• صفحہ اول
  • کتب
  • اسلام اور دور حاضر
  • رسول اللہﷺنے دیگر شہروں کو چھوڑ کر صرف استنبول کی ہی فتح کی خوشخبری کیوں سنائی اور یہ کیوں بتایا کہ اس کی فتح ہمارے آباء و اجداد کے ہاتھوں انجام پائے گی؟کیا اس کی دینی اور تاریخی پہلو سے توضیح ممکن ہے؟

رسول اللہﷺنے دیگر شہروں کو چھوڑ کر صرف استنبول کی ہی فتح کی خوشخبری کیوں سنائی اور یہ کیوں بتایا کہ اس کی فتح ہمارے آباء و اجداد کے ہاتھوں انجام پائے گی؟کیا اس کی دینی اور تاریخی پہلو سے توضیح ممکن ہے؟

رسول اللہﷺنے صرف استنبول کی فتح کی ہی خوشخبری نہیں سنائی تھی،بلکہ احادیث نبویہ میں حضرت عمرو بن عاص کے تعمیر کردہ شہر‘‘فسطاط’’ اور حضرت عقبہ بن عامر کے تعمیرکردہ شہر ‘‘قیروان’’ کی فتح کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں،نیز بعض روایات میں ‘‘بصرہ’’ کی فتح کا بھی ذکر ہے،تاہم استنبول کی فتح کی بشارت کو خصوصی اہمیت اور امتیازی مقام حاصل ہے۔یہ بشارت مسندامام احمد اور مستدرک حاکم میں درج ذیل الفاظ سے منقول:‘‘ لتفتحنّ القسطنطنیۃ فلنعم الأمیر أمیرھا و لنعم الجیش ذلک الجیش’’ ‘‘تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے۔وہ لشکر اور اس کا سپہ سالار کیا ہی خوب لوگ ہوں گے!’’(۱)

مسلمانوں کے ہاتھوں فتح کے بعد استنبول کو عالم اسلام میں بہت اہمیت حاصل ہو گئی اور وہ چہاردانگ عالم میں برسرپیکار اسلامی فوجوں کا مرکز بن گیا۔وہ ایک عالمگیر سلطنت کا پایۂ تخت قرار پایا اور یورپ کی دہلیز پر ایک مبارک اسلامی شہر کا نمونہ پیش کرنے لگا۔ان اسباب کی بنا پر اس نبوی بشارت کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔

خلفائے راشدین کے دور میں مدینہ منورہ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی اور یہاں سے زمانے بھر کو فتح کرنے کے لیے فوجیں روانہ ہوتی تھیں۔سالہاسال تک اس کی ثقافتی اور عسکری مرکزیت برقرار رہی۔ گو اس کی روحانی حیثیت آج بھی قائم ہے،لیکن جیسے جیسے عالم اسلام کی جغرافیائی حدود تبدیل اور وسیع ہوتی رہیں ویسے ویسے دارالخلافہ بھی ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف منتقل ہوتا رہا۔پہلے دمشق اور پھر بغداد ایک طویل عرصے تک یہ فرائض سرانجام دیتا رہا،لیکن فتح استنبول کے بعد مکہ، مدینہ، دمشق اور بغداد کی نہ صرف حفاظت بلکہ ان کا خیال رکھنے کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر آن پڑی۔

ہر سال محفل صرۃ منعقد ہوتی،جس میں سلطان جلوس کے ہمراہ استنبول شہر کے باہر تک پاپیادہ جاتا تھا۔یہ جلوس سب سے پہلے آلِ رسول ﷺ پھر صحابہ کرام کی اولاد اور پھر مدینہ منورہ کے تمام فقراء کی خدمت میں قیمتی ہدایا پیش کرتا تھا۔ یہ تحائف سونے،چاندی،مرجان جیسے قیمتی پتھروں اور دیگر بیش قیمت ہدایا پر مشتمل ہوتے تھے۔ استنبول ہر سال مدینۃ الرسول اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کے شہروں کی طرف تحائف بھیجنے کی سعادت سے بہرہ مند ہوتا تھا۔

اس شہر نے مستقبل میں جو جلیل القدر خدمات پیش کرنی تھیں انہی کی بدولت رسول اللہﷺ نے کئی صدیاں پیشتر اس کی بشارت دے کر اس کا شاندار استقبال کیا فتح استنبول کے بعد مدینہ منورہ،دمشق اور بغداد اپنے بیٹے کی مروت و خوداری سے لطف اندوز ہونے والے والدین کی مانند ہو گئے اور استنبول نے ایک فرمانبردار بیٹے کی مانند اپنے والدین کی ذمہ داریوں کو اٹھا لیا۔اسلام کا جو نور مدینہ منورہ سے طلوع ہو کر بغداد و دمشق میں چمکا تھا وہ زمین کے باقی ماندہ تاریک حصوں کو منور کرنے کے لیے استنبول سے ضیاپاشی کرنے لگا۔اسی لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقدس کے باوجود استنبول کو نہ صرف ان شہروں بلکہ عالم اسلام کے دیگر شہروں کے لیے خدمت پیش کرنے کی وجہ سے خصوصی مقام حاصل ہے۔

فتح استنبول سے تاریخ کے ایک دور کا خاتمہ اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔(۲) یورپ کو فتح کرنے کے لیے اسلامی فوجیں استنبول سے روانہ ہونے لگیں۔ایک سے زائد مرتبہ بغداد کو بھی استنبول سے فتح کیا گیا۔سلطان مراد چہارم کے عہدِخلافت میں آخری بار ہونے والی فتح کے لیے فوجیں بھی استنبول سے ہی روانہ ہوئی تھیں،جن کی بدولت ایک بار پھر عالم اسلام کی شیرازہ بندی ہوئی۔اس قسم کی خدمات سرانجام دینے کی وجہ سے استنبول ایک بابرکت شہر بن گیا،نیز اس شہر نے مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہونے سے پہلے بھی جلیل القدر صحابی اور رسول اللہﷺکے میزبان حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی میزبانی کی خدمت سرانجام دی۔

تقدیر کی کرشمہ سازی دیکھئے کہ اس نے مدینہ منورہ میں رسول اللہﷺکی میزبانی کرنے والے صحابی کی میزبانی کرنے کا شرف استنبول کو بخشا۔سلطان محمد فاتح نے فتح استنبول کے فوراً بعد حتیٰ کہ جامع الفاتح کی تعمیر،آیاصوفیا کی مسجد میں تحویل اور استنبول کے لیے وضع کردہ دیگر منصوبوں پر کام کے آغاز سے بھی پہلے اس جلیل القدر صحابی کی قبر مبارک کی تلاش کا حکم دیا چنانچہ انہوں نے (فَکَشَفْنَا عَنکَ غِطَاء ک) کے مظہر عظیم ولی حضرت اق شمس الدین کو یہ کہتے ہوئے یہ ذمہ داری سونپی: ‘‘رسول اللہﷺ کی میزبانی کرنے والے اس جلیل القدر صحابی کی قبرتلاش کرو۔’’ انہوں نے کچھ ہی عرصے میں اسے تلاش کر لیا اور سلطان محمدفاتح نے اس صحابی کی قبر کے قریب عالم اسلام کی خوبصورت ترین مسجدتعمیر کرائی۔

استنبول رسول اللہﷺکی اہم اور بیش قیمت امانت اپنے سینے میں لیے ہوئے ہے۔جہاد کی غرض سے آنے والے اس صحابی کی برکت سے یہ شہر جہاد کی علامت بن گیا۔مجاہدین کے کتنے ہی لشکر یہاں سے روانہ ہوئے اور کتنی ہی فتح کی مہمات کا مرکز استنبول بنا۔اس دور میں استنبول سے ہی روانہ ہونے والے لشکروں کی بدولت تین براعظم ہمارے گھوڑوں کی جولان گاہ بنے رہے۔بعض اہل علم نے علم الحروف کی روشنی میں اس شہر کا نام آیت مبارکہ ﴿بَلدَۃً طَیِّبَۃً﴾ سے اخذ کیا ہے۔اسی لیے وہ اسے ‘‘بَلدَۃ طَاہِرَۃ’’ (پاکیزہ شہر) بھی کہتے ہیں۔یہ درست ہے کہ یہ بات انہوں نے سب سے پہلے ’’صنعاء‘‘ کے حق میں کہی تھی،لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سے مکہ معظمہ،مدینہ منورہ اور استنبول مقصود نہ ہوں۔مادی اور روحانی اعتبارسے بہت سے حسین پہلوؤں کا حامل یہ شہر بہت سے صحابہ کرام اور اولیائے عظام کی قبروں کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے۔اس پر ہر دم برکتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس کا یہ بابرکت مقام برقرار رہے گا اور اگر حالیہ ایام میں اسے یہ مقام حاصل نہ بھی ہوا تو بھی ایک نہ ایک دن اسے یہ مقام حاصل ہو کر رہے گا اور اس کی فضائیں ایک بار پھر محمدی بادِنسیم سے معطر ہو جائیں گی۔

نبی اکرمﷺنے استنبول کی دوسری فتح کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے، یعنی اپنی ذات، حقیقت اور روح سے فرار اختیار کرنے والا انسان ایک نہ ایک دن اپنی اصل حقیقت،شخصیت اور روح کی طرف لوٹ آئے گا اور اپنی قلبی اور روحانی سطح بلند کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائے گا۔یہ رسول اللہﷺکی خوشخبری ہے۔ ہم اس نئی فتح کے شدت سے منتظر ہیں۔رسول اللہﷺنے استنبول اور دجال کے درمیان ایک مخصوص تعلق کے پائے جانے کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔وقت آنے پر یہ تعلق بے نقاب ہو کر سب کے سامنے آجائے گا۔کون جانتا ہے کہ رسول اللہﷺنے استنبول کے حق میں نہ جانے کتنے اسراروحکم کا مشاہدہ کیا ہو گا۔یہی وجہ تھی کہ آپﷺ نے کئی صدیاں پیشتر اس کی فتح کی خوشخبری سنا دی تھی۔


(۱) المسند،الامام أحمد، أول مسند الکوفیین.

(۲) فتح استنبول 1453ء میں ہوئی،جسے قرونِ وسطی کا اختتام اور عصرحاضر اور نشاۃثانیہ کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔(عربی مترجم)

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔