تحریک خدمت کی جانب سے ترکی سرکاری اداروں میں نقب لگانے کے جھوٹے خیالات

تحریک خدمت کی جانب سے ترکی سرکاری اداروں میں نقب لگانے کے جھوٹے خیالات

سوال: کچھ ایسے جھوٹے خیالات پائے جاتے ہیں کہ ’’ترکی سرکاری اداروں میں تحریک خدمت نے نقب لگائی ہے یا وہ اس پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔‘‘ تحریک خدمت کے جو بھی لوگ ہیں یا جو لوگ ان کو قریب سے جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ یہ جھوٹ اور بالکل بے بنیاد الزامات ہیں مگر اس کے باوجود حقیقت میں بعض لوگوں کے اذہان میں ان باتوں کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ ان الزمات کا جواب کس طرح دیا جائے گا؟

جواب:

اول : اگر لوگوں سے یہ پوچھا جائے کہ: ’’کیا آپ کو ایسے مدرس، افسر، ڈاکٹر ، انجینئر ، ججوں ،اٹارنی، وزراء، صدور اور قابل وزراء کی ضرورت ہے جو چوری نہیں کرتے، بدعنوانی نہیں کرتے، شہریوں کا احترام کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دیتے ہیں اور محض اپنی سچائی اور انصاف کی وجہ سے آگے بڑھتے ہیں یا آپ کو ایسے سرکاری ملازمین چاہئیں جو اپنے کاموں میں سستی کرتے ہیں، قانون اور حقوق کا خیال نہیں رکھتے، وہ اپنے مناصب کے اہل نہیں اور شہریوں کا احترام نہیں کرتے؟‘‘ تو غالب گمان یہ ہے کہ سب پہلی قسم کو ترجیح دیں گے۔ اسی طرح ہزاروں مفکر اور سکالر، صحافی اور ماہرین عمرانیات اور مختلف میدانوں میں تربیتی کام کرنے والے لوگ کہہ چکے ہیں کہ تحریک خدمت ایسے ہی لوگ تیار کرتی ہے جن میں پہلے گروہ کے اوصاف پائے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر قوم کے تعاون سے چلنے والے تعلیمی اداروں میں ان اوصاف کی تربیت پانے والے لوگوں کا سرکاری اداروں میں شامل ہو کر اپنی لیاقت اور اہلیت کی بنیاد پر ان اداروں میں آگے آنے کے مستحق ہوگئے ہیں، تو کیا اس بات کو حکومت میں گھسنے یا اس پر قبضہ کرنے اور اس میں نقب لگانے کا نام دیا جائے گا؟ یا اس کو قوم، ملک اور ریاست کی خدمت قرار دیا جائے گا؟!

دوم: علم، اخلاق، روحانیت اور حقیقی دین داری کے ذریعے لوگوں کی خدمت کرنا اور اس بات کی دعوت دینا کسی ایک شخص کے ساتھ خاص نہیں۔ اسی طرح جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، ان کے لیے اس طرح کی ذمہ داری ادا کرنا ان اقدار کی ضرورت اور تقاضا ہے جن پر وہ ایمان رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر تعلیم و تربیت کے میدان کے فدائی جو اپنے ملک اور قوم سے عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں اور معاشرے کے ہر طبقے کو مخاطب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مختلف طبقات کے لوگوں نے ان کی آواز پر لبیک بھی کہی ہے ، تو کیا اس سارے معاملے کو ریاست میں نقب زنی یا اس پر قبضہ کہا جائے گا یا یہ ملک ، قوم اورانسانیت کی خدمت کہلائے گا؟!

سوم: ہمیں یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ آج چوری، رشوت، بدعنوانی اور اقربا پروری جیسے غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام بعض سرکاری اداروں میں اس قدر عام اور معروف ہو گئے ہیں کہ جو سرکاری ملازمین صرف اپنی تنخواہ لے کر اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، قانون کی پابندی کرتے ہیں اور چوری ، رشوت خوری اور بدعنوانی نہیں کرتے، وہ ہر جگہ اچھوت اور ناپسندیدہ ہو کرر ہ گئے ہیں۔ جی ہاں، اعلیٰ اخلاق اور اقدار کے حامل سرکاری ملازمین کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کی قانون کے دائرے میں بحسن و خوبی ادائیگی ان لوگوں کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے جو اپنے اعلیٰ مناصب اور عہدوں کو مال کمانے اور فائدہ اٹھانے کا دروازہ سمجھتے ہیں۔ ٹھیک ہے، ایسے میں سچائی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے والے لوگ اگر ایسی کسی مشکل سے

دو چار ہو جائیں تو ان کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ اس وجہ سے اپنی ذمہ داریاں اور فرائض سچائی اور امانت کے ساتھ ادا نہیں کریں گے کہ قانون اور حقوق کے مخالف لوگ ان کو نقصان پہچائیں گے؟! بالفاظ دیگر کیا اپنی ذمہ داریوں کو اعلیٰ انسانی اخلاق اور قواعد و ضوابط کے مطابق ادا کرنا ریاست میں نقب زنی اور اس پر قبضے کی کوشش ہے؟!

مجرم کی نفسیات اور اس کے نتائج

علاوہ ازیں اس ملک میں رہنے والا ہر شخص (جن میں میں خود اور تحریک خدمت کے رضاکاربھی شامل ہیں) یہاں کا شہری ہے۔ میں اناطولیہ کا ایک باشندہ ہوں میں خون، نسل، سوچ اور فکر کے لیے تعصب کرنے ولاا قوم پرست نہیں ہوں۔ میں اس طرح کے تعصب کا بالکل مخالف ہوں لیکن میں اپنی قوم سے عشق کے درجے کی محبت کرتا ہوں۔ اس لیے اس رخ سے پوچھتا ہوں کہ: کسی بھی شہری کے اپنے ملک کے کسی ادارے میں شامل ہونے اور اپنے دوسر ے ہم وطنوں کی اس میں شمولیت پر حوصلہ افز ائی کو کس حق کے تحت ریاست میں نقب زنی قرار دیا جاسکتا ہے؟ کیونکہ درحقیقت نقب زنی ان لوگوں کاکام ہے جو قانون اور حقوق کی مخالفت کرتے ہیں اور جن ریاستی اداروں میں کام کرتے ہیں، ان کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے لوگ دوسروں کے بارے میں اس طرح کے الزامات اس امید پر لگاتے ہیں کہ وہ چھپے رہیں اوربے نقاب نہ ہوں۔

جی ہاں، اس قوم کے ہر فرد کا حق ہے کہ وہ کسی بھی عمومی سرکاری ادارے میں کام کرے اور اس میں کوئی بھی ذمہ داری سنبھالے بشرطیکہ اس میں اس کام کے لیے ضروری اور لازمی صلاحیت اور تجربہ موجود ہو اور اس کو اپنے مقام پر استعمال کرے لیکن جن لوگوں کے ہاتھ میں اس ملک کے مرتبے کے مطابق نہایت ضروری اور اہم عہدے آگئے ہیں اور وہ میدان پر براجمان ہو گئے اور لوگوں کے جذبات کو دبا کر قوم کو حقائق اور دیکھنے سے روکا، یہ لوگ عظمت کے جنون کے مرض سے متاثر ہوئے ہیں جو ان کو لاحق ہوا ہے۔ چنانچہ وہ تمہارے کاموں اور حرکات و سکنات کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ :’’یہ لوگ ریاست میں نقب لگانے اور اس میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔ اس طرح وہ عظمت کے جنون کی اس نفسیاتی حالت کے اثر کی وجہ سے ’’نقب زنی‘‘ کے اس مسئلے میں اس حد تک پھنس چکے ہیں کہ اگر دروازے کو ہاتھ لگا کر گھنٹی بجائی جائے تو بھی کہتے ہیں کہ: ’’یہ نقب زنی اور زبردستی گھسنے کی کوشش ہے‘‘! اور ان کو اسی بات کا وہم ہوتا ہے اور اسی میں مصروف رہتے ہیں اور ہمیشہ ہوس، وہم اور نقب زنی اور زبردستی گھسنے کے مسئلے میں لگے رہتے ہیں۔

یہ بیک وقت حق اورذمہ داری ہے

کسی بھی قوم کا کوئی بھی فرد اس کی اپنی اور اس کی قوم کی خدمت کے لیے موجود ادار وں میں گھسنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ ان اداروں میں شامل ہونا اس کا بنیادی حق ہے۔ چنانچہ وہ ریاست کے شہری، عدالتی اور خارجہ امور کے اداروں میں شامل ہوتا ہے اور وہ شامل کیوں نہ ہو؟! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ملک کے شہری صرف قرآنی تعلیم کے مکاتب کے ہو کر رہ جائیں؟! کیا ہم پر لازم ہے کہ ہم لوگوں کو صرف قرآنی مراکز سے وابستہ ہونے کی ترغیب دیں؟ اور ان کی صرف امام خطیب سکولوں میں داخل ہونے کی حوصلہ افزائی کریں دوسرے اداروں میں نہیں؟ ہر گز نہیں۔ میں دوبارہ وہی بات کہتا ہوں جو میں پہلے کہہ چکا ہوں۔ میں کل بھی یہی کہوں گا اور جب تک زندہ ہوں یہی کہتا رہوں گا کہ:’’اس ملک کے باشندوں کا یہ حق ہے کہ وہ اس حق کو استعمال کریں اور تمام اداروں میں شامل ہو کر ان میں کام کریں اور اس حق کو روکنا کھلا ظلم اور کھلا جرم ہے۔ اس کے ساتھ ہی فوراً میں یہ بات بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ملک کے باشندوں کے لیے سرکاری ادار وں کے دروازے بندکرنے سے قوم کے ضمیر میں ایک رد عمل پیدا ہو گا جو عنقریب ٹھوکروں سے ناکام و نامراد کردے گا جیسے کہ شاعر کہتا ہے:

اگر ظالم اپنے ظلم کی وجہ سے زبردستی کرتا ہے

تو مظلوم اپنے رب کی مدد سے فتح یاب ہوتا ہے

آج مخلوق پر ظلم کرنا کتنا آسان ہے

کل حق کی عدالت قائم ہو گی اور مظلوم کی مدد کی جائے گی

اس وجہ سے اگر میری آواز پہنچ سکتی تو میں ایک بار پھر چیخ چیخ کر صدا لگاتا اور اپنے ملک کے انتہائی دور دراز علاقوں میں یہ بات پہنچاتا کہ:اپنے بچوں کو امام خطیب سکولوں میں اسی طرح داخل کراؤ جس طرح قرآنی تعلیم کے مراکز میں داخل کراتے ہو اور ان کو سول سکولوں میں تعلیم دو اور قانون اورعسکری کالجوں میں بھی اسی طرح داخل کراؤ جس طرح تم ان کوطب، ہندسہ اور پولیس کے اداروں میں تعلیم دیتے ہوکیونکہ یہ ملک تمہارا ہے۔ اس لیے ان اداروں کو اپنانا اوران کو مضبوط کرنا تمہارا حق اور ذمہ داری ہے جو تمہاری ریاست اور ملک کو برقروار رکھیں گے۔

جواُن کے طریقے پر نہیں وہ ’’دوسرا‘‘ ہے

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے گمان ملک و قوم کے فائدے میں نہیں بلکہ یہ ان بودی دلیلوں میں سے ایک ہے جس کو وہ بعض لوگ استعمال کررہے ہیں جو پیچیدگی اور انارکی کی اس حالت سے مستفید ہو رہے ہیں جن سے ہمارا ملک گزر رہا ہے کیونکہ وہ لوگ اس کے ذریعے اس ملک کو قانون اور جمہوریت کا مالک بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ ان عہدوں کو برقرار رکھیں جن کو وہ ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ موجودہ حالت کو جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ اس وجہ سے وہ ملک کے بارے میں حقائق سے غافل کرنے کے لیے لوگوں کی آنکھ میں دھول جھونکتے ہیں۔ پھر جس طرح یہ لوگ اپنے ان عہدوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جن پر وہ براجمان ہیں، اسی طرح ان عہدوں کو میراث میں اپنے بچوں اور ان کی اولاد تک منتقل کرنا چاہتے ہیں اور ملک کے حقیقی جمہوریت بننے سے واقعی ڈرتے ہیں۔

چنانچہ بعض لوگ اور معاشرے کے بعض ادارے امت کی سربلندی اور ترقی کو اپنے لیے زوال سمجھتے ہیں اور اپنے کام سے محبت کرنے اور اس میں مہارت رکھنے والے ہر شخص کو اپنے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ کبھی ایک فریق اور کبھی دوسرے سے اتحاد کرتے ہیں اور یہ دعوے کرکے ان کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کو خوف ہے کہ وہ اپنے مفادات اور مصلحتوں سے محروم ہو جائیں گے اور ان سے رشوت، چوری اور بد عنوانی کے ان دلدلوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی جن میں اپنے عہدوں کے دوران وہ غرق رہے۔

ان کو ان لوگوں کی وجہ سے بے چینی محسوس ہوتی ہے جو ان جیسے نہیں تاکہ وہ چوپایوں جیسی اپنی آزاد زندگی کو ریاست اور قوم کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے جاری رکھ سکیں بلکہ ان کے خیال میں جو لوگ ان کے رستے پر نہیں، وہ ان کی من چاہی زندگی اور تصرفات کے رستے میں رکاوٹ ہیں۔ اگلی بات یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ اپنے شیطانی جذبات کو فکری لباس پہناتے ہیں اور اس طرح کی افواہیں پھیلا کر اضطراب اور انارکی پیدا کرتے ہیں کہ ’’فلاں جگہ انقلاب آگیا ہے، انہوں نے ہر جگہ کا محاصرہ کر لیا ہے اور ہر جگہ گھس گئے ہیں۔۔۔!‘‘ اور وہ ان الفاظ کا اتنا تکرار کرتے ہیں کہ ان کو عظمت کے جنون کی بیماری لاحق ہو گئی ہے اور نفسیاتی طورپر بیمار ہو کر اپنے علاوہ ہر شخص کو دشمن اور ’’دوسرا ‘‘سمجھتے ہیں۔

دوسری طرف یہ بات نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ اس طرح کے افواہیں نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں کیونکہ بعض لوگ عوام کو مختلف فرقوں اور جماعتوں میں تقسیم کرتے ہیں اور پھر ان کو حکمرانوں کو ڈرانے، بلیک میل کرنے اور خوفزدہ کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں ۔ چنانچہ وہ ہر اس شخص پر تہمتیں لگاتے ہیں جو ملک اور ریاست کے لیے کوئی اچھا کام کر سکتا ہے اور اس کو دباتے ہیں، اس کے رستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور ملک کے باشندوں کے لیے تمام رستے مسدود کرنے کے لیے اس طرح کی جعلی دلیلیں تراشتے ہیں۔

ہر شخص دوسروں کو بھی اپنے جیسا سمجھتا ہے

لوگوں کا ایک اور گروہ ایسا بھی ہے جو قوانین اور جمہوری اقدار کو پاؤں تلے روند کر ملک کی رگ و پے میں سما گیا ہے، اس نے پوری قوم پر قبضہ کرلیا ہے اور اس کام کے لیے وہ اپنے پاس موجود تمام جائز اور ناجائز وسائل کو کام میں لایا اور یہ لوگ خفیہ انداز سے ملک کے وسائل پر چھا گئے جبکہ ایسے لوگ اپنے

ا رد گرد موجود دوسرے لوگوں کو بھی اپنی مخصوص اندورنی دنیا کی نظر سے ہی دیکھتے ہیں اور دوسری جماعتوں ، اتحادوں، سرگرمیوں اور مختلف تجاویز اور ان کے کاموں کا اپنے افعال سے موازنہ کرتے ہیں، اسی انداز سے ان کا تجزیہ کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں یہ خیال اور گمان کرتے ہیں کہ ان کے ہاں جو جو خرابیاں موجود ہیں وہ دوسر وں میں بھی پائی جاتی ہیں اور پھر اسی سوچ کے مطابق لوگوں کے ساتھ اپنے برتاؤ کا تعین کرتے ہیں ۔ چونکہ وہ خود ’’اندر داخل ہو چکے ہیں ، نقب لگا چکے ہیں اور خاموشی سے گھس گئے ہیں‘‘ اس لیے وہ قوم کے ان افراد پر بھی یہی الزامات لگاتے ہیں جو اپنی لیاقت اور اہلیت کی بنیاد پر ادارتی کاموں میں اپنے عہدے سنبھالے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ وہ ان کے جذبات مجروح کرتے ہیں اور ان کے خلاف افترا پردازی کرتے ہیں۔

اس کی مثال بالکل اس چور جیسی ہے جو کسی دوکان کے سامنے گزرتا ہے تو دل میں سوچتا ہے کہ ’’ اس دروازے کو آسانی کے ساتھ کھولا جاسکتا ہے؟ تالا کس طرح توڑا جاسکتا ہے؟ کون سے طریقوں سے اندر داخل ہو کر جلدی سے وہاں موجود سامان اور مال نکالا جاسکتا ہے؟‘‘ مطلب یہ ہے کہ وہ یہاں سے گزرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے چوری کرتا ہے اور بعد میں چوری کرنے کے لیے زمین ہموار کرتا ہے اور اس کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے۔۔۔جبکہ دوکاندار اپنی دوکان بند کرنے کے بعد پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے اور دروازے پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ کیا اس نے کسی بھی ممکنہ چوری کو روکنے کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرلی ہیں، کیا تالا کافی ہے یا نہیں۔۔۔ لیکن جو چور اس صورت حال کو دیکھتا ہے اور اسے معلوم نہیں کہ یہ شخص دوکان کا مالک ہے تو وہ اسے بھی اپنے جیسا ہی خیال کرتا ہے اور دل میں کہتا ہے:’’یہ بھی میری طرح چورہے!‘‘

جیسے کہ اس مثال سے واضح ہے کہ اگر بعض لوگ قوم کے مستقبل پر ’’علی بابا اور چالیس چور ‘‘کی طرح قابض ہوگئے ہیں اور مخصوص اداروں میں گھس کر ان پر قبضہ جما کر ان کو اپنے شرکاء کے ساتھ تقسیم کررہے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ انسانی اقدار کو بلند کرنے کے لیے کوشاں ہیں وہ بھی انہی جیسے ہیں۔ چنانچہ وہ ان کو بھی اس نظر سے دیکھتے ہیں حالانکہ وہ فدائی روحیں انتہائی پاکیزہ افکار کے مطابق کام کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ عہدہ، منصب اور طاقت جیسی دنیوی خواہشات کاخواب بھی نہیں دیکھتیں۔ اگرچہ انسان خواب میں ایسی چیزیں بھی دیکھتا ہے جن سے وہ دور رہتا ہے اور کبھی بھی ان کو پسند نہیں کرتا لیکن یہ روحیں اس طرح کی خواہشات سے بھی اس حد تک دور ہیں کہ اس طرح کے افکار اور خیالات جو بغیر سوچے سمجھے آجاتے ہیں، ان کے لیے ان کے خوابوں میں بھی کوئی جگہ نہیں البتہ ایک گروہ ایسا ہے جس کی زندگی ہمیشہ ان خیالات کے ساتھ گزرتی ہے۔ اس لیے وہ بے گناہ لوگوں کو بھی اپنے نقطہ نظر سے تولتے ہیں اور ان کے افعال اور تصرفات کی تشریح بھی اسی کے مطابق کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مختلف خیالات اور بدنامی کی مہم کے ذریعے ان کا رستہ روکنا چاہتے ہیں۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔