کہاجاتاہے:‘‘وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے نئے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔’’اس کی دلیل کیاہے؟

قرآن کریم ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا۔یہ کتاب ماضی،حال اورمستقبل کی ہرچیز کا علم رکھنے والے خدائے تعالیٰ کے معجزانہ کلام کی حامل ہے۔دورِحاضراورمستقبل میں انسانیت کو پیش آنے والے مسائل اورارتقا کے نتیجے میں ان مسائل کی پیداہونے والی صورتحال کے بارے میں قرآن کریم کاتعلیمات فراہم کرناایک ایساامتیازی وصف ہے،جسے اس کے معجزات میں شمار کیا جاتاہے۔یہ درست ہے کہ قرآن کریم چودہ صدیاں پہلے اترا، لیکن اس کانزول ملائے اعلیٰ سے ہوا ہے، جوایک ایسامقام ہے، جہاں سے ماضی ، حال اورمستقبل کا علم حاصل ہوسکتاہے اوراس کا صدور ایسی ہستی کے علم سے ہوا ہے، جس نے زمین وآسمان کو تھاما ہواہے،جس کے دستِ قدرت میں ساری کائنات ہے، وہ نظام کائنات چلاتی ہے اورہرچیزکی تقدیرلکھتی ہے حتیٰ کہ وہ ہمارے دلوں کی دھڑکنوں سے بھی واقف ہے۔

بلاشبہ مرورِ زمانہ سے قرآن کریم کے علوم میں تروتازگی آتی ہے۔زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کاتجربہ بڑھتاہے اوراس کی پختگی اورتجزیہ وتحلیل کرنے کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتاہے،گو قوتِ یاداشت میں کمی آتی ہے،یہی معاملہ معاشروں کاہے۔جوں جوں وقت گزرتاہے نئے نئے راستے پیداہوتے ہیں اوران میں وسعت آتی ہے،انسان کی جدوجہدمیں اضافہ ہوتاہے اورکائنات کے رازوں کوافشاکرنے کے لیے نئے نئے علوم وجودمیں آتے ہیں۔علم طبیعیات کو دیکھ کریوں لگتاہے، جیسے یہ مسلسل نموپذیرہو اورزمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں وسعت پیداہو رہی ہو۔یہی بات علم کیمیا، فلکیات، کائناتی طبیعیات، طب اوردیگرعلوم پربھی صادق آتی ہے، دوسرے لفظوں میں ہرعلم زمانے کی دوڑ میں شریک ہے اور کائنات کے کسی ایک راز کو اپناموضوعِ تحقیق بناکراس کی حقیقت لوگوں کے سامنے پیش کرتاہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جوں جوں زمانہ قیامت سے قریب ہو رہاہے، دنیا کو کمال اور پختگی حاصل ہورہی ہے، گویا علوم دنیاکے سرمیں پختگی اورکمال کی طرف اشارہ کرنے والے سفیدبال ہیں۔جیسے جیسے دنیاکی انتہا قریب آرہی ہے ، ویسے ویسے اس میں کمال پیداہوتاجارہاہے۔

یہ صورت حال قرآن کریم کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ایک دن آئے گاجب علوم کے حقائق واسرارکے متلاشی بڑے بڑے مغربی مفکرین کوہدایت نصیب ہوجائے گی۔جب وہ قرآن کریم کو کماحقہ سمجھنے لگیں گے تواللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریزہوئے بغیرنہ رہ سکیں گے اور انسانیت پکاراٹھے گی:‘‘اے پروردگار!آپ کتنے عظیم ہیں!’’ یقیناوہ دن آنے والاہے،جب سائنسدان کھربوں نوری سال کی مسافت پرواقع کائنات کے دوردرازمقامات کودیکھ کروہی بات کہیں گے جوپاسکل نے روتے ہوئے کہی تھی‘‘اے پروردگار!آپ کتنے عظیم ہیں!’’

قرآن کریم نے چودہ صدیاں پیشتربہترین معاشرے کے لیے بہترین معاشرتی نظام پیش کیاتھا،لیکن ہم اس معاشرتی نظام کوابھی تک نہیں سمجھ پائے،جس کے نتیجے میں ہم کیپٹلزم، اشتراکیت،فاش ازم اورلبرل ازم ایسے نظاموں کے مقابلے میں قرآن کریم کے معاشرتی نقطہ نظرکی وضاحت نہیں کرسکے۔ہم نے نہ صرف معاشرتی مسائل کے پہلوسے قرآن کریم کوسمجھنے میں کوتاہی کی ہے،بلکہ زندگی کے دیگر مسائل سے متعلق قرآنی تعلیمات کوبھی نہیں سمجھا۔ آج ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم زندگی کے مسائل سے متعلق قرآنی تعلیمات کی وضاحت کرکے انہیں انسانیت کودرپیش مشکلات کے حل کے طورپرپیش کریں۔

جب ہم اذنِ خداوندی سے اوپر ذکرکردہ ذمہ داری اداکریں گے توقرآن کریم کاایک انتہائی گہرے سرچشمے سے نازل ہوناروزِروشن کی طرح واضح ہوجائے گا۔شایداس گہرائی کاصحیح اندازہ لگاناممکن نہ ہو،لیکن ایک دن ساری انسانیت دیکھ لے گی کہ قرآن کریم میں کس قدرعلمی حقائق پوشیدہ ہیں۔ہم سے ابھی تک اپنے معاشی مسائل حل نہیں ہو پائے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی میں جس نظام کوہم نے نافذکیاتھاآج وہ بہت سی مشکلات اورمصائب کاباعث بن چکاہے تو ہم اسے چھوڑکرکسی دوسرے نظام کے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑپڑتے ہیں کہ اس نظام کے بغیرملک کبھی ترقی نہ کرسکے گا، لیکن جب ہم اسے نافذکرتے ہیں توتھوڑے سے مالداروں کے مقابلے میں فقروفاقہ کے مارے ہوئے ستم رسیدہ لوگوں کی فوج ظفر موج وجودمیں آجاتی ہے۔غرض نظام بدلتے رہتے ہیں اورہم ان کے ہاتھوں کھلونابنے رہتے ہیں۔قرآن کریم پرنئے سرے سے غور و فکر کرنے سے ہمیں معلوم ہوگاکہ ہم کیسے اس سے نئی اورعمدہ ہدایات حاصل کرسکتے ہیں،کیسے مرورِزمانہ کے ساتھ علوم کی ترقی و تجدید سے قرآن کریم کے شباب میں تجدیدہوتی ہے اور یوں محسوس ہوتاہے جیسے اس کانزول ابھی ہواہے۔اگرچہ دورِحاضرمیں ابھی تک قرآن کریم کے بارے میں گہرائی کی حامل سنجیدہ تحقیقات نہیں ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض اوقات ہم اپنی نارسا عقل اور اعلیٰ حقائق کے ادراک سے عاجز دل کی مددسے قرآن کریم سے بعض ایسے مفاہیم اخذکرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جن پرخودہماری عقل دنگ رہ جاتی ہے اورہم یہ کہنے پرمجبور ہوجاتے ہیں: ‘‘انسان ایسی بات ہرگزنہیں کہہ سکتا۔‘‘

کتنے ہی سائنسی حقائق کوقرآن کریم نے ایک جملے میں بیان کردیااورکتنے ہی میدانوں میں ہونے والی تحقیقات کے سائنسی نتائج قرآنی آیات کے مفاہیم سے ہم آہنگ ہیں اور ان میں صداقت کامشاہدہ کیاجاسکتاہے۔ہماری یہ بات محض بے بنیاد دعویٰ نہیں ہے،بلکہ سائنسی تجربات سے ثابت شدہ حقیقت ہے۔ ذیل میں ہم دوایک مثالوں سے اس کی وضاحت کریں گے۔ارشادخداوندی ہے: ﴿وَمَن یُرِدْ أَن یُضِلَّہُ یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَاء کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُون﴾ (الأنعام: ۱۲۵) ‘‘اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینا تنگ اور گھٹا ہوا کردیتا ہے، گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے۔‘‘

یہ آیت مبارکہ ایک طبیعاتی قانون کی طرف مشیرہے،کیونکہ اس میں ‘‘السماء’’ اور ‘‘یصّعّد’’ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔‘‘یصّعّد’’ ‘‘صعّد یصّعّد’’سے ماخوذہے، جس کامعنی اوپر کی طرف بلندہوناہے۔ لفظ‘‘یصّعّد’’جہد و مشقت کرنے سے عبارت ہے حتی کہ اس لفظ کو بولتے ہوئے سانس اکھڑتا ہوامحسوس ہوتاہے۔اس آیت مبارکہ میں قرآن کریم درج ذیل حقیقت بیان کررہاہے:’’انسان جس قدرسطح زمین سے بلند ہوتاہے، دباؤکی کمی کی وجہ سے اسی قدر اس کے لیے سانس لینامشکل ہوجاتاہے،کیونکہ ہرسومیٹرکی بلندی پرہواکے دباؤمیں ایک درجے کی کمی واقع ہوجاتی ہے،حتی کہ سطح سمندرسے ۲۰۰۰ میٹرکی بلندی پرانسان مخصوص آلاتِ تنفس استعمال کرنے پرمجبورہوجاتاہے۔

ایک اورمثال لیجیے:﴿وَأَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَ سْقَیْنَا کُمُوہُ وَمَا أَنتُمْ لَہُ بِخَازِنِیْن﴾ (الحجر: ۲۲) ‘‘اور ہم ہوائیں چلاتے ہیں جو پانی سے بھری ہوئی ہوتی ہیں، سو ہم آسمان سے مینہ برساتے ہیں پھر ہم تم کو اس کا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خزانہ نہیں رکھتے۔ ‘‘

اس آیت مبارکہ میں قرآن کریم نے چودہ صدیاں پیشترجس سائنسی حقیقت کا ذکر کیا تھا اسے صرف دورِحاضرمیں ہی سمجھاجاسکاہے۔اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتاہے کہ ہوائیں آبی بخارات کے حامل بادلوں کو چلاتی ہیں، بادل آپس میں ملتے ہیں، جس سے مثبت اورمنفی برقی بار کا آپس میں ٹکراؤ ہوتاہے اوربجلی چمکتی ہے،نیزجس طرح ہوائیں بادلوں سے بارش برساتی ہیں، اسی طرح وہ نباتات میں عمل بارآوری کاباعث بھی بنتی ہیں،یعنی مادہ زردانوں کوبارآورکرنے کے لیے نر زردانوں کواٹھاکرلے جاتی ہیں اور اس طرح نباتات میں عمل بارآوری کوپایۂ تکمیل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

اس آیت مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ بارش کی صورت میں آسمان سے برسنے والاپانی زمین کے اندرمحفوظ ہوجاتاہے اورپھرکنوؤں اورچشموں کے ذریعے اس پانی کو نباتات، حیوانات اورانسانوں کے پینے کے لیے استعمال میں لایاجاتاہے۔اس سے ثابت ہوتاہے کہ قرآن کریم چودہ صدیاں پہلے طبیعی قوانین کی طرف اشارہ کرکے اپنے اعجازپردلائل قائم کرتاہے۔ ایک اورآیت مبارکہ میں ہے:﴿وَمِن کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ﴾ (الذاریات: ۴۹) ‘‘اور ہر چیز کے ہم نے دودو جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔’’ عربی زبان میں عموم کافائدہ دینے والے لفظ‘‘کل’’کی اضافت اگراسم معرفہ کی طرف ہو تو یہ مضاف الیہ کے تمام اجزاء کے عموم کا فائدہ دیتاہے اوراگراس کی اضافت اسم نکرہ کی طرف ہو تو مضاف الیہ کے تمام افراد مراد ہوتے ہیں۔اوپرذکرکردہ آیت مبارکہ میں لفظ‘‘شیٔ ’’اسم نکرہ ہے،لہٰذا اس کامطلب یہ ہوگاکہ تمام مخلوقات کوجوڑوں کی صورت میں پیداکیاگیاہے۔

جس طرح انسانوں کے جوڑے ہیں اسی طرح ساری زندہ مخلوقات کے جوڑے ہیں، چنانچہ نباتات میں بھی نراورمادہ کے جوڑے ہیں۔اوپرقرآن کریم میں مذکورہ لفظ‘‘زوجین’’سے نر اورمادہ مرادہیں حتی کہ ہرچیزکے لئے بنیاد کی حیثیت رکھنے والے ایٹم کے بھی جوڑے ہیں۔اس کے بعض اجزاء مثبت برقی بار اوربعض منفی برقی بار کے حامل ہوتے ہیں، نیزجس طرح قوتِ دافعہ ہوتی ہے، اسی طرح قوتِ جاذبہ بھی ہوتی ہے۔ حاصل یہ کہ جوڑوں کا ظہورمختلف صورتوں اور شکلوں میں ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتاتوکائنات اپناوجودبرقرارنہ رکھ سکتی۔

سورت یٰسین کی درج ذیل آیت میں اس حقیقت کومزیدتفصیل سے بیان کیا گیا ہے: ﴿سُبْحَانَ الَّذِیْ خَلَقَ الْأَزْوَاجَ کُلَّہَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِہِمْ وَمِمَّا لَا یَعْلَمُونَ﴾ (یس: ۳۶) ‘‘وہ ذات پاک ہے ، جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے۔’’یہ آیت ایسی اشیاء کابھی ذکرکرتی ہے، جن کااُس دورکے لوگوں کوعلم نہ تھا،کیونکہ اِس میں کہاگیا ہے کہ ہم نے بعض ایسی چیزوں کو بھی جوڑوں کی صورت میں پیداکیاہے،جنہیں تم نہیں جانتے۔

ایک اورآیت مبارکہ میں ایک دوسرے موضوع پرغورفرمائیے:﴿وَالسَّمَاء بَنَیْنَاہَا بِأَیْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾ (الذاریات: ۴۷) ‘‘اور آسمان کو ہم نے اپنی قدرت سے بنایا اور ہم کو ہر طرح کی قدرت ہے۔‘‘

عربی زبان میں جملہ فعلیہ تجدد اور جملہ اسمیہ استمرار کا فائدہ دیتاہے۔اوپرذکرکردہ آیت مبارکہ میں‘‘وانالموسعون’’ کاجملہ‘‘جملہ اسمیہ’’ہے،جس کازمانہ ماضی ، حال یامستقبل سے کوئی تعلق نہیں،بلکہ یہ استمرارکافائدہ دے رہاہے۔آیت مبارکہ میں یہ نہیں کہاگیاکہ ہم نے ماضی میں (کائنات کو) پھیلایااور پھر اس عمل کوچھوڑدیا یا ہم اسے اب پھیلارہے ہیں یامستقبل میں پھیلائیں گے،بلکہ یوں کہاہے کہ ہم(کائنات کو) بغیر رکے ہروقت پھیلارہے ہیں، چنانچہ ۱۹۲۲ء میں ماہرفلکیات ایڈوِن ہبل نے انکشاف کیاکہ پانچ یاچھ کہکشاؤں کے سوا تمام کہکشائیں زمین سے اپنے فاصلے کے تناسب سے دورہورہی ہیں۔اس کے اندازے کے مطابق اگرکوئی ستارہ زمین سے ایک ملین نوری سال کی مسافت پرہو تو وہ زمین سے ایک لاکھ ستاسٹھ ہزارکلومیٹرفی منٹ کی رفتارسے دورہورہاہوتاہے،دوملین نوری سال کی مسافت پرواقع ستارہ دگنی رفتارسے اور تین ملین نوری سال کی مسافت پرواقع ستارہ تگنی رفتارسے دورہورہا ہوتاہے۔اس حقیقت سے بلجیم کے پادری اورریاضی دان لیمٹری کے اس نظرئیے کی بھی تائید ہوتی ہے کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔

سائنسی حلقوں میں آج بھی وزن رکھنے والے‘‘کائنات کے پھیلاؤ’’کے اس سائنسی نظریئے کاانکشاف قرآن کریم نے چودہ صدیاں پہلے کردیاتھا۔ایک اُمّی شخص کی زبان سے ایسی سائنسی حقیقت کے انکشاف کاتقاضاتویہ تھاکہ سائنسی حلقے اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے، لیکن انہوں نے ایسے نہ کیا،بلکہ آج بھی انکارکاسلسلہ جاری ہے۔

ایک آیت مبارکہ میں ہے: ﴿خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ یُکَوِّرُ اللَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی اللَّیْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَجْرِیْ لِأَجَلٍ مُسَمًّی أَلَا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ ﴾ (الزمر: ۵)‘‘اسی نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیاہے اور وہی رات کو دن پر لپیٹتا اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے۔سب ایک وقت مقرر تک چلتے رہیں گے۔ دیکھو وہی غالب ہے، بخشنے والا ہے۔‘‘ عربی زبان میں‘‘تکویر’’کسی کپڑے مثلاًپگڑی وغیرہ کو کسی دائروی چیزکے گردلپیٹنے یا کسی دائروی چیزکے گردچکرلگانے کوکہتے ہیں۔اس سے ثابت ہوتاہے کہ مذکورہ بالاآیت مبارکہ میں﴿یُکَوِّرُ اللَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی اللَّیْلِ﴾سے واضح طورپرزمین کے کروی ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ سورت النازعات کی آیت ﴿وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِکَ دَحَاہَا﴾(النازعات: ۳۰) ‘‘اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔’’ میں اس حقیقت کوزیادہ واضح الفاظ میں بیان کیاگیاہے،جس کامطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو‘‘دحیۃ’’ (شترمرغ کے انڈے) کی طرح بنایا۔

اس سے ثابت ہوتاہے کہ ہماری زمین کی ساخت دائروی ، مگر قطبین سے کچھ دبی ہوئی ہے، جس سے اس کی شکل شترمرغ کے انڈے جیسی بن گئی ہے۔قرآن کریم نے اس حقیقت کو اس قدر وضاحت سے بیان کیاہے کہ اس میں کسی شک وشبہ یاتاویل کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔اس سلسلے میں اوربھی بہت سی آیات بطورمثال کے پیش کی جاسکتی ہیں،لیکن ہم اسی قدر پراکتفاکرتے ہیں۔

قرآن کریم نے تربیت کے کچھ اصول پیش کیے ہیں،لیکن جب تربیت کے قرآنی اصولوں کو نظراندازکر کے ماہرین نفسیات اورعلمائے عمرانیات کے وضع کردہ تربیتی نظاموں کا تجربہ کیاگیاتواس کانتیجہ نوجوان نسل کے مشکلات میں پھنسنے اورخواہشاتِ نفس کے سیلاب میں بہہ جانے کی صورت میں نکلا۔جب تک انسانیت تربیت کے قرآنی اصولوں سے دور رہے گی اس وقت تک وہ مسلسل مشکلات اوربحرانوں میں گھری رہے گی۔

انہی وجوہ کی بناپرہم کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں اس میں پختگی اورکمال پیداہوگا اورقیامت کاوقت قریب آئے گا توں توں محققین اورمتلاشیانِ حق کوقرآنی حقائق آسمان پرجگمگاتے ستاروں کی مانند دمکتے نظرآئیں گے اورقرآنی تعلیمات کی گہرائی ،سنجیدگی اوردرستگی واضح ہو کر لوگوں کے لیے پہلے سے زیادہ باعث اطمینان بنے گی، دوسرے لفظوں میں جس قدر زمانہ ترقی کرے گا اسی قدرقرآن کے شباب میں جدت پیداہوگی اورانسانی عقل کے سامنے نئے نئے راستے کھلیں گے،جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ ‘‘لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ’’ پکار اٹھیں گے۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔