نابغۂ روزگار شخصیات اور صلاحیتوں کا ظہور

نابغۂ روزگار شخصیات اور صلاحیتوں کا ظہور

سوال: آپ کی مؤلفات اور دروس میں ’’نابغۂ روزگار‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ اس اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟ اور وہ کون سے امور ہیں جن کا خیال رکھنے سے ایسے لوگوں کی صلاحیتیں ظاہر ہوجاتی ہیں؟

جواب : ’’نابغۂ روزگار‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اشیاء ، واقعات، کائنات ، انسان ، معاشرے اور اپنے زمانے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان نظری معلومات کو جو ان کی سمجھ میں آتی ہیں ، عملی زندگی میں لانے کے لئے حتی الامکان سعی کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ مسلسل غور و فکر اور تحقیق و تدقیق میں لگے رہتے ہیں۔ چونکہ حقیقت کا عشق، علم کی محبت اور تحقیق کی جستجو ان لوگوں کو آگے بڑھانے کا باعث ہوتی ہے، اس لئے (اللہ کے فضل و کرم سے) وہ ان مشکلات کو حل کرنے میں کامیاب ہوگئے جن کا حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں اور بہت سی کامیابیاں حاصل کرلی ہیں اور اپنے معاشرے کو روشنی کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔

صلاحیتیں آزمائش کا ذریعہ

دوسری جانب جو لوگ اس درجے تک پہنچ جاتے ہیں، وہ سنگین خطرات کا نشانہ بنتے ہیں۔مثلاً ان کے دل میں یہ وہم پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ دوسروں سے ممتاز ہیں۔ چنانچہ وہ (اپنی صلاحیتوں اورقابلیت پر بھروسہ کرتے ہوئے) یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ وہ ان تمام مشکلات کو حل کرسکتے ہیں جو ان کو پیش آ سکتی ہیں اور اپنی ذہانت اور صلاحیتوں سے ان پر غلبہ پاسکتے ہیں۔ اس حالت کی وجہ سے وہ اپنی رائے کو ہی درست سمجھتے ہیں اور دوسری آراء اور تجاویز کے ساتھ سختی ، شدت اور لاپرواہی سے پیش آتے ہیں کیونکہ وہ اپنی افضلیت ثابت کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ بالفاظ دیگر کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ یہ لوگ بعض مسائل کے بارے میں دوسروں کے مقابلے میں اونچے مقام پر فائز ہوتے ہیں، اس لئے اپنے آپ کو دوسروں سے اونچا سمجھتے ہیں اور ان کی رائے کو حقارت سے دیکھتے ہیں بلکہ ان کے اندر بغاوت کی صفت بھی پیدا ہوسکتی ہے اور فوری طورپر اعترض کرنے کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں اگرچہ ان کے سامنے ایسے معقول افکار بھی کیوں نہ پیش کئے جائیں جو گہری سوچ کا نتیجہ ہوں اوریہ بات بھی بھول جاتے ہیں کہ حق غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ اس طرح کی کجروی تربیت میں کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ پرانے زمانے میں اساتذہ، پڑھائی کے ساتھ ساتھ حقیقی مربی بھی ہوتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اٹھنے بیٹھنے، اپنے افکار و عقائد اور عمومی آراء کے لحاظ سے اپنے ارد گرد رہنے والوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہوتے تھے۔ وہ اپنی لسان حال سے تربیت کرتے تھے لیکن یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ اس زمانے کے نظام تعلیم میں ، تعلیم اور تربیت دو مولازی چیزیں ہوگئی ہیں۔ اس وجہ سے اگر تعلیم اعلیٰ درجے کی ہو تو بھی تربیت کی اس کمی کو پورا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تربیت کا مطلب ہے ایک عام انسان کو حقیقی انسانیت تک پہنچانا۔ اس لئے تربیت کرنے والے ما لی لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے مرتبے پر ہوں جہاں سے وہ نہایت ماہر سنگتراشوں کی طرح ایک انسانی محل تعمیرکرسکیں۔ پس اگر نابغۂ روزگار لوگ اچھے استادوں کی شاگردی اختیار نہیں کریں گے اوران کا اثر قبول نہیں کریں گے تو وہ اس سوچ سے نہیں نکل سکتے ہیں کہ ’’میں لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہوں‘‘ اور نہ دوسروں کی رائے سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

انانیت کے نیچے پسنے والے لوگ

میں نے قبل ازیں کئی موقعوں پر ان عظیم لوگوں میں سے ایک عظیم انسان کا تذکرہ کرچکا ہوں جو ہراول دستہ تھے۔ یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے (پوری زندگی)حضرت سعید الزمان نورسی رحمہ اللہ کی خدمت کی، کہ کس طرح ایک مجلس میں اس عظیم انسان کی رائے کی مخالفت کی، تو انہو ں نے اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا: ’’ ہوسکتا ہے بھائی، شاید آپ کی بات درست ہو‘‘ کیونکہ ان کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ مخاطب ایسی روحانی حالت میں نہیں جہاں وہ حقیقت کا اعتراف کرے اور جو میں نے اسے کہا ہے وہ سمجھ سکے لیکن جب معترض نے ایک مدت کے بعد کئی مقامات پراپنی رائے کی غلطی کو دیکھ لیا تو اس عظیم انسان کے پاس آیا اور اس بار یوں گویا ہوا:’’ جناب، میری رائے غلط تھی۔ اس دن آپ کی بات درست تھی‘‘، تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے روئے میں کوئی بھی تبدیلی لائے بغیر فرماتے ہیں: ’’بھائی کوئی بات نہیں۔ بھائی کوئی بات نہیں۔‘‘

اس طرح کا واقعہ میرے ساتھ بھی کئی بار پیش آچکا ہے مگر ہر بار اس سے صرف نظر کرجاتا تھا کیونکہ ایسے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ ان کی عقلیں ہر مسئلے تک پہنچ چکی ہیں۔ اس لئے ہر شے پر اعتراض کرتے ہیں۔ایسی حالت میں آپ کو چاہیے کہ اس مسئلے کو وقت کے حوالے کردیں تاکہ مشکلات میں اضافہ ہو اور نہ لوگ آپ سے دور ہوں۔تاریخ ایسی تلخ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ مثلاً ہٹلر کے پاس کچھ صلاحیتیں تھیں جن کی وجہ سے وہ کسی خاص قالب میں ڈھلنے یا کسی بھی نصیحت کو سننے سے منہ موڑ لیتا تھا کیونکہ بڑائی کا مرض اس پر چھا گیا تھا اورآخر کاراس نے ایک عظیم قوم کو اپنی مہم جوئیوں کی بھینٹ چڑھا دیا اوروہ آج تک اس پر لعنت بھیجتی ہے۔

نابغۂ روزگار شخصیات کی تربیت کے لئے خاص اہتمام کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کو ایسی غلط باغیانہ صفت سے بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ تربیت و تعلیم کے ذریعے اس بات کی ضمانت فراہم کریں کہ وہ معاشرے کا حکم مانیں گے اور ان کے سامنے اتحادواتفاق کی اہمیت مختلف ذرائع اور طرح طرح کے طریقوں سے بیان کی جانی چاہیے اوراس کے لئے مناسب طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مزید فضل و کرم اس بات پر موقوف ہے اور یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ انسان کا اپنی رائے کو (خواہ وہ کتنی ہی گہری اور صائب کیوں نہ ہو) عمومی اتحاد و ا تفاق کو برقرار رکھنے کے لئے چھوڑ دینا بڑی خوبی ہے۔

اس کے باوجود ایسے لوگوں کو ان کی ذاتی غلیطوں کے ہمراہ چھوڑ دینا بھی (بعض اوقات) ان کی تربیت کے لئے مفید ہوتا ہے،بشرطیکہ ان مسائل کا تعلق عمومی حقوق سے نہ ہو۔ سو وہ اپنی اس حالت پر جس قدر ہوسکے بڑھتے رہیں اورٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں تاکہ اس کے بعد اپنے دل کی جانب رجوع کریں اور یہ کہیں : ’’تم درست تھے!‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو اپنی غلطیوں کا اپنے ذاتی اورآزاد ارادے سے ادراک کرنا ، انسان کی تربیت اور پرورش میں نہایت اہم بات ہے۔

کوئی انسان جب کسی ایسے باصلاحیت آدمی کو دیکھتا ہے جو اپنی عمر کو اپنی انانیت کی خاطر اپنے جذبات اور خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہوئے فنا کررہا ہے تو وہ اس کے بارے میں افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ’’کاش!‘‘ ۔۔۔کاش کہ وہ عالی ہمت لوگ جن کی عقلیں مختلف مسائل کا ادراک رکھتی ہیں، جو مسائل حل کرنے پر قدرت رکھتے ہیں، جو آگے بڑھنے والے اور بہادر ہیں(کاش) یہ لوگ اپنی طاقت او ر توانائیوں کو اور اپنی ان صلاحیتوں اور قابلیتوں کو دین مبین اسلام کی شان کوبلند کرنے کے لئے استعمال کریں، اور اپنی ذات کو منوانے اور مختلف لوگوں پر اعتراضات کرنے کی بجائے ان صلاحیتوں کو ہماری بین الاقوامی ثقافت کو بیان کرنے کے لئے کام میں لائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو عظیم لوگ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو ایسے مناسب انداز سے استعمال کرتے ہیں جواعلیٰ اہداف تک پہنچنے میں مدد گار ہوتا ہے، تو ایسے لوگ بہت سے فائدہ مند کام اورسرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں۔

اس بنا پر ان لوگوں کے کاندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو ان لوگوں کے پیچھے ہوتے ہیں اوران کی پرورش کرتے ہیں۔ جی ہاں، جو لوگ ان کو چلانے کے مقام پر ہوتے ہیں، اان کو ایسے لوگوں کو حاصل کرنے اورا ن کے کام کو ان کے معاشرے کے مناسب بنانے کے لئے بڑی اور حقیقی کوشش کرتے ہوئے اس طریقے سے ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ اگر ایسے غیر معمولی افراد دس افراد کا کام کرسکتے ہوں تو ان کی پرورش کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ ان کے لئے (اگر ضرورت ہو تو) دس آدمیوں کے برابر محنت اور وقت مختص کریں۔ نبی کریمﷺ نے بھی (جیسے کہ معلوم ہے) حضرت خالد بن ولید، عمرو بن العاص اور مغیرہ بن شعبہ جیسے اعلیٰ صلاحیتوں اور قابلیت کے مالک لوگوں کو اسلام میں داخل کرنے کے لئے زبردست اورعظیم محنت فرمائی تھی۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے اس طرح کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو صیقل فرمایا۔ ان کا جاہلی معاشرے میں بڑا مرتبہ تھا۔ آ پ علیہ السلام نے ان صفات کو گوندھا اور خاص اہمیت دی اور اس کے بعد معاملہ دین پرچھوڑ دیا۔ چنانچہ اس حضرات صحابہ کرام میں سے ہر ایک اسلام کی عظیم اورجلیل القدر خدمات انجام دینے کا سبب بنا۔

اگر آپ خلافت عثمانیہ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ عثمانی سلاطین جب کسی شخص میں کوئی اعلیٰ صفت اور خوبی دیکھتے تھے تو اس شخص کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ اس زمانے کے سرکاری اہلکاروں نے اپنی فہم و فراست اور شعور سے ان صلاحیتوں کو دریافت کیا اوران کی حوصلہ افزائی کی خواہ ان کا دین اور تہذیب کچھ بھی ہو اور ایسے ذرائع اور طریقے تلاش کئے جن کے واسطے سے ان لوگوں ک حاصل کیا جاسکے ۔ اس کوششوں کے سائے میں ’’زاغنوس‘‘ ، افرنوس‘‘، ’’غازی میخال‘‘ ،’’معمارسنان‘‘ اور ’’ صوقللو‘‘ جیسے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے (اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے) اور سلطنت عثمانیہ کے تابع ہو کر اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت کی۔ چنانچہ ان لوگوں میں سے کوئی سپہ سالار ہوا، کوئی صدر اعظم (ہمارے زمانے کا وزیر اعظم) اور کوئی مہندس اور سب نے امت کے لئے نافع اور مفید خدمات انجام دیں۔

یہ بات ضروری ہے کہ (افراط و تفریط کے بغیر ) ایسے غیر معمولی اورنابغۂ روزگار لوگوں کوحاصل کرنے کے طریقے تلاش کئے جائیں یعنی ان کوخوش کرکے ، ان کی حوصلہ افزائی کرکے ، ان عزت افزائی کرکے اور مناسب انداز سے ان کو بدلہ دے کر کیونکہ اس طرح کا سلوک درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کاموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ کسی بھی کامیابی کو بدلے اور جزاء کے بغیر نہیں چھوڑتا۔ اس بارے میں جو کام کرنا لازمی ہے، وہ یہ ہے کہ ایک طرف نابغۂ روزگار لوگوں کی صلاحیتوں کو دریافت کرنے کے لئےان کا احترام کیا جائے اور ان کوبدلہ دیا جائے اور دوسری طرف ان کی روح میں انسانیت کی نفع رسانی کی سوچ اور جذبات پیدا کئے جائیں۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔