• صفحہ اول
  • کتب
  • اسلام اور دور حاضر
  • بعض لوگ سلطان عبدالحمید ثانی کو‘‘السلطان الاحمر’’(خونی بادشاہ)کے لقب سے یادکرتے ہیں۔کیاسلطان عبدالحمیدثانی واقعی ایسے شخص تھے؟

بعض لوگ سلطان عبدالحمید ثانی کو‘‘السلطان الاحمر’’(خونی بادشاہ)کے لقب سے یادکرتے ہیں۔کیاسلطان عبدالحمیدثانی واقعی ایسے شخص تھے؟

جب سلطان عبدالحمید نے زمام اقتدار سنبھالی تو پوری سلطنت مشکلات میں گھری ہوئی تھی۔اس پہلو سے وہ حضرت علی بن ابی طالب کرار کرم اللہ وجہہ اور ان کے دورِخلافت سے گہری مماثلت رکھتے تھے۔بیسویں صدی کے عظیم مفکر بدیع الزمان سعید نورسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:‘‘اس دور کے بڑے بڑے فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسی عظیم شخصیت کی ضرورت تھی اورانہوں نے واقعتہً ان فتنوں کا جوانمردی سے سامنا کیا۔‘‘

امویوں کے شدت پسندانہ رویے اور خوارج کے بھڑکائے ہوئے فتنوں کی وجہ سے معاشرہ سخت بے چینی کا شکار تھا،لہٰذا ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ جیسے ایثار اوراخلاص کے جذبے سے سرشار، دنیا سے بے رغبت اور اسے بے وقعت سمجھنے والے عظیم انسان کی ضرورت تھی۔ شاید اسی لیے تقدیر نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کو اس بے چین دور تک مؤخر کیا، یہی بات عبدالحمید ثانی کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ان کا دور بھی فتنوں اور فساد کا دور تھا اور وہ بالاتفاق بڑے ذہین،ہوشیاراورباتدبیر انسان تھے۔بعض مؤرخین بغیر کسی ظاہری سبب کے اختیارکردہ ان کی بعض تدابیر کو ان کے تخیلات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے انہیں تخیلات کی دنیا میں رہنے والا انسان سمجھتے ہیں۔دوسری طرف بعض غیرمعتدل اوربے ادب لوگ انہیں بزدل شخص تصورکرتے ہیں۔

جب انہوں نے سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی تو سلطنت کا منظرنامہ کچھ یوں تھا: تیونس میں بدامنی پھیلی ہوئی تھی اور وہ ہنڈیا کی طرح کھول رہا تھا۔فرانسیسی اور اطالوی مراکش میں دراندازی کرکے فتنے کی آگ بھڑکا رہے تھے۔مصر کسی بہت بڑی تبدیلی کا عندیہ دے رہا تھا اور عرب بے چین تھے،غرض کسی بھی عالمی جنگ میں شریک ہونے کی صورت میں ترکی کی شکست کے آثار صاف نظر آ رہے تھے۔

جزیرہ کریٹ کے حالات بھی کچھ مختلف نہ تھے۔وہاں متعین حکام کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے اور فوج بے بس تھی،کیونکہ مغرب خوفناک بلا کی مانند وہاں پنجے گاڑھے بیٹھا تھا اور اس کا جزیرے سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔بلقان میں روس واضح طور پر مداخلت کرکے فتنوں کو ہوا دے رہا تھا، جبکہ سلاوی اہل بلغاریہ کے ذریعے بلقانی اقوام کو سلطنت عثمانیہ سے علیحدگی اختیار کرنے پر اکسا رہے تھے۔

اناطولیہ میں ‘‘دونمہ’’{qluetip title=[1]}(1) دونمہ: یہ یہودیوں کا ایک گروہ ہے،جو بظاہر اسلام کا دعویدار ہے،لیکن حقیقت میں اسلام میں داخل نہیں ہوا۔(عربی مترجم){/qluetip}نامی گروہ سرگرم تھا۔اگرچہ انہوں نے اپنے نام محمد اور علی رکھ لیے تھے،لیکن ان کے باطن میں تبدیلی آئی تھی اور نہ ہی ان کا بغض ختم ہواتھا۔یہ بغض اور غصہ ہر طرف فتنے کی آگ بھڑکانے کے لیے کافی تھا۔جس طرح مدینہ منورہ میں یہودی رسول اللہﷺکے اور ابن سبا اور اس کا گروہ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے دور میں اسلام کا شدید دشمن تھا،اسی طرح دونمہ سلطان عبدالحمید کے شدید ترین دشمن تھے۔مدحت پاشا کا تعلق دونمہ سے ہی تھا۔اسے یورپ کی پشت پناہی حاصل تھی اور فتنے کی آگ بھڑکانے میں وہ اپنا کردار ادا کرتا تھا۔آرمینیوں نے ملک کے اندر اور باہر مخالفت کامحاذ کھول رکھا تھا۔سریانی بھی بپھرے ہوئے تھے۔ بعض ایسی اقوام اورعناصر جو صدیوں تک ہمارے ساتھ شانہ بشانہ جنگ میں شریک ہوتی رہی تھیں اب ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے لیے تیاربیٹھی تھیں۔ان تمام مشکلات سے کامیابی کے ساتھ نبٹناکچھ آسان نہ تھا،اسی لیے سلطان عبدالحمید کا تئیس سال تک سلطنت کوقائم رکھنے میں کامیاب ہونا بذاتِ خود بہت بڑاکارنامہ ہے۔اگر وہ اور کوئی اور خدمت نہ بھی سرانجام دیتے تب بھی ان کی صرف یہی کامیابی ان کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے کافی تھی۔ان کے مخالفین سخت دل اور بے رحم تھے،جبکہ ان کے اردگرد کوئی دوست تھا اور نہ کوئی باصلاحیت حکومتی اہلکار۔وہ ظالم نہ تھے،بلکہ جو نظم وضبط ان کی شخصیت کی خصوصیت تھی اسے معاشرے پر نافذ دیکھنا چاہتے تھے۔انہوں نے معاشرے کی ایک ایک زوال پذیر اکائی کو ایسے نظام میں ڈھالنے کی کوشش کی،جس سے وہ مزید زوال اور پستی کا شکار ہونے سے بچ سکے، دوسرے لفظوں میں اگر معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہو سکے تو کم از کم مزید ابتری کا شکار تو نہ ہو۔ایسی صورتحال ان سے سختی سے نظم و ضبط کی پابندی کرانے کی متقاضی تھی،لیکن اس کے باوجود ہمارے بعض پسندیدہ اور قابل احترام ادیبوں اور شعراء نے سلطان عبدالحمید کی شخصیت کا غلط اندازہ لگایا اور اپنے مضامین اور اشعار میں ان پر تنقید کی،تاہم جب انہوں نے ان کے بعد سلطنت کے سقوط کا مشاہدہ کیا تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے اس پر معذرت کی۔ سلطان محمدفاتح کے سوا کسی بھی عثمانی سلطان نے علوم و فنون کی ایسی خدمت نہیں کی جیسی خدمت سلطان عبدالحمید نے کی۔علوم و معارف کی خدمت کے پہلو سے ان کی شخصیت نابغۂ روزگار تھی۔جدید طرز پر مدارس کے قیام کا آغاز پہلی دفعہ انہی کے دور میں ہوا۔ کاباطاش اور کوللی ان مدارس میں سے صرف دو نام ہیں،جو انہوں نے استنبول میں کھولے تھے۔{qluetip title=[1]}(2) سلطان عبدالحمیدثانی نے پہلی مرتبہ درج ذیل ادارے اور کالجز قائم کئے: میڈیکل کالج،انجینئرنگ یونیورسٹی،کامرس کالج،سائنس کالج،کالج آف لٹریچر، لاکالج،کالج آف پولیٹکل سائنسز،کالج آف ایگریکلچر اینڈ ویٹرنٹی،اکیڈمی آف فائن آرٹس،انسٹی ٹیوٹ آف منرلز اینڈ فاریسٹس،ہائر انسٹی ٹیوٹ فار ٹیچرز اور انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز۔(عربی مترجم){/qluetip} سلطان عبدالحمید پہلے سلطان تھے،جنہوں نے سنجیدگی سے عالم اسلام کے ساتھ گفت و شنید کا آغاز کیا۔اس مقصدکے لیے انہوں نے حجاز میں مدینہ منورہ تک ریل کی پٹڑی بچھائی،یہی وجہ ہے کہ سلطان سلیم کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کاسہرا ان کے سر جاتا ہے،کیونکہ سلطان سلیم کی فتوحات کے ثمرات عالم اسلام کے ساتھ عملی گفت و شنید اور قرب کی کوششوں کے بغیر حاصل نہیں کیے جاسکتے تھے،لیکن چونکہ سلطان سلیم کے دور میں اس کے لیے حالات سازگار نہ تھے،اس لیے یہ سعادت سلطان عبدالحمید کے حصے میں آئی اور پٹڑی بچھانے کا خواب سلطان عبدالحمیدکے دور میں پورا ہوا۔

آج باسفورس پربچھائے گئے پل{qluetip title=[1]}(3) یہ پل براعظم ایشیاء اور براعظم یورپ کاسنگھم ہے۔(عربی مترجم) {/qluetip}کی تعریف کے گن گائے جاتے ہیں حتی کہ بعض لوگ اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیتے ہیں،لیکن اس کا ڈیزائن سلطان عبدالحمید کے دور میں تیار ہوا تھا،جو سلطان کی دوراندیشی اور اصابت رائے کی دلیل ہے،تاہم حالات نے انہیں اس پل کی تعمیر کا موقع نہ دیااور اس کے مکمل خاکے الماریوں میں ہی پڑے رہ گئے،جن کے بارے میں بعض محقق مؤرخین نے کچھ ہی دن پہلے اخبارات میں انکشاف کیا ہے،جس کے نتیجے میں سلطان عبدالحمید کی فراست اور بھی مبرہن ہو جاتی ہے۔

سلطان کے آس پاس موجود لوگوں میں سے کوئی بھی ان کے مستقبل کے خیالات کی قدر و قیمت نہ جان سکا،جس کی وجہ سے بہت سی مشکلات اور غلط فہمیوں نے جنم لیا۔ان کے اقدامات آئندہ پچاس سالوں کو سامنے رکھ کر اٹھائے گئے تھے، لیکن ان کے اردگرد موجود حکومتی اہلکار کوتاہ نظر واقع ہوئے اور انہیں صحیح طریقے سے نہ سمجھ سکے۔یہ صورتحال آج بھی جوں کی توں قائم ہے۔بعض حکومتی اہلکار آئندہ دس سالوں کو مدنظر رکھ کر تجاویز اور افکار پیش کرتے ہیں،لیکن ان کی یہ کوششیں ان کے رفقا کے ہاتھوں سبوتاژ ہو جاتی ہیں۔

انہیں‘‘السلطان الاحمر’’ (خونی بادشاہ) کہا جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ فرانسیسیوں کے وضع کردہ اس لقب کو سلطان کے بارے میں مثبت تاثر پیدا کرنا چاہیے تھا،کیونکہ فرانسیسی ترکوں کے بہی خواہ نہ تھے۔غرض فرانسیسیوں کے اس بہتان کو ہمارے ہاں کے بعض ان بدبختوں نے ہماری زبان میں رائج کیا جو اپنے آباء واجداد کو برابھلا کہنے پر فخر محسوس کرتے ہیں،لیکن تاریخ ثابت کر دے گی کہ سلطان عبدالحمید انتہائی ذہین و فطین انسان تھے یا سلطان احمر (خونی بادشاہ)،بلکہ تاریخ نے یہ ثابت کرنا شروع بھی کر دیا ہے،کیونکہ سلطان کا اس لقب سے دور یا قریب کا کوئی تعلق نہیں۔

مدحت پاشا نے اپنے ساتھیوں سے مل کر سلطان عبدالحمید کے چچا سلطان عبدالعزیز کو قتل کیا اور پھر اس جرم کو چھپانے کے لیے یہ دعوی کیا کہ سلطان نے خودکشی کی ہے۔اس جرم کو خودکشی کے طور پر پیش کرنا اتنی کمزور بات ہے کہ اس کے ذریعے کسی بچے کو بھی دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔جب سلطان عبدالعزیز کو قتل کیا گیا تو اس کی دونوں کلائیوں کی شریانوں کو کاٹا گیا اور یہ دعوی کیا گیاکہ انہوں نے اس طریقے سے خودکشی کی،لیکن اگر انہوں نے اپنی ایک کلائی کو کاٹ دیا تو ان کے لیے دوسری کلائی کو کاٹنا کیسے ممکن ہوا؟نیزان کی گردن کی بعض شریانیں بھی کٹی ہوئی تھیں۔اس بات کا خودکشی کے ساتھ کیا تعلق تھا؟مزیدبرآں انہیں خودکشی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے۔

پھر اس بارے میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گی۔اس کمیٹی نے متعلقہ رپورٹوں کا جائزہ لینے کے بعد مدحت پاشا اور اس کے ساتھیوں کو مجرم قرار دیا اور انہیں پھانسی کی سزا سنائی۔سلطان عبدالحمید کو کیونکر سلطان احمر (خونی بادشاہ) کہا جا سکتا ہے،جبکہ انہوں نے اپنے چچا کے قاتل اور اپنے شدید ترین دشمن کے پھانسی کے احکام کو تاحیات قید کی سزا میں تبدیل کرنے کے لیے اپنے اختیارات کو استعمال کیا اور اسے طائف میں نظربند کردیا۔کچھ ہی عرصہ بعد دونمہ سے تعلق رکھنے والے مدحت پاشا کو بچانے اور قید سے فرارکرانے کی کوششوں کے بارے میں بین الاقوامی خفیہ اطلاعات ملنے لگیں، جن کے نتیجے میں سلطان عبدالحمید نے طائف کے گورنر کو سخت ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ اگرمدحت پاشا جیل سے فرار ہوا تو اس خطرناک غفلت کی تمام تر ذمہ داری اس پر عائد ہو گی۔

گورنر کو آئے روز فرار کی ان کوششوں کے بارے میں اطلاعات مل رہی تھیں، جن سے آخر وہ تنگ آگیا،لہٰذا اس بات کا احتمال موجود ہے کہ ممکنہ سزا سے بچنے کے لیے اس نے جیل میں خود ہی مدحت پاشا کا گلا گھونٹوا دیا ہو،لیکن اس واقعے کا سلطان عبدالحمید سے دور یا قریب کا کوئی تعلق نہیں،حالانکہ وہ اس کی پھانسی کے احکامات پر بھی عملدرآمدکروا سکتے تھے،خصوصاًجبکہ مدحت پاشا نے ایک اجنبی ملک میں پناہ لینے کی کوشش بھی کی تھی،جوکہ خیانت کے مترادف ہے۔سلطان عبدالحمید اس قدر رحم دل تھے کہ رحمدلی ان کی نفسیاتی بیماری بن گئی تھی۔وہ کسی بھی انسان کا خون نہیں بہانا چاہتے تھے۔یہی رحمت و شفقت تھی،جس نے انہیں‘‘جیش الحرکت’’{qluetip title=[1]}(4) جیش الحرکت:یہ وہ لشکرتھا،جسے اتحادیوں نے سلانیک (Salonica) سے استنبول اس ’’دستورِدوم‘‘ کی حفاظت کے لیے بھیجا تھا، جسے اتحادیوں نے بزعم خویش سلطنت عثمانیہ میں سلطان کی سازشوں کے خلاف بنایا تھا،کیونکہ انہوں نے سلطان پر الزام لگایا تھا کہ ’’۱۳ اپریل ۱۹۰۹ ‘‘کے دن بعض فوجیوں کی طرف سے برپا کیے گئے فسادات کے پیچھے سلطان کا ہاتھ تھا، حالانکہ سلطان اس الزام سے بری تھے۔ سلطان کے محل کے حفاظتی دستے کے کمانڈر نے سلطان سے جیش الحرکت کی سرکوبی کرنے کی اجازت مانگی،کیونکہ محل کاحفاظتی دستہ اس لشکر سے کہیں زیادہ مضبوط تھا،لیکن چونکہ سلطان کو اپنی ذات کی خاطر خون کا ایک قطرہ بھی بہانا منظور نہ تھا،اس لیے انہوں نے اس کی اجازت نہ دی۔(عربی مترجم) {/qluetip} کا مقابلہ کرنے سے باز رکھا۔

محمودپاشا{qluetip title=[1]}(5) محمود شوکت پاشا: جیش الحرکت کا راہنما جس نے سلطان عبدالحمیدثانی کو معزول کیا۔اس کا آبائی شہر بغداد تھا،بعد میں جب وہ وزیردفاع تھا اسے جمعیت اتحاد و ترقی نے قتل کروا دیا۔ (عربی مترجم) {/qluetip} فہم و فراست سے عاری انسان تھا۔اسے امورسلطنت کے بارے میں ایک کاشکالر سے زیادہ علم نہ تھا۔وہ پارلیمنٹ میں بیٹھے بیٹھے سو جاتا۔پارلیمینٹ کے سربراہ بعض اوقات غیرملکی مہمانوں کے سامنے شرمندگی سے بچنے کے لیے اسے بیدار کرنے کی کوشش کرتے رہتے۔ملکی معاملات اور ملک کو درپیش مشکلات کے بارے میں اس قدر غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے شخص نے اپنے اردگرد ان بدیسی لوگوں{qluetip title=[1]}(6) اس لشکر یعنی جیش الحرکت کا چھوٹا سا حصہ نظامی فوج پرمشتمل تھا،جبکہ اکثریت کا تعلق بلغاروی، یونانی اور سرب اقلیتوں کے رضاکاروں سے تھا۔{/qluetip} کو جمع کر لیا تھا،جنہیں اس نے سلانیک سے استنبول بلایا تھا۔ جب محل کے حفاظتی دستے کے سربراہ یلدذ کو یہ خبر ملی تو وہ فوراً سلطان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس لشکر کو منتشر کرنے کی اجازت مانگی۔سلطان کو اس معاملے کی شروع سے خبر تھی،لیکن انہوں نے اپنے حفاظتی دستے کے کمانڈر کی تجویز کو قبول نہ کیا اور یہ کہہ کر اس کی درخواست کو رد کر دیا کہ میں اپنی قوم کا خون بہانے کی کبھی اجازت نہ دوں گا،جبکہ دوسری طرف جیش الحرکت عسکری نظم و ضبط سے عاری تھا۔اس کی قیادت کا محمود پاشا کے ہاتھ میں ہونا اس بات کی کھلی دلیل تھی۔اس لشکر کے اکثر سپاہیوں کو استنبول آنے کی غرض و غایت ہی معلوم نہ تھی،بلکہ بعض کا تو یہ خیال تھاکہ وہ سلطان کی مدد کے لیے آئے ہیں۔

سلطان صرف اورصرف اپنی رحمت و شفقت کی بھینٹ چڑھے۔اگر وہ جمعیت اتحاد و ترقی (Union and Progress Committee)کی پرتشدد کاروائیوں کے بارے میں اس قدر انسانی اور رحمدلانہ طرزعمل اختیار نہ کرتے تو ان کا ردِعمل یقیناکچھ اور ہوتا۔

مزیدبرآں ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اتحادی اس قدر مصائب و آلام کا باعث بنیں گے، دوسرے لفظوں میں وہ قوم کی قیادت کی دعویدار اس جماعت سے ان کاموں کی توقع نہ رکھتے تھے،جن کا اس سے ظہور ہوا۔وہ انہیں اپنی انسانی سوچ کے آئینے میں دیکھتے تھے۔انہیں امید تھی کہ ان کا بھائی رشاد انہی کے نقش قدم پر چلے گا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ہاں توکل کا پہلو حسنِ تدبیر کے پہلو پر غالب تھا،جس کے نتیجے میں وہ اپنی مروت کی بھینٹ چڑھ گئے۔

سلطان عبدالحمیدثانی کی زندگی کا ایک روحانی پہلو بھی ہے۔جس طرح انہوں نے سیاست کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا، اسی طرح روحانیت کے میدان میں بھی ان کا مقام بہت بلند تھا۔ایسے منصب پر فائز بہت کم لوگ دنیا اور آخرت کے درمیان توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ایسے تھوڑے سے لوگوں میں سلطان عبدالحمید ثانی بھی شامل تھے۔جب ہم حج کے لیے گئے تو وہاں ایک عمررسیدہ شخص ہماری خدمت کیا کرتا تھا۔جب اس نے ہم سے سلطان کا نام سنا تو شدتِ احترام سے کانپ اٹھا۔اس نے ہمیں بتایا کہ سلطان نے کئی حج کیے تھے۔اس نے ہمیں سلطان کی ٹھہرنے کی جگہوں کے نام بھی بتائے،حالانکہ بظاہر سلطان نے ساری عمر ایک بھی حج نہ کیا تھا۔

جیساکہ پہلے بھی ذکر ہوا سب سے پہلے فرانسیسیوں نے ان کے لیے ‘‘السلطان الاحمر ‘‘Le Sultan Ruj( خونی بادشاہ) کا لقب استعمال کیا اور آرمینیوں نے اپنے اخبارات میں اس کی نشرواشاعت کی،لہٰذا اس لقب کو استعمال کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس منہ سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔انہیں اس کا تذکرہ کرنے پر شرم آنی چاہیے۔وہ کورچشم چمگاڈروں کے لیے واقعی سطاکن احمر (خونی بادشاہ) تھے،لیکن ہمارے لیے عظیم بادشاہ تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنی وسیع جنت میں ٹھکانہ عطا فرمائے۔(آمین)

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔