سچا مسلمان دہشت گرد نہیں ہوسکتا

اسلام کے لفظی معنی ہیں سر تسلیم خم کرنا اسلام امن ‘ اطمینان اور سلامتی کا دین ہے ۔ ایک مسلمان کی زندگی میں یہ اصول اس قدر نمایاں ہیں کہ جب مسلمان نماز پڑھنے کے لئے رکتا ہے تو وہ تمام دنیا سے کٹ جاتا ہے اللہ کے سامنے انتہائی ادب و احترام سے ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہے اسے سجدہ کرتا ہے اور پھر احترام کے ساتھ ہاتھ باندھ کردوبارہ کھڑا ہوجاتا ہے ۔نماز پڑھنے کے بعد وہ گویا ایک نئی زندگی شروع کرتا ہے ۔ نماز پڑھنے کے بعد وہ اپنے دائیں بائیں بیٹھے لوگوں کی مزاج پرسی کرتا ہے اور حال پوچھتا ہے اس کے بعد وہ اوروں سے ملتا ہے ۔

اسلام میں دوسروں کے ساتھ ملنا جلنا اور ایک دوسرے کا حال پوچھنا انتہائی پسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے ۔ بے شک جب نبی پاک محمدﷺ سے پوچھا گیا کہ اسلام میں انتہائی پسندیدہ عمل کو نسا ہے تو آپﷺ نے فرمایا ۔ دوسروں کو کھانا کھلانا اور دوسروں کی خیریت دریافت کرنا خواہ آپ انہیں جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں ۔

دہشت گردی کا الزام

یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ اسلام جو کہ انتہائی بلند تر اخلاقی اصولوں پر قائم مذہب ہے اسے اور دہشت گردی دونوں کو ایک سمجھا جارہا ہے یہ ایک تاریخی غلطی ہے کیونکہ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا کہ ایک ایسا نظام جو امن اور سلامتی پر قائم ہوا اسے دہشت گردی سے جوڑنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسا کرنے والے اسلام کی روح کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور نہ ہی اسے از خود سمجھ سکتے ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اسلام کو اس کے اپنے ذرائع اور اس کے حقیقی پیروکاروں کے ذریعے سمجھے نہ کہ ایک چھوٹی سی اقلیت کی غلط حرکتوں کی بنیاد پر اس کے بارے میں رائے قائم کرے جو کہ اسے غلط طور پر پیش کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں سختی یا ہٹ دھرمی بالکل نہیں ہے ۔ اسلام سراسر عفو ودر گزر اور برداشت کا دین ہے ۔اسلام سراسر برداشت اور ر وا داری کا دین ہے ۔ مولاناءروم ‘یونس ایمرے ‘ احمد یسیوی ‘ بدیع الزماں اور ان جیسی دیگر شخصیات نے جو کہ محبت اور برداشت کے ستون ہیں اسلام کے اس پہلو کو تاریخی حوالوں سے انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا اور محبت اور برداشت کی مثالیں دیں ۔

اسلام میں جہاد کا تصور

جہاد اسلام کا ایک رکن ہے اور یہ ان اصولوں پر قائم ہے جن کا مقصد اللہ کے نام کادفاع یا اس کی سر بلندی کے لئے تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہے اس موضوع کے حوالے سے ہم تاریخ سے کئی مثالیں پیش کر سکتے ہیں ۔ بطور قوم ہم نے کئی محاذوں مثلاً چناکلے اور طرابلس گارپ پر اپنی قوم کا بھر پور دفاع کیا ۔ اگر ہم یہ نہ کرتے تو کیا ہم اپنے دشمنوں سے جو ہماری سر زمین پر قبضہ کرنے کے لئے آئے تھے یہ کہتے آپ ہمیں مہذب بنانے آئے ہیں ۔ آپ بڑے اچھے ہیں ۔ آپ اپنے ساتھ جوسپاہی لائے ہیں ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔ جنگیں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں اور یہ انسانیت کی نا گزیر حقیقت ہے تاہم نبی پاک محمد پر اللہ تعالیٰ کی جو آیات نازل ہوئیں اور جن میں جہاد کی شرائط بیان کی گئیں ان کی دوسروں نے غلط تشریح کی اور اسے اسلام کا بنیادی مقصد ظاہر کیا ۔ المختصر وہ لوگ جو اسلام کی اصل روح کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں اسلام کے موٹے اور باریک نکات میں توازن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور جب اس میں یہ احساس بھی شامل ہوجائے کہ ان سے نفرت کی جاتی ہے تو وہ اسلام کی غلط تشریح کرنے لگتے ہیں ۔

در اصل حقیقی اسلامی کمیونٹی کا سینہ تمام مخلوقات کے لئے محبت سے پر ہے ۔

جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاﺅ ہے

جی ہاں محمد محبت کرنے والے انسان تھے ۔ آپ حبیب اللہ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں ۔ حبیب اللہ لفظ حبیب سے نکلا ہے یعنی وہ بندہ جو اللہ سے محبت کرتا ہوا ور اللہ اس سے محبت کرتا ہے امام ربانی ، مولانا خالد اور شاہ ولی اللہ دہلوی کے مطابق یہ محبت کا اعلیٰ ترین مقام ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو محبت سے تخلیق کیا اور اسلام نے محبت کی اس شراکت کو اپنے اندر سمولیا ایک اور صوفی کے مطابق محبت ہی عالم موجود ات کی تخلیق کی وجہ ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود ہم اس بات کو رد نہیں کر سکتے کہ اسلام میں دشمن کی مزاحمت کرنے کے نام پر تشدد کا عنصر موجود ہے ۔ تاہم بعض لوگ اس عنصر کو سامنے رکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام یہی سکھاتا ہے جبکہ یہ ایک ثانوی عنصر ہے بنیادی طور پر اسلام امن کا دین ہے ۔ ایک مرتبہ میرے ایک دوست نے جو اسی قسم کے خیالات رکھتا تھا مجھ سے کہا ۔

” آپ ہر شخص سے کھل کر بات کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا تمام تر تناﺅ ختم ہوجاتا ہے جب کہ ہمیں یہ بتایاگیا ہے کہ بطور مسلمان ہمیں دوسروں کے ساتھ خدا کے نام پر سختی کے ساتھ بات کرنی چاہئے ،، در اصل اس قسم کی سوچ اس نظریے کے حوالے سے پائی جانے والی غلط سوچ کی بنیاد ہے ۔ اسلام میں اللہ کی بنائی ہوئی ہر مخلوق کے ساتھ محبت کی جاتی ہے ۔ نفرت اگر کی جانی چاہئے تو گندے اور غیر اخلاقی جذبات سے اور مذہبی شعائر کی توہین سے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مہربان مخلوق بنا کر بھیجا ہے ۔ اور بندہ کہہ سکتا ہے کہ ہر کسی میں کسی نہ کسی حد تک یہ خوبی موجود ہے ۔ ایک مرتبہ اللہ کے نبی کا ایک یہودی کی تدفین کے وقت وہاں سے گزر ہوا تو آپ احتراماً کھڑے ہوگئے جب آپ سے کسی نے کہا کہ جس شخص کی تدفین کی جارہی ہے وہ یہودی ہے تو آپ نے فرمایا ” پھر بھی یہ ایک انسان ہے “ آپ نے احترام آدمیت کا مظاہرہ کیا ۔جی ہاں نبی پاک کا احترام آدمیت کا یہی پیمانہ تھا۔ بعض مسلمان یا وہ ادارے جو غلط فہمی کی بنیاد پر یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں مذہب اسلام ملوث ہے ۔ انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کے ذمہ دار وہ لوگ خود ہیں جو اسلام کی غلط تشریح کرتے ہیں اور اس کے ساتھ چند دیگر عوامل اس کے ذمہ دار ہیں ۔ جس طرح اسلام دہشت گردی کا مذہب نہیں ہے اسی طرح کوئی بھی مسلمان جو اسلام کو ٹھیک طرح سے سمجھتا ہے دہشت گرد نہیں ہوسکتا ۔

ان تمام پیش کردہ حقائق کے باوجود استثنات لازمی ہیں ۔ ترکوں کی جانب سے کی جانے والی اسلام کی توجیہ بڑی مثبت ہے ۔ اگر ہم پوری دنیا میں ا سلام کی اس سمجھ بوجھ کو فروغ دیں جو کہ محبت اور روا داری کے مینار مولانا اور یونس ایمرے جیسی شخصیات کے نزدیک ہے تو اور اگر ہم محبت ڈائیلاگ اور برداشت کے اس پیغام کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو اس کے پیاسے ہیں تو پھر پوری دنیا سے لوگ محبت امن اور برداشت کے اس پیغام کی طرف دوڑے چلے آئیں گے اسلام کا برداشت اور روا داری کا پیغام اس قدر وسیع ہے کہ نبی پاک نے با قاعدہ ان باتوں سے منع فرما دیا جس سے لوگوں کا دل دکھتا محمد کی تمام تر کوششوں کے باوجود ابو جہل نے اسلام قبول نہیں کیا اور کفر کی حالت میں مرا ۔ حقیقت میں ابو جہل محمد کا دشمن رہا اور اس کا رویہ مسلمانوں کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے فتح مکہ کے کچھ ہی عرصہ بعد ابو جہل کا مسلمان بیٹا اپنے باپ کے خلاف بولنے لگا تو آپ نے اسے ایسا کرنے سے منع فرمایا ۔

احترام آدمیت

ایک اور حدیث میں آپ نے کسی شخص کی ماں یا باپ کو برا بھلا کہنے کو سخت گناہ کہا ہے آپ سے سوال کہا گیا کہ اپنے سسرال والوں کو برا بھلا کہنا کیسا ہے تو آپ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے باپ یا ماں کو برا کہتا ہے تو پھر جب کوئی اس کے ماں باپ کو برا کہے تو اس کا قصور وار بھی وہی ہوتا ہے ۔

آپ نے دوسروں کا احترام کیا اور آجکل جو لوگ ایک طرف تو اسلام کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کے ساتھ بری طرح پیش آتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے نبی کی بات کو ٹھیک طرح سمجھے ہی نہیں ۔ اسلام میں اور آج کی کثیر النسلی دنیا میں نفرت اور غصے کی گنجائش باقی نہیں ہے ۔

اللہ کے بندے

جب ہم قرآن پڑھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ شروع سے لے کر آخر تک عفو ودر گزر اور برداشت سے بھرا پڑا ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے ۔

” جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوشحال ‘ جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں“ (3:133)

آیئے اس کی مزید وضاحت کریں ۔ آپ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جس سے آپکا خون کھول اٹھتا ہے مثلاً کسی نے آپکو برا بھلا کہا ہے اور آپ کی بے عزتی کی ہے ۔ جس قدر ممکن ہو آپ ضبط کریں اور اس کے جواب میں کچھ نہیں کہیں قرآن پاک اچھے اخلاق اور اوصاف کے مالک لوگوں کے رویئے کے بارے میں کہتا ہے کہ کس طرح وہ غصے کے وقت اپنے پر قابو رکھتے ہیں ایسے اعلیٰ ظرف دنیا میں موجود ہیں کہ جب ان کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو انہیں غصے سے پاگل کردے تو وہ اپنا غصہ پی جاتے ہیں جیسے کانٹے نگل لئے جائیں اور دوسروں کی خطاﺅں سے صرف نظر کرتے ہیں ۔ اہل عرب غصہ پینے کے لئے جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ ” کزم “ یعنی وہ چیز نگلنا جو نگلی نہ جا سکے اور ایسا کرنے والے کو ’کازم ‘کہتے ہیں ایک اور آیت مبارکہ میں اللہ اپنے بندوں سے کہتے ہیں ۔

” اور رحمن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں“ (25:71)

ایک اسلامی انداز

جب ہم نبی پاک محمد کی سیرت مبارکہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے ہر اس بات پر عمل کیا جس کی تبلیغ قرآن پاک میں کی گئی ہے ۔ مثال کے طور پر ایک مرتبہ آپ کے پاس ایک شخص نے آکر اعتراف کیا کہ وہ زنا کا مرتکب ہوا ہے اور اسے اس کے گناہ سے پاک کرنے کے لئے جو بھی سزا ہوسکتی ہے دے دی جائے تو آپ نے فرمایا گھر جاﺅ اور توبہ کرو ۔ کوئی گناہ ایسا نہیں جو اللہ معاف نہ کردے ۔ ایک اور حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ کے پاس آکر ایک دوسرے شخص پر چوری کا الزم لگایا ۔ عین اس وقت جب ملزم کو سزا سنائی جانے والی تھی مذکورہ شخص نے چور کو معاف کردیا جس پر آپ نے فرمایا “ تم نے اسے پہلے ہی معاف کیوں نہ کردیا “

لہٰذا جب ان تمام باتوں پر ان کے اپنے ذرائع سے نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو دوسروں سے نفرت کرتے ہیں ان کی نفرت کو تیز کرنے والی چیز غصہ ہوتی ہے اور لوگوں کا دوسروں کو کافر قرار دینا اسلام سے مطابقت نہیں رکھتا ۔

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اسلام محبت اور برداشت کا دین ہے ۔ مسلمان پیار اور محبت کے امین ہیں جو دہشت گردی کے ہر عمل سے دور رہتے ہیں اور جنہوں نے خود کو نفرت اور دشمنی کے ہر انداز سے پاک کررکھا ہے ۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔