تمہید

بالعموم جہاد کا معنی ”اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لئے اللہ کی راہ میں جنگ اورجدوجہد “کیا جاتا ہے ۔ یہ جنگ اور کشمکش آدم (علیہ سلام) کے بیٹوں سے شروع ہوئی اور تاقیامت جاری رہے گی ۔ظاہر ہے ہابیل اور قابیل کے درمیان ہونے والی لڑائی اس کشمکش کا نقطہ آغاز ہے۔ لغوی طور پر جہاد بہت وسیع المعنی لفظ ہے۔ اس کے معنی ہر زمان و مکان کے معروضی حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔کبھی تو اس سے مراد انتہائی قیمتی مال خرچ کرنا ہوتا ہے اور کبھی اس سے مراد جان تک قربان کرنا ہوتا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جہاد کو محض دشمن سے جنگ اور لڑائی سمجھنا دراصل اس لفظ کے وسیع ترین معانی کو بالکل محدود کرنے کے مترادف ہے۔

دور حاضر کے مخصوص اور متمیز حالات کی وجہ سے دنیا ایک گاﺅں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اور اس دور میں جہاد کا مفہوم وسیع تر ہو چکا ہے۔ذرائع ابلاغ اور مواصلات کی حیران کن ترقی کی وجہ سے عالمی قوتوں کا توازن بھی بڑی حد تک متاثر ہو چکا ہے۔اس لحاظ سے آج جہاد کے معنی ومفہوم اور اغراض میں تبدیلی نہیں بلکہ محض انداز میں تبدیلی آئے گی۔

محترم بدیع الزمان سعید نورسی نے جہاد کی اصطلاح میں ایک اور اہم پہلو کا اضافہ کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ پڑھے لکھے با شعور لوگوں پر زبردستی غلبہ نہیں پایا جائے گا بلکہ انہیں اپنے موقف پر قائل کرنا ہو گا۔

اب حالات کچھ ایسے ہیں کہ خود ساختہ فلسفوں اور عقل پرستی نے مغرب کے علاوہ عالم اسلام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایسے حالات میں ایسے لوگوں کو جہاد کے ان معانی کہ ذریعہ اسلامی عقیدہ پر قائل نہیں کیا جا سکتا جن میں قتال اور لڑائی مراد لی جاتی ہے۔بلکہ اسلام اور دیگر خود ساختہ نظریات کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے مخالفین کو بات چیت اور مکالمہ کے ذریعے قائل کرنے کا اسلوب اپنایا جائے گا۔

جہاد کسی بھی نوعیت کا ہو مردوں اور عورتوں پر بیک وقت فرض ہے۔ ہر وہ مسلمان مرد اور عورت جو مکلف ہونے کی شرائط پوری کرتا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس پر جہاد فرض ہوتا ہے۔اور اس طرح کی مثالوں سے قرون اولیٰ کی تاریخ بھری پڑی ہے۔اور اگر ہم قریب ترین زمانے سے اس کی مثال لینا چاہیں تو ہمیں اناطولیہ اورچناق قلعہ کے معرکوں کا مطالعہ کرنا ہو گاوہاں مرد اور خواتین دونوں جہاد میں شریک ہوئے۔یہاں تک کہ بوڑ ھے اوربچے بھی ہلکے ہوں یاد بوجھل اللہ کے راستے میں نکل کھڑے ہوئے۔

احادیث نبویہ میں جہاد کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں ۔جہاد اکبر اور جہاد اصغر۔حقیقت یہ ہے کہ یہ قسمیں ایک تصویر کے دو رخ ہیں ۔جہاد اکبر سے مراد انسان کو انسانیت کی حقیقی بلندیوں پر ذہنی اور روحانی طور پر سرفراز کرنا ہے،یعنی انسان ساری زندگی اپنے نفس کے خلاف برسر پیکا ر رہے۔ہر لحاظ سے اپنے آ پ کو درست کرے۔کھانے پینے اٹھنے بیٹھنے سفر حضر ہر حال میں صرف وہی کام کرے جس سے اللہ کی ذات راضی ہو۔

جبکہ جہاد اصغر اس کوشش کوکہتے ہیں جس سے انسان اپنی جان و مال سے اسلامی مقدسات کی حفاظت کے لیے کوشش کرے ،چاہے اس مقصد کے لیے دشمن سے مڈبھیڑ ہواور براہ راست لڑائی کرنی پڑے۔ان مفاہیم کی روشنی میں جہاد اکبر وہ کام ہے جو انسان کو ساری زندگی کرنا پڑتا ہے۔وہ جہاں ہو جس حال میں ہواسے جہاد اکبر کرنا ہے جبکہ جہاد اصغر اسی وقت درپیش ہوتا ہے جب اس کی ضرورت پڑے۔اور اس کا خاص وقت ہوتا ہے۔اس کے بعد ختم بھی ہو سکتا ہے۔دراصل جہاد اصغر کے لیے انتہائی بنیادی شرط ہی ۱یسی ہے جس کا ہوناجہاد اکبر کے لیے بھی ضروری ہے۔انسان اس وقت تک فتح کا مزہ نہیں چکھ سکتا جب تک ان حقائق کو اپنی زندگی کا حصہ نہ بنا لے جن کے ذریعے وہ کسی بھی میدان میں قابل قدر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔اس لیے میدان جہاد میں اترنے والے بہادروں کو چاہیے کہ پہلے اپنے نفس کے خلاف جہاد کریں اور اسے جاری رکھیں تاکہ آ خرت میں سر خرو ہو ں اور ان کے درجات آخرت میں بلند ہوتے رہیں چاہے وہ اس دنیا ہی میں ہوں ۔اس کے بعد ان کے لیے ضروری ہے کہ دلوں میں موجود حق و سچ کی پیاس بجھانے کے لیے ہنگامی کوشش کریں ۔

تاریخ کی کتب کی صفحہ گردانی کر یں تومعلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے دعوت و تبلیغ کا حق ادا کیا وہ اسی راستے کے راہی تھے۔انبیاءسے لیکر اصفیاءواولیاتک بلکہ یوں کہا جائے کہ نبی کریم (صلى الله عليه و سلم) سے لے کر امام ربانی اور شیخ جیلانی اور مولانا خالد اور بدیع الزمان سعید نورسی تک تمام عالی شان حضرات نے یہی اسلو ب اختیار کیا تھا۔اسی لیے تو اللہ تعالی نے ان کے کلام میں قوت و تاثیر پیدا کی۔وہ لوگو ں کے دلوں میں صدیوں سے زندہ ہیں ۔ان کے اچھے اعمال اور پاکیزہ اور خوبصورت اذکار کی وجہ سے اللہ نے مومنوں کے دل ان کے لیے کھول دیے۔گویا ان کی نیکیو ں کا دفتر ہمیشہ کے لیے کھلا ہے۔جہاد کا معاشرے سے بھی گہرا تعلق ہے اور وہ معاشرے کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔یہ جہاد کا انتہائی اہم پہلو ہے۔انسان جس معاشرے میں رہتا ہے اس کی اکا ئی کہلاتا ہے۔اور معاشرہ افراد کے مجموعہ سے بنتا ہے۔ایسا معاشرہ جس کا ہر شخص جہاد بالنفس میں مشغول ہواور اس فریضہ کو ادا کر رہا ہووہ بہترین، مکمل اور کامیاب معاشرہ ہوتا ہے۔ایسے معاشرہ میں زمانے کے حوادث اور مصائب کا مقابلہ کرنے کی پوری طاقت ہوتی ہے کیوں کہ اس معاشرہ کے تمام افراد نے تیاری مکمل کی ہوتی ہے۔مادی اور معنوی لحاظ سے اس نے ٹریننگ اور تربیت حاصل کی ہوتی ہے۔اور جسمانی اور ذہنی طور پرتیار رہتا ہے۔اب ایسے معاشرے کو اہداف کے حصول سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔

کوئی بھی زمانہ ایسا نہیں گزرا جس میں لوگوں کو دعوت و تبلیغ کی ضرورت نہ ہو۔چنانچہ ایسے مسلمان مومن جو ان لوگو ں کے ساتھ رہتے ہیں جو گمراہی کی وادیوں میں بھٹک کر اطمینان کا راستہ تلاش کر رہے ہیں اور نہ نظر آنے والی چیز کے لیے اپنی زند گیاں ضائع کر رہے ہیں ۔ان لوگوں کے سا تھ فریضہ جہاد کی ادائیگی انہیں ہر حال میں کرنا ہے،کیوں کہ یہ ایک ہی کشتی کے سوار ہیں ۔ان مومنوں کا یہ فرض ہے ،اس پہ مستزاد یہ کہ یہ فریضہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر عائد کیا ہے۔پس ہر شخص اپنے دائرے کے اندر امکانی حد تک اس فرض کو ادا کرنے کا پابند ہے۔اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو حشر کے روز اس کو سخت حساب کتاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔بے شمار لوگ ایسے ہیں جو کسی بھی حال میں دنیا کے اندر اسلام کے کردار کو تسلیم نہیں کرتے۔حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ صدر اول سے لے کر اموی، عباسی اور عثمانی ادوار میں مسلمانوں نے دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔پھر بھی یہ لوگ حقائق سے اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں ۔اب ان سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ یہ اپنے تصور و خیال میں کوئی مثبت تبدیلی لائیں گے۔دور حاضر کا جائزہ لیں تو ظاہرہوتا ہے کہ جو لوگ اسلام دشمن ہیں ،مسلسل دشمنی کی روش اپنائے ہوئے ہیں ۔حالانکہ ان دشمنان اسلام کا حال یہ ہے کہ دوہرا معیار اپناتے ہیں ۔اسلام میں ان کو تمام چیزیں غلط نظر آتی ہیں کہیں مثبت چیز نظر نہیں آتی۔آئے روز اہل مغرب اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں ۔ ان گنت غلط الزام لگاتے ہیں ،غلط مضامین شائع کرتے ہیں تاکہ اسلام کے خلاف مواد سارے عالم میں پھیلا سکیں ۔پھر لوگوں سے اس کی تصدیق کرواتے ہیں ۔ان کا دعویٰ ہے کہ اصل مسئلہ اسلام اور عیسائیت کا نزاع ہے۔عرصہ دراز سے ان کا یہی حال ہے۔ان ظالموں کی نظر میں مسلمان وحشی، درندے ،قاتل اورجنگلی ہوتے ہیں ۔افسوسناک بات یہ کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ بھی ان کی افتراءپردازیوں کے قائل ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ بہت کم تعداد میں ہیں ۔

جہاد کے جامع مفاہیم کی وضاحت ہم اپنی کتاب ”نورابدی“ اور” محمد(صلى الله عليه و سلم)فخر انسانیت“ میں کر چکے ہیں ۔ہم نے بڑی تفصیل سے عہد نبوی (صلى الله عليه و سلم)سے مثالیں دے دے کر موضوع کی وضاحت کی اور مغرب کی طرف سے جہاد پر اٹھنے والے اعتراضات کے موثر جواب دیے ہیں ۔اس لیے دوبارہ اس موضوع پر لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہم نے اس کتاب میں وضاحت کر دی ہے کہ اسلام سلامتی ہے جنگ نہیں ہے۔جنگ تو اپنے دفاع،ظلم کے خاتمے اور د عوت و تبلیغ کی آزادی کے لیے کی جاتی ہے۔مزید تفصیل کے لیے اس کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا۔

جہاد محض نظری موضوع نہیں ہے بلکہ یہ آغاز اسلام سے آج تک ہر زمانے میں ایک عملی مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔اہلِ ایمان نے بہترین اندازمیں اس پر عمل پیرا ہو کر دکھایاد ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے بھی فتح و کامیابی حاصل کی چا ہے وہ کامیابی مکمل ہو یا نامکمل، کبھی مغلوب بھی ہوئے لیکن صحابہ کرامؓہر زمانے کے لیے مثال اور اسوہ ہیں ۔وہ اسلام میں اس قدر بلندو بالا مقام پر فائز ہیں کہ ان تک بعد میں آنے والا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔جو لوگ صحابہ کرامؓکو اپنے لیے مثال بناتے ہیں جیسا کہ ارشاد رسول(صلى الله عليه و سلم)بھی ہے کہ جو لوگ اس راستے پر چلے جس پر صحابہ چلتے تھے تو اللہ کے حکم سے روز قیامت بھی ان کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔

زیر نظر کتاب میں ہم اسلام میں جہاد کے مفہوم پربہترین عملی مثالیں ذکر کریں گے۔ جہاں تک جہاد کے حکم کا تعلق ہے تو اسلامی احکامات کی روشنی میں حالات کی مناسبت سے جہاد کا حکم بدلتا رہے گا۔اگر کسی گوشہ زمین پرذکر الٰہی کو بھلا دیا گیا۔اللہ کے اوامر و نواہی کو دیوار پر دے مارا گیااس حالت میں اہل ایمان پرجہاد فرض عین ہو گابلکہ افضل الفرائض ہو گا۔بطور خاص ایسے معاشرے میں جہاں کی جماعتیں اور ادارے اس مفہوم کو بھول چکے ہیں ۔ اگر کچھ جماعتیں اور ادارے یہ فریضہ پورے اہتمام اور نظم ضبط کے ساتھ اد اکر رہے ہوں تو جہادفرض کفایہ ہوگا۔

اب ہم کتاب کی فصلوں کی ورق گردانی کرتے ہیں ۔ اس کا آغاز جہاد کے لفظی معنی، اصطلاحی معنی ، ، تعریف اور مضمون سے ہو گاجو چھوٹے چھوٹے مختصر جملوں پر مشتمل ہو گا۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔