فرد اور معاشرے کی زندگی میں تحمل

سب سے پہلے میں یہ بتانا چاہوں گ کہ تحمل مسلمانوں کی ایجاد نہیں ہے۔ تحمل سب پہلے دنیا میں پیغمبروں نے متعارف کروای جن کا استاد خود ربّ تھا۔ اگر ہم تحمل کو خدا سے منسوب نہ بھی کریں پھر بھی ربّ کی ایسی صفات ہیں جن کی جڑیں تحمل سے ملتی ہیں۔ جیسےمعاف کرنا، گناہوں کو چھوڑ دینا، تمام مخلوقات کیلئے رحیم و کریم ہونا اور دوسرے کے عیبوں اور گناہوں پر پردے ڈالنا، اس غفور رحیم اور ستار العیوب خدا کے وہ نام ہیں جو قرآن میں بکثرت آتے ہیں۔

وہ سنہری دور جب تحمل پورے جوبن پر تھا وہ دور خیرالقرون کہلاتا ہے اور میں اس تاریخی دور سے چند مثالین پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ایسے واقعات جو پھولوں کے دور سے شروع ہو کر آج تک چلے آرہےہیں۔

عفو و درگزر کی مثال :

جیسا کہ" واقعہ افک" سےمعروف ہے کہ منافقین نے حضرت عائشہ جوحضورﷺ کی زوجہ مطہرہ اورمومنین کی روحانی ماں ہیں کے خلاف بہتان طرازی کی۔ حضرت عائشہ کا ازواج مطہرات کے بیچ ایک خاص مقام تھا۔ وہ ایسی خاتون تھیں جنہوں نے بلوغت کے وقت سے ہی حضورﷺ کو دیکھا تھا اور ہر سانس عفت و عصمت کے ماحول میں گزارا تھا۔ اس واقعہ سے حضرت عائشہ، جو عفت کی مثال تھیں، کے خلاف منصوبہ کے تحت بہتان طرازی کی گئی جس سے خود انہیں، ان کے خاندان اور پیغمبرﷺ، سب کو بڑی تکلیف سے گزرنا پڑا۔ تقریباً ایک ماہ بعد اترنے والی آیات نے حضرت عائشہ کی عصمت و عفت اور معصومیت کو واضح کردیا۔لیکن اس واقعہ کے بعدانکے والد حضرت ابوبکر، جو اپنے خاندان کے ایک شخص کو جسے وہ مالی امداد دیا کرتے تھے اور وہ بھی اس بہتان طرازی کے عمل میں شریک تھا، نے حلف اٹھا لیا کہ اب وہ اس شخص کی کوئی مدد نہ کریں گے۔ لیکن جب آیات براءت اتریں تو ان میں حضورﷺ کے ان وفادار ساتھی اورتحمل کے بادشاہ کو تنبیہ کی گئی تھی کہ نرمی[1] کا معاملہ کریں۔آیت اس طرح تھیں۔

" تم میں سے وہ لوگ جنہیں مال و دولت اور کشائش دی گئی ہے اس بات کا حلف نہ اٹھائیں کہ وہ اپنے اقربا کو جو مسکین ہیں اور جنہوں نے خدا کیلئے اپنے گھروں کو چھوڑا ہے، کچھ نہ دیں گے ان کو معاف کر دو اور ان سے درگزر کرو۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ بھی تمہیں معاف کردے اس لئے کہ وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔(النور22:)

میں آپ کی توجہ خاص طور پر اس آیت کے آخری حصے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں " کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ بھی تمہیں معاف کردے اس لئے کہ وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے"۔ اصل وہ رحیم ذات جس کا رحم بے مثال ہے اور پوری دنیا کے رحم کو ملا کر اس کے رحم سے مقابلہ کریں تو سمندر میں قطرے کے برابر ہوتا، مسلسل ہماری ستاری کرتی ہے اور سب کچھ کے باجود بخشتی رہتی ہےاور ہماری ہر چیز کو معاف کرتی رہتی ہے۔ ان برے الفاظ سے بھی جو ہمارے کانوں سے داخل ہو کر ہماری روح کو تاریک کرکے گندا کر دیتے ہیں۔ جو گندگی ہمارے اندر سے ہو کر کائنات میں اور دوبارہ معاشرے میں داخل ہو کر اس کو آلودہ کردیتی ہے۔ اس ذات کا پوچھنا کہ "کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا تمہین بخش دے" جو ہمارے جیسے لوگوں کیلئے ہے جو ہر وقت تزکیہ کے محتاج ہوتے ہے۔ بہت اچھا اور مخلصانہ سوال ہے جو اس قابل ہے کہ اسکی تمنا کی جائے۔ اس آیت کی اندر اللہ ہمیں بتا رہا ہے کہ جیسے وہ ہمیں معاف کرتا ہے ہمیں بھی چاہئے کہ دوسروں کو غلطیوں پر معاف کریں۔ اور اس کو ہمارے لئے ایک قرآنی صفت کے طور پر حضرت ابو بکر کے کردار میں پیش کیا گیا ہے۔

عفو و درگزر اور تحمل کے پیغامات میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے جو کہ اصلاً الہی اور سماوی ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ پیغمبروں کو دوسرے لوگوں کی تعلیم تربیت کیلئے بھیجا جاتا ہے۔ اس حق کی خاطر جسے لیکر وہ دوسروں کے قلوب کو متاثر کرتے ہیں، ان کے اپنے قلوب عفوو درگزر اور تحمل سے دھڑکنے چاہئیں۔ جب خطائیں، جو کہ بشر کی فطرت کا نتیجہ ہیں، ایک حق والے بندے کے پرتحمل ماحول کے ساتھ متصادم ہوتی ہیں تو وہ پگھل کر ٹوٹے ہوئے تار کی طرح بکھر جاتی ہیں۔ کسی کا سر پھوڑنے کے بجائے روشنی کے مینارے، جو شب ہائے جشن کے روشن چراغوں کی طرح ہوتے ہیں، آنکھوں کو تسکین اور دلوں کو شاداں کردیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ ہمارے پیارے آقا کے قول میں الہی صفت ہے۔" خدا کی صفت کو اپنا لو"[2] کیا خدا بھی ان لوگوں کو معاف نہیں کرتا جو اس کا انکار کرتے ہیں۔کائنات کے صحرا میں یہ جرم ناقابل معافی قتل اور بغاوت ہے لیکں خدا کی وسعت مغفرت کو دیکھیں کہ اپنے بندوں کے شکر گزار نہ ہونے کے باوجود وہ کہتا ہے۔

"بے شک میری رحمت میرے غصے پر حاوی ہے"۔ [3] اور

"بےشک میری رحمت ہر چیز سے وسیع ہے"۔(الاعراف:156)

وہ اپنی رحمت کے طفیل، بغیر کسی تفریق تمام انسانوں بلکہ تمام جانداروں کو پالتا اور ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اور ان لوگوں کو بھی روزی دیتا ہے جو اسکا انکار کرتے ہیں۔

یہاں تمام انبیاء کو ایک ہی انداز سے دیکھتے ہوئے ان میں سے ہر ایک کی زندگی سے مثال دی جا سکتی ہے لیکن پھر بھی اتنا کافی ہوگا کہ حضرت محمدﷺ جو وجہ تخلیق کائنات ہیں، کی چند مثالیں پیش کریں۔

حضرت حمزہ ان صحابہ میں سے ہے جنہیں آپﷺ بہت زیادہ چاہتے تھے۔ وہ عام صحابی نہ تھے بلکہ آپﷺ کے چچ اور رضاعی بھائی بھی تھے کہ دونوں نے ایک دائی سے دودھ پیا تھے۔اپنی ذاتی عزت اور تفاخر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ شیر دل، بہادر انسان فخر کائنات کے روحانی ماحول میں داخل ہوئے۔ ایسے وقت میں جب مسلمان تعداد میں کمزور تھے یہ اپنے بھتیجے کی تائید کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے: "میں تمہارے ساتھ ہوں" جس سے ان کی قدر مزید بڑھ گئی۔چنانچہ روحانی اور جسمانی سطح پر اپنی قربت کی صلاحیتیں اجاگر کرتے ہوئے وہ ایسی بلندیوں پر پہنچ گئے تھے جہاں پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے ایسے عظیم ہیرو کی وفاداری کا پیغمبرﷺ نے بھی صلہ دیا۔احد کی لڑائی کے دن وہ لڑتے ہوئے شہید کر دیئے گئے۔ ان کے سفاک قاتلوں نے قسم اٹھا رکھی تھی کہ مدینہ پر چڑھائی کرکے ہر ذی روح کو تہس نہس کردیں گے۔ انہی قاتلوں نے، جنکےہاتھ، آنکھیں، اور خیالات خونی تھے، حمزہ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے، انکی مقدس آنکھیں نکال لیں، انکے کان اور ناک کاٹ دئیے، انکا سینہ چاک کر کے کلیجہ نکال کر چبا لیا۔ حضورﷺ جن کا سینہ رحم اور کرم سے بھرپور تھا، نے جب یہ بھیانک منظر دیکھا تو ان کی آنکھیں بارش کے بادلوں کی طرح بھرا گئی۔ احد کی جنگ میں سترّ شہداء تھے اور اس سے دوگنے زخمی تھے۔ عورتیں بیوہ ہوئیں بچے یتیم ہوئے۔جب آپﷺ کے سامنےحضرت حمزہ اور دوسرے شہداءکے بچے نومولود چوزوں کی طرح کپکپاتے ہوئے حاضر ہوئےتو آپﷺ سے یہ منظر دیکھا نہ گیا اور آپ ﷺ نے انتقام لینے کی سوچی ۔ جیسا کہ کتب سیرت میں لکھا ہے جونہی آپﷺ کو "انکے اس عمل پر انتقام کا خیال آیا، یہ آیات نازل ہوئیں۔

"اور جب تم کسی برائی کا بدلہ دینے لگو تو اسی قدر بدلہ دو جتنا تم سے برا کیاگیا ہو اور اگر تم صبر کروگے تو یہ صبر کرنے والوں کےلئے بہتر ہے"( النحل:126)

ان آیات میں آپﷺ کو بتایا گیا کہ اپنے رتبے کے مطابق سوچیں۔ یا یوں کہیں کہ آپﷺ سے کہا گیا "آپ ایسا نہ سوچیں" آپﷺ جو صبر اور تحمل کے پہاڑ تھے نے سارا غم اپنے سینے میں دفن کردی اورصبر کا راستہ اپنایا۔

درحقیقت حضورﷺ نے صرف یہی واقعہ نہیں بلکہ پوری زندگی صبر اور تحمل سے بسر کی۔ مشرکین نے آپﷺ کو ہر طرح تکالیف اور ایذائیں پہنچائیں ۔ انہوں نے آپؑﷺ گھر سے باہر نکالا۔ انکے خلاف لشکر کشی کی لیکن بھر بھی جب مکہ فتح ہوا اور مشرکین بے تابی سے انتظار کر رہے تھے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے، تو آپﷺ نے اپنی وسعت رحمت و کرم سے انہیں یہ کہا:

"میں آپ سے وہی کہوں گ جو یوسفؑ نے اپنے بھایئوں سے کہا تھا؛ آج (تمہارے پرانے عملوں کی وجہ سے) تم پر کوئی قدغن نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے گا کہ وہ بڑا رحیم اور کریم ہے۔جاؤ! آج تم سب آزاد ہو"۔[4]

قرآن کریم صبر اور تحمل کا منبع ہے اور چونکہ ہمارے تک حامل قرآن کے ذریعے ایک لبریز ندی کی طرح پہنچا ہے اسلئے ہم اس کے برعکس سوچ بھی نہیں سکتے۔ اسکے خلاف کوئی نطریہ رکھنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمیں قرآن اور خدا کے رسول کا پتہ ہی نہیں ہے اس نطریے سے کہ تحمل قرآن اور سنت سے مستنبط ہے یہ ایک مسلمان کی فطری شان ہے۔ اور اس منبع کی وجہ سے جسکے توسط سے یہ حاصل ہوا ہے یہ دائمی ہوتا ہے۔ وہ عہد جو پیغمبرﷺ نے عیسائیوں اور یہودیوں کو پیش کیا بھی توجہ کا محتاج ہے( اس عہد کا اصل متن انگلینڈ میں محفوظ ہے)۔ ان اصولوں کے مقابلے میں جو ہمارے پیغمبرﷺ نے دیے، انسانیت آج بھی اس سطح تک نہیں پہنچ سکی ہے؛ نہ ہی انسانی حقوق کے اعلامیے سے جو ہیگ یا سٹرا برگ میں پیش ہوا نہ وہ جو ہیلسنکی میں پیش ہوا۔ صبر و تحمل کے پیکر، مدینہ میں اہل کتاب کے ساتھ انتہائی قریب رہے۔ دراصل آپﷺ نے یہاں تک بھی کیا کہ ان لوگوں کے ساتھ جن کے دل سیاہ ہو چکے تھے اور ظاہر اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ہر جگہ اور ہر وقت مسلسل مزاحمت پیدا کرتے اور سچے ایمان والوں کے ساتھ موقعہ بموقعہ شیطانی کھیل کھیل جاتے تھے، کے ساتھ بھی رہنا سیکھ لیا تھا۔آپﷺ نے ان کو بھی برداشت کرتے ہوئے اپنے ساتھ لگائے رکھا۔ جب عبداللہ بن ابی جو کہ آپﷺ کا ازلی دشمن تھا، کا انتقال ہوا تو آپﷺ نے اپنا کرتہ مبارک اسکے کفن کےلئے بھجوایا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ "چونکہ اس میں کوئی وحی مانع نہیں ہے، میں اسکا جنازہ بھی پڑھاؤں گا اور انہوں نے مردے کے ساتھ احترام والا معاملہ کیا"۔[5] جو پیغام ٘محمدﷺ نے انسانیت کو دیا اس جیسا یا اس سے ملتا جلتا کوئی پیغام آج تک کسی نے نہیں دیا۔ اسلئے ایسا ممکں نہیں کہ جو ان کے "اسوہ حسنہ" پر چلنے کی کوشش کرے وہ انکی تعلیمات سے روگردانی کرسکے۔

اس لحاظ سے یہ سوچنا ممکن نہیں کہ تحمل کوئی ایسی چیز ہے جو ہم سے جدا ہو۔یہ ہمارے خیالات اور احساسات کا دوسرا رنگ اور زبان ہے۔آج کے بعد کوشش کی جائے کہ اپنے معاشرے میں برداشت کے پلیٹ فارم بنائے جائیں۔ تحمل کا کوئی صلہ نہیں ہونا چاہئے اس کو ہر موقع پر ترجیح ملنی چاہئے اور جو لوگ عفو و در گزر سے کام لیں انہیں اپنے آپ کو بیان کرنے کا موقع دیا جان چاہئے۔

تحمل کے انعامات:

انہی خیالات و نظریات کو مجتمع کرتے ہوئے "جرنلٹس اینڈ رائٹر فاؤنڈیشن" نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے حال ہی ان لوگوں کو جنہیں معاشرتی مفاہمت کے پیدا کرنے میں قابل ذکر خدمات انجام دینے میں پیش پیش پایا گیا، میں تحمل کے انعامات دیے۔ اس عمل کی معاشرے کے تقریبا ہر حلقے نے، سیاستدانوں سے لیکر آرٹ کے افراد تک، تعلیمی لوگوں سے لیکر صحافیوں تک اورقلمکاروں اور عام آدمیوں نے سراہا۔ اگرچہ انتہائی قلیل تعداد میں ایک گروہ نے، جو عام لوگوں کےساتھ گھل مل کر نہیں رہتے، اپنے متضادخیالات کی وجہ سے اس کام پر عدم رضا کا اظہار کیا ہے۔ جب باقی سب لوگوں نے اس کو تسلیم کیا ہے تو ان معدودے چند افراد نے ان اکثریت والے لوگوں یا اداروں پر جنہوں نے اس نطریہ کو قبول کیا ہے، قدغن لگا کر ایک بڑی غلطی کی ہے۔

لیکن جو یہ کہتے ہیں ان کو کہنے دیں۔آج جب دنیا ایک بڑے گاؤں کی طرح بن گئی ہے اور جب ہمارا معاشرہ ایک تبدیلی اور ہیئت بدلنےکے دہانے کھڑا ہے، جب ہم دوسری اقوام سے مکالمہ کی بات کر رہے ہیں، تو پھر آپس کے اختلافات دوسروں کو سمجھانا مشکل ہوگا۔ اس لئے ضروری ہے کہ تحمل پر انعامات دیں تاکہ یہ پورے معاشرے میں سرایت کر جائے ۔ جامعات تحمل کی فضا بنائیں، سیاستدان تحمل کی بات کریں، موسیقی کی دنیا کے لوگ تحمل کے نغمے لکھیں اور ذرائع ابلاغ کو چاہئے تحمل کے متعلق مثبت پیش رفت کو اجاگر کریں۔

تحمل کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں سے متاثر ہوا جائے یا ان کےساتھ شامل ہوا جائے۔ اسکا مطلب یہ ہے کو دوسروں کو جیسے وہ ہیں اسی طرح تسلیم کیا جائے۔ اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ ان کے ساتھ کس طور سے نباہ کیا جائے۔ کسی کو حق نہیں کہ اس قسم کے تحمل کے متعلق کچھ کہے۔ اس ملک میں ہر بندے کا اپنا نظریہ ہے۔مختلف نظریات کے حامل لوگ یا تو ان ذرائع کو ڈھونڈیں گے جنکے ذریعے مفاہمت کےساتھ رہنا پڑے یامسلسل ایک دوسرے سے لڑنا شروع کردیں۔ دنیا میں ہمیشہ ایسے لوگ رہے ہیں جو دوسروں سے بالکل مختلف سوچتے ہیں اور ایسے لوگ مستقبل میں بھی پیدا ہوتے رہیں گے ۔ میری حقیر رائے میں وہ لوگ جو ان چند گروپس کے ترجمان ہیں، جو نہ ان الہی تعلیمات کو مانتے ہیں جو خدا نے بھیجیں، نہ ہی آج کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور جو ہر چھوٹی چھوٹی بات پر لڑنا شروع کر دیتے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ صرف ایک مرتبہ اپنی حالت پر نظر ثانی کر لیں کہ آیا وہ اپنے دعوے انسانی اقدار کو بچانے کیلئے کر رہے یا ان کو تباہ کرنے کیلئے کر رہے ہیں۔

آج سب سے زیادہ ہمارے معاشرے کو تحمل کی ضرورت ہے۔ دراصل ہماری قوم کا آج یہی جذبہ ہونا چاہئے اور اس کو ترجیح دینی چاہئے۔ انکو دنیا کے سامنے تحمل کی نمائندگی کرنی چاہئے اس لئے کہ ہمارے اسلاف نے لوگوں کے دل تحمل کے ذریعے ہی سے جیتے تھے اور امن عامہ کے محافظ تھے۔ بلکان اور مشرق وسطی میں جو سب سے خطرناک علاقے ہیں امن و امان کا سب سے لمبا دورانیہ ہمارے اسلاف کی نہ ختم ہونے والی برداشت ہی کی مرہون منت تھا۔ جونہی اس تحمل اور ان نمائندگان نے تاریخ کو بھلایا اس خطے سے امن و امان اور سکون نکل گیا۔ خدا کا شکر ہے کہ تاریکی کی کئی صدیوں کے بعد اس عظیم قوم نے نشاۃ ثانیہ کی طرف چلنا شروع کردیا ہے۔ چنار کا یہ عظیم درخت جسکے پتے اناطولیا میں خدا کے شکر سے نکلنا شروع ہوگئے ہیں ایک بار پھر سکھ اور تحمل کا سانس لے رہا ہے اور دوسروں کی بھی سکھا رہا ہے کہ سکھ اور تحمل کا سانس کیسے لیا جاتا ہے۔ اسی طرح یورپی ممالک میں ہمارے باشندے اس وقت امن سے رہ سکتے ہیں جب تحمل کی وسیع فضا موجود ہے۔

یہاں ایک نکتہ کی وضاحت ضروری ہے وہ یہ کہ تحمل والا ہونے کا یہ مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم اپنی روایات کو بھول جایئں جو ہمارے مذہب، قوم اور تاریخ نے ہمیں سکھائی ہیں۔ تحمل ایسی چیز ہے جو ہمیشہ سے رہی ہے۔ عثمانی اپنے مذہب اور دوسری اقدار دونوں میں سچے تھے اسی طرح وہ لوگ عظیم قوم تھے۔جو دنیا کے کسی بھی قوم کےساتھ رہ سکتے تھے۔ اگر آج کے لوگ جو مہذب، روشن خیال اور دنیا کے لئے کشادہ تصور ہوتے ہیں تو وہ ان سابقہ ادوار سے پھر بھی پیچھے ہیں۔ اسکا مطلب ہوا کہ انہوں نے اس زمانے کو سمجھا ہی نہیں۔ اس حوالے سے بطور افراد، کنبہ اور معاشرہ ہم نے اس عمل کو جو کہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، تیز تر کرنا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ وہ لوگ جو ہمارےخیالات اور احساسات سے اتفاق نہیں بھی کرتے جب ہم انکے پاس جائیں گے تو وہ نرم ہو جائیں گے۔ اسلئے مکالمہ کی غرض سے ہم مشترکہ جگہ جمع ہو کر سب لوگوں سے ہاتھ ملا سکتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ چیزیں جنہیں خدا سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، وہ انسان محبت اور نرم دلی ہے۔

وہ اہمیت جو رسول خداؑ نے انسانیت کو دی:

" اپنی اس تربیت کی وجہ سے جو انہوں نے خدا سے لی تھی، فخر کائناتﷺ نے سب چیزوں سے زیادہ انسانوں کو اہمیت دی چاہے وہ مسلمان تھے، عیسائی یا یہودی۔ اس موضوع کو سمیٹنے سے قبل مناسب ہوگا کہ ہم دیکھیں کہ آپﷺ کس درجہ کی بصیرت کے مالک تھے۔ وہ فخر کائنات تھے۔ انکی روح وجود کی کتاب کا پہلا ورق تھی اور ان کا پہغام اس کتاب کی انتہا ہے۔ یہ بات ان لوگوں کیلئے از خود واضح ہے جو انکے کام کو سمجھتے ہیں۔ ہم انکو کس طرح کا سمجھتے ہیں کہ انکی روشنی کی وجہ سے ہم کائنات کو ایک کتاب کی طرح دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ انسان، خاص طور پر ان کے متبعین چاہے کتنا بھی ان سے تعلق میں فخر محسوس کریں بھر بھی کم ہے۔ جیسا کی کسی نے جو ان سے محبت کرتا تھا کہا کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہمارا انکے ساتھ تعلق ہے۔ اصل میں پیغمبر خدا نے ان عظیم رحمتوں کے متعلق جو ان کو حاصل تھی خود فرمایا:

"سب سے پہلے اللہ نے جو چیز بنائی وہ میر نور تھا"[6]

یہ بات حقیقت ہے اسلئے کہ وہ موجودات کے بیچ روح اور خلاصہ تھے۔ اگر ہم اس کو صوفیانہ اصطلاح میں دیکھیں تو آپﷺ کا وجود وجہ کائنات اور مقصد حیات تھا۔ موجودات کو ان کی وجہ سے پیدا کیا گیا تا کہ وہ تمام انسانی اقدار کا منبع ہو کر اسمیں آسکے اور ایک ایسا تھیٹر بنے جس میں خدا کی سارے اسماء کا اظہار ہو۔

جیسے کہ دوسری جگہ مختلف سیاق و سباق میں کہا گیا ہے کہ فخر انسانیت، وجہ کائنات اور سید المرسلین ایک مرتبہ ایک یہودی کے جنازے کو دیکھ کر کھڑےہوگئے۔ کسی صحابی نے جو وہاں موجود تھے پوچھا اے اللہ کے رسول یہ تو یہودی ہے۔ اپنے چہرے کو بدلے بغیر آپﷺ نے فرما یا؛ تو کیا ہوا وہ انسان تو ہے"[7]" اے کاش! ان کےمتعبین ان زاویوں پر بھی کان دھریں اور انسانی حقوق کے علم بردار جو انکے لائے ہوئے عالمی پیغام سے ناواقف ہیں انکے کان کھڑے ہوں۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہ سکتا لیکن اگر ہم رسول عربی کے سچے غلام ہیں جنہوں نے یہ الفاظ ادا کئے تو ہمارے لئے اسکے برخلاف سوچنا ممکن نہ ہوگا ۔ اسلئے ان لوگوں کیلئے جو مکاملہ اور تحمل کے نام پر کی گئی کاروائیوں کے خلاف ہیں فائد مند ہپوگا کہ " اپنے حالات جو بے توجہی یا خود رائی جو کہ انکی شخصیات اور نفوس میں سرایت کر گئی ہیں، پر نظر ثانی کریں۔

تحمل اور جمہوریت:

جمہوریت ایسا نظام ہے جو ہر اس شخص کو جو اس کےتحت ہے آزادی سے سوچنے، سمجھنے اور اظہار کرنے کے مواقع دیتا ہے۔ تحمل اسکے اہم اجزاء میں سے ایک ہے۔ اصل میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس جگہ میں جمہوریت کی بات آہی نہیں سکتی جہان تحمل نہ ہو۔ لیکن آئیں دیکھتے ہے کو وہ لوگ ایک طرف جمہوریت کی بات کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسکے پھلنے پھولنے کا جو ذریعہ ہے اس کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک جمہوری ملک میں ہر ایک کو جمہوری حقوق اور ذمہ داریاں حاصل ہونی چاہئے۔ اگر کسی معاشرے میں ایک طبقہ جو دوسرے طبقے کے وجود سے پریشان ہو جاتا ہے۔ تو یہ ظاہر ہے کہ جو طبقہ نا خوش ہو رہا ہے وہ کم از کم اپنے قول میں کہ ہم جمہوری ہیں اور جمہوریت کے معاون ہیں، میں مخلص نہیں۔ جیسے میں نے اوپر کہا کہ جمہوریت وہاں جڑیں پکڑ سکتی ہے جہاں تحمل نہ ہو۔ اصل میں جمہوریت کے علم برداروں کو چاہئے کہ ان لوگوں کو بھی برداشت کریں جو ان کےخیالات سے متفق نہیں ہوتے اور اپنے دلوں کو دوسروں کےلئے کھول دیں ۔

یہاں اس نکتہ پر زور دین بھی مناسب ہوگا کہ سب لوگوں کو 'جیسے اور جو کوئی بھی وہ ہے' قبول کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کو ایک ہی پلڑے میں ڈال دیا جائے۔ ہمارے نزدیک مسلمانوں اور غیرمسلمانوں کا الگ الگ مقام اور قدر ہے۔ فخر کائناتﷺ کا ہمارے نزدیک خاص مقام اور ہمارے دلوں میں انکی خاص منزلت ہے۔ جو باقی سب چیزوں سے الگ اور نمایاں ہے۔ اس نکتے کے متعلق میں آپ کو اپنے احساسات بتاتا ہوں۔ ایک مرتبہ نبیﷺ کے روضہ اطہر سے واپسی پر میں بہت زیادہ رنجیدہ تھا کہ میری روح وہاں پر قبض کیوں نہ ہو سکی۔میں نے سوچا اگر مجھے ان سے واقعی محبت ہے تو مجھے آہنی باڑ کے ساتھ لٹک کر موقع پر جان دے دینی چاہئے۔ اس دن تک میرا یہی خیال تھا کہ میری ان سے محبت بہت زیادہ ہے۔ ظاہر ہے انکا ہمارے دل میں ایک مقام ہے۔اور ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی کسی طرح انکو نقصان پہنچائے۔ لیکن اسکے باوجود کہ میری ان کے بارے میں اس طرح کے پختہ احساسات اور خیالات ہیں، یہ مجھے اس آدمی کے ساتھ بات چیت سے نہیں روک سکتا جو اسی طرح کےخیالات یا ایمان نہ رکھتا ہے۔

تحمل اورمستقبل

ہم اپنےمختلف خیالات و احساسات کے باوجود ایک ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اگرچہ کسی مسئلے پر ہمارے مشترکہ گراؤنڈ نہ بھی ہوں پھر بھی ہم سب اسی دنیا میں رہتے ہیں اور ایک ہی بحری جہاز کے سوار ہیں۔ اس حوالے سے بہت سارے مشترکہ نکات ہیں جن پر معاشرے کے ہر طبقے کےساتھ بیٹھ کر بات ہو سکتی ہے اور ایک دوسرے سےمستفید ہوا جا سکتا ہے۔

ایک ایسا وقت آئے گا کہ سب کچھ واضح ہو جائے گا اور یہ ثابت ہو جائے گا کہ جو لوگ تحمل کی بات کرتے تھے وہ صحیح تھے۔ اسی طرح وقت دشمنی اور انتقام کے جذبات و احساسات کو ختم کر دے گا۔ صرف محبت،عفو و درگزر، تحمل اور مکاملہ پر مبنی احساسات جاری رہیں گے۔ تحمل والے لوگ تحمل پر مبنی معاشرہ تشکیل دیں گے وہ لوگ جنکا مقصد تحمل نہیں ہے وہ اپنی بدنیتی، نفرت اور غصے کے ساتھ عدم تحمل والے کنویں میں ڈوب جائیں گے۔ میری یہ خواہش ہے کہ اس طرح کے لوگ بیدار ہوں اور اس کھائی میں جسمیں وہ گر چکے ہیں ڈوبنے سے بچ جائیں ورنہ ہمیں بھی ان کیلئے رونا پڑے گا۔ میں یہ درد پہلے سے محسوس کر رہا ہوں اور اسکا مجھے افسوس بھی ہے۔


[1] بخاری، شہادت 15:30 مسلم، توبہ، 56

[2] منصور علی نسیف، التاج1:13

[3] بخاری، توحید، 55,28,22,15 بدیع الخلق،1؛ مسلم، توبہ۔14(2751)؛ ترمذی، دعوت 109،(3537)

[4] ابن اثیر ،اسدالغابۃ 528-532::1

[5] بخاری، جنائز، 85، تفسیر البراء، 12: ،مسلم ، فضا ئل الصحابہ:25

[6] ارجونی : کشف الخفاء 1:266

[7] بخاری، جنائز: 50؛ مسلم، جنائز:81 ؛نسائی، جنائز: 46

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔