردیتاہے،دوسرے لفظوں میں وہ ایک فرضی ایتھرکے تصورپراپنے تجربات کررہاہے۔کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ایتھر کا وجود مادے سے ماورا ہو یاہمیں دکھائی دینے والے عالم کے مقابلے میں کوئی عالم غیب ہو۔یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ جس طرح ماضی میں بہت سے علمی رسائل نے ایتھرکے موضوع پرمقالات شائع کئے ہیں،اسی طرح آج بھی ایتھرکے بارے میں متعددمقالات شائع ہورہے ہیں۔

حاصل یہ کہ مشاہدے اورتجربے پرمبنی حکم کی عدم موجودگی کے باوجود جلدبازی میں اس کے وجودکی نفی کرنادرست نہیں،کیونکہ ہمیں اس کے وجودیاعدم وجودکے بارے میں یقینی طورپرکچھ معلوم نہیں۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔