خدا دکھائی کیوں نہیں دیتا؟

دراصل کسی چیز کو دیکھنے کا تعلق اس کا احاطہ کرنے سے ہوتاہے، مثلاًانسان کے جسم میں بے شمار جراثیم ہیں۔انسان کے صرف ایک دانت کے نیچے لاکھوں بیکٹیریا پائے جاتے ہیں،جو انسان کے دانت میں سوراخ کرکے اسے خراب کرسکتے ہیں، لیکن انسان ان کی آواز اور شور سن سکتا ہے اور نہ ہی ان کا وجود محسوس کرسکتاہے، اسی طرح یہ بیکٹیریابھی انسان کو دیکھنے اور اس کا احاطہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے،کیونکہ بیکٹیریا کے لئے انسان کا احاطہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ا نسان سے باہر کسی مستقل جگہ میں ہوں اوران کی آنکھیں دورتک دیکھ سکتی ہوں۔ اس سے معلوم ہواکہ بیکٹیریاکا انسان کا احاطہ نہ کر سکنا ان کے لیے انسان کو دیکھنے سے مانع ہے۔وہ اپنے سامنے موجود چیزکے سوا کچھ نہیں دیکھ سکتے۔

عالم اصغر سے ایک مثال کے بعد اب ہم عالم اکبر سے مثال پیش کرتے ہیں۔ تصور کریں ہم چالیس کھرب نوری سال کی مسافت پر موجود چیزیں دکھا سکنے والی دوربین کے سامنے بیٹھے ہیں، لیکن اس کے باوجود کون ومکان کے بارے میں ہمارا علم سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے۔بعض اوقات ہم اس دوربین کی حدود میں آنے والی چیزوں سے متعلق بعض غیرواضح نظریات قائم کرنے اور کچھ معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ان مفروضات اور معلومات کو دوسرے مفروضات اور معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں، لیکن ہم کائنات کی ماہیت، نظام، عمومی شکل اور محتویات کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتے،کیونکہ جیسے ہم عالم اصغر کے مکمل احاطے پر قادر نہیں، ایسے ہی ہم عالم اکبر کے احاطۂ کاملہ کی استطاعت نہیں رکھتے۔

اس سے یہ بھی واضح ہواکہ جیسے ہم خوردبین اورایکس ریز رکھنے کے باوجود عالم اصغر کا مکمل احاطہ نہیں کرسکتے، ایسے ہی ہم عالم اکبر کا کامل احاطہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔اب ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوچتے ہیں۔آپﷺکا فرمان مبارک ہے: ‘‘ساتوں آسمان اللہ کی کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں، جیسے ڈھال میں پڑے سات درہم۔’’ حضرت ابوذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ‘‘میں نے رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عرش کے مقابلے میں کرسی کی حیثیت بیاباں میں پڑی لوہے کی انگوٹھی کی سی ہے۔’’{qluetip title=[1]}(1) تفسیر الطبری، ۳؍۷۷۔ اسے یونس ابن وہب سے، وہ ابن زید سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔{/qluetip}

اب آپ اس عظیم شان وشوکت کا تصور کریں اورآپ جو اس کائنات کے مقابلے میں خوردبینی اجزاء کی مانند ہیں، کیسے کون ومکان کے احاطے کا دعوی کرسکتے ہیں؟ جبکہ تمام مقامات اور تمام جہان اللہ تعالیٰ کے اس عرش کے مقابلے میں خوردبینی اشیاء ہیں، جومحض خدائی ارادے اور احکامات کی تنفیذکامحل ہے...کیایہ فضول کام میں مشغول ہونے کے مترادف نہیں؟لہذا اللہ تعالیٰ کا احاطہ کرنے کی سعی و کاوش کی فضولیت کا آپ اندازہ لگالیجئے۔ قرآن کریم میں مذکور ہے:﴿لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَ ھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ﴾(سورۃ الأنعام:۱۰۳) ‘‘وہ ایسا ہے کہ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، جبکہ وہ نگاہوں کا ادراک کر لیتا ہے۔’’دیکھنے کے لیے احاطہ کا پایا جانا ضروری ہے...اللہ تعالیٰ آنکھوں کا ادراک کرتاہے اوراس کا علم ہرچیزپرمحیط ہے...لیکن بصارت اور آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں۔ اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے لئے اس امر کا سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

ایک اور پہلو سے دیکھیں تو نور اللہ تعالیٰ کا حجاب اور پردہ ہے اور ہم تو نورکاہی احاطہ نہیں کرسکتے۔نبی اکرم ﷺکے معراج سے لوٹنے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: ‘‘کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھاہے ؟’’حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق آپﷺ نے جواب دیا: ‘‘اللہ تو نور ہے۔ میں کیسے اسے دیکھ سکتاہوں۔’’{qluetip title=[2]}(2) مسلم،کتاب الایمان،۲۹۱.{/qluetip} اور ایک اور موقع پر آپﷺنے ارشاد فرمایا:‘‘میں نے نور دیکھاتھا۔’’جبکہ نورمخلوق ہے۔ اللہ نے اسے روشنی اور سہارادیا اور اسے شکل وصورت بخشی۔ نور اللہ نہیں،بلکہ اس کی مخلوق ہے۔ اسی امرکی وضاحت اللہ تعالیٰ سے متعلق ایک حدیث مبارک میں یوں آئی ہے:‘‘اس(اللہ کا) پردہ نور ہے۔’’ {qluetip title=[3]}(3) ابن ماجۃ، المقدمۃ،۳ ۱.{/qluetip} یعنی اللہ اور تمہارے درمیان ایک نور ہے اور تمہیں نور کے ذریعے گھیرا گیا ہے... یہاں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا احاطہ اس کی صفات کے ذریعے کیا گیاہے، جو اس کا عین ہیں اور نہ غیر۔

جب ہم الوہیت سے متعلقہ مسائل پر گفتگو کرتے ہیں تو اس کی پیچیدگی اور مشکل ناقابل برداشت حدتک بڑھ جاتی ہے اور بطورنتیجہ ہم یہ کہنے پر مجبورہوجاتے ہیں کہ آنکھیں اللہ تعالیٰ کا ادراک نہیں کرسکتیں اور اس کا پردہ نورہے۔اب ہم اس موضوع پر ایک تیسرے پہلو سے روشنی ڈالتے ہیں۔شاعرصوفی ابراہیم حقی لکھتے ہیں:‘‘... میرے رب کا کوئی ہم رتبہ ہے اور نہ ہی مقابل ... وہ ہر مثیل اورشبیہ سے پاک ہے... وہ صورت سے بھی پاک ہے... وہ بہت مقدس اور بہت بلند ہے...‘‘

پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی مقابل نہیں ہے۔یہ انتہائی اہم بات ہے، کیونکہ کسی بھی چیز کے قابل مشاہدہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا کوئی مقابل ہو۔ہم روشنی کا مشاہدہ اس لیے کرتے ہیں کہ اس کا مقابل اندھیرے کی صورت میں پایا جاتا ہے، ایسے ہی آپ کسی لمبی چیز کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک میٹر ہے اوریہ تین میٹر، کیونکہ ان کی اضداد موجودہیں،جن کی وجہ سے انہیں ترتیب دینا ممکن ہوا۔اللہ تعالیٰ اس نور کی مانند نہیں ہے، جسے ہم اس کے مقابل اندھیرے کی وجہ سے دیکھ سکتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی مقابل ہے اور نہ ہی کوئی ہم رتبہ۔

اس موضوع کو طبیعیات کے پہلو سے دیکھیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان اس وسیع و عریض کائنات کی کتنی فیصداشیاء کو دیکھ سکتاہے؟کیا آپ اپنے مشاہدے میں آنے والی اشیاء کا تناسب بتاسکتے ہیں تاکہ ہم اللہ کی عظمت کا مشاہدہ کرکے اس کے احترام اور عزت کوپہچان سکیں؟ فرض کریں کائنات میں موجود چیزوں کی تعداد کھربوں میں ہے، مگرہماری آنکھ تو دس لاکھ میں سے صرف پانچ چیزوں کا مشاہدہ کرسکتی ہے۔ باقی چیزوں کو ہم دیکھتے ہیں اورنہ جانتے ہیں۔ہم تو روشنی کی صرف خاص قسم کے طول اور ارتعاش والی شعاعوں کو دیکھ پاتے ہیں۔آپ ذرا اُن لوگوں کے اِس سوال کے لغو پن کی انتہا دیکھیں، جو پوچھتے ہیں کہ ہم اللہ کو کیوں نہیں دیکھ پاتے؟ حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کائنات کی دس لاکھ چیزوں میں سے صرف پانچ کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مزید ستم یہ کہ وہ بالکل سطحی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو بھی عام اشیاء پر قیاس کرتے ہیں۔

روزِقیامت اللہ تعالیٰ کو وہی شخص دیکھ سکے گا، جس نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور کیا ہوگا، لہٰذا موسی علیہ السلام اور سرتاجِ انبیاء حضرت محمدﷺاُس دن اللہ کا دیدار فرمائیں گے۔باقی لوگ بھی اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے اللہ کو دیکھیں گے۔یہ غوروفکر کی پرزور دعوت و ترغیب ہے۔جولوگ آخرت میں بلند مراتب پر فائز ہوناچاہتے ہیں، انہیں اپنے دل اور فکر کی تجدید کرنی چاہیے۔زیادہ درست لفظوں میں وہ دنیا میں اس قدر بلند حوصلہ،روح اور فکر والے بن جائیں کہ قیامت کے دن انہیں اللہ کا دیدار نصیب ہو سکے،یعنی دنیا سے کچھ نہ کچھ توشۂ آخرت لے کرجائیں۔ہر کوئی اپنی استعداد اور قابلیت کے مطابق زیادہ سے زیادہ زادِراہ لے کر جائے۔صوفی شاعر ابراہیم حقی ایک ضعیف حدیث جسے موضوع حدیث بھی کہا گیا ہے، کودرج ذیل اشعار کی صورت میں پیش کرتے ہیں:

قال الحق: أناکنز لم یسعنی۔۔۔

لاالأرض ۔۔۔ ولا السماء ۔۔۔

و لکن وسعنی القلب ۔۔۔

’’حق تعالیٰ کاارشادہے:میں ایساخزانہ ہوں، جس کی وسعت کااحاطہ زمین کرسکی اور نہ آسمان، لیکن (مؤمن)کے دل نے مجھے اپنے اندرسمالیاہے۔‘‘

تاہم جس بابرکت ذات کی عظمت کے مقابلے میں ساری کائنات ایک ذرے کے برابر بھی نہیں، اس کا کتنا بڑا انعام و احسان ہے کہ وہ مؤمن کے دل میں ایک خزانے کی مانند جلوہ گر ہو کر اسے اطمینان اور سکون بخشتی ہے۔واللہ اعلم

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔