یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہیں اور ہر جگہ موجود بھی ہیں؟

اللہ تعالیٰ ایک اور یکتا ہیں،لیکن اپنے علم اور قدرت کی بدولت ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہیں،لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دوسرے اجسام کی طرح وہ بھی کسی خاص مکان کو گھیرے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو ایک اور یکتا کہہ کر ہم ان کی جلالتِ شان اور عظمت کا اظہار کرتے ہیں اور جب ہم کہتے ہیں کہ وہ ہر جگہ موجود ہیں تو ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی رحمت و رحیمیت اور علم و قدرت کے ساتھ ہر جگہ موجودہیں۔اللہ کے لیے مثلِ اعلیٰ ہے، لیکن بلاتشبیہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ سورج کی ان شعاعوں کی مانند ہیں،جو اگرچہ ہمارے سروں کو چھو رہی ہوتی ہیں،لیکن وہ ہماری پہنچ سے بہت دور ہوتی ہیں،دوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ اپنی صفات کے ذریعے ہمارا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور ہم سے ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں، لیکن ہم اس کی عظمت کو نہیں پا سکتے۔ارشادِخداوندی ہے: ﴿وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ﴾ (ق:۱۶)‘‘اور ہم تو رگِ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔‘‘

اس سے ثابت ہوتاہے کہ ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب خداتعالیٰ ہر جگہ حاکم و نگران ہیں، لیکن وہ کیف و کم سے پاک ہیں۔وہ ﴿ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہِ ﴾(الأنفال:۲۴)‘‘آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔’’ لہٰذا وہ مجھ سے میرے دل سے زیادہ قریب ہیں۔اگر میں کہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے دل میں ہیں تو یہ درست ہو گا،کیونکہ وہ میرے بارے میں خود مجھ سے زیادہ جانتے ہیں،نیز ﴿ وَمَا رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَلَکِنَّ اللّہَ رَمَی﴾(الأنفال:۱۷) ‘‘اور اے نبی جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔’’سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر اور دیگر مواقع پر رسول اللہﷺکے نام پر خود رمی کی تھی،لہٰذا بشمول رمی کے اللہ تعالیٰ ہر چیز پر اثرانداز ہیں۔ مذکورہ بالاآیت جیسی آیات کی رُو سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت،علم، رحمانیت، رحیمیت، جمال، جلال،علم،ارادہ اور دیگر تمام صفات کے ذریعے نہ صرف ہرجگہ موجود ہیں،بلکہ حاکم و نگران ہیں۔

لیکن اس کے باوجود متعدد آیات اور کائناتی حقائق کی رو سے اللہ تعالیٰ ایک اور یکتا ہیں۔اگر نعوذباللہ دو معبود ہوتے تو زمین و آسمان میں فساد برپا ہو جاتا۔قرآنِ کریم میں ہے: ﴿لَوْ کَانَ فِیْہِمَا آلِہَۃٌ إِلَّا اللَّہُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللّہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُونَ﴾(الأنبیاء:۲۲) ‘‘اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین اور آسمان درہم برہم ہو جاتے۔جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں تو اللہ جو مالک عرش ہے ان باتوں سے پاک ہے۔’’یعنی ستارے آپس میں ٹکرا کر پھٹ جاتے، ایٹموں کا ایک دوسرے سے تصادم ہو جاتا اور زمین پر پڑنے والی سورج کی شعاعوں سے یورینیم کی شعاعوں کے تعاملات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا،جس کے نتیجے میں روئے زمین پر کوئی ذی روح چیز زندہ نہ رہتی۔

قدیم علمائے کلام اس دلیل کے لیے‘‘برہان التمانع’’ کا نام استعمال کرتے ہیں۔اس دلیل کی رُوسے اللہ تعالیٰ ایک ہیں اور دو معبودوں کا وجود ناممکن ہے،کیونکہ کسی معمولی سی چیز مثلاًکشتی وغیرہ کے چلانے میں بھی اگر دو ہاتھ کارفرما ہوں تو اس کا انجام اضطراب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔اگرکسی گاڑی میں دو اسٹیرنگ لگا کر اسے دو ڈرائیوروں کے حوالے کر دیا جائے تو بہترین شاہراہ پر بھی اس کا نتیجہ حادثے کی صورت میں ہی نکلے گا، لہٰذاکائنات کا نظام بھی دومستقل اور آزاد ارادوں کے ماتحت ہوتا تو اس کا انجام بھی تباہ کن ہوتا۔

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اس عظیم الشان اورانتہائی منظم کائنات میں عالم کبیریعنی کائنات سے لے کر عالم متوسط یعنی انسان اور عالم صغیر یعنی ایٹم تک ہر چیز میں کوئی مخفی تقدیر کارفرما ہے۔ان تمام عالموں میں موجود نظم و ضبط اور ہم آہنگی کسی مبنی بر علم منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں پھر اسے منصوبے کے دائرے سے وجود کے مرحلے میں لانے کے لیے قدرت اور ارادے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بعد یہ نظام مسلسل نگرانی اور دیکھ بھال کا محتاج ہوتاہے،لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ سب کچھ صرف ایک ذات کے زیرانتظام وقوع پذیر ہو حتی کہ انسان بھی اپنے ذاتی معاملات میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتا۔اس انسانی رویے کو قانونِ دفعِ مداخلت سے موسوم کیا جاتا ہے،لہٰذا اس عظیم کائنات کے پیچیدہ اورباہم مربوط معاملات کے نظام سے متعلق خدائی معاملات میں کوئی اورشخص کیسے مداخلت کرسکتاہے؟

اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اگراس کتابِ فطرت یا کارخانۂ قدرت میں دو ہاتھ کارفرما ہوتے توساری کائنات کانظام درہم برہم ہوجاتا،لیکن چونکہ اس کانظام درہم برہم نہیں ہوا،بلکہ وہ انتہائی منظم ہے،اس لیے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کاخالق ومالک ایک اور یکتا ذات ہے۔اب ہم اس موضوع کو وجدانی پہلوسے دیکھتے ہیں۔

ہمارے گردوپیش میں داخلی اور واقعی سطح پر رونما ہونے والے واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہماراسہارا اور ٹھکانہ ہیں،کیونکہ میں اپنے آپ کو عاجز و درماندہ سمجھ کر اپنے ہاتھوں کو گڑگڑاتے ہوئے ایسے بلند کرتا ہوں،جیسے میں کسی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں کسی ٹوٹی ہوئی لکڑی پر بیٹھا پکار رہا ہوں:‘‘اے میرے پروردگار!’’اس دوران میں اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ محسوس کرتاہوں کہ کوئی ذات میری پکار سن رہی ہے،لیکن میری پکار سننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذات ہر جگہ حاضر و ناظراورسارے جہانوں کی پالن ہار ہو، کیونکہ جس وقت وہ میری آہ و بکا کو سن رہی ہوتی ہے، عین اسی وقت وہ ایک چیونٹی کی التجا بھی سن رہی ہوتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ چیونٹی سے اس کی ذات کی بہ نسبت زیادہ قریب ہیں۔دنیابھر میں مقبولِ عام دعاؤں سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ ارشادِنبوی ہے:‘‘ایک دفعہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ صلاۃ الاستسقاء کے لیے نکلے، اسی دوران میں انہوں نے ایک چیونٹی کو دیکھاکہ وہ ایک ٹانگ اٹھائے بارش کی دعاکی رہی ہے۔یہ دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ‘‘لوٹ جاؤ۔تم پربارش ہونے ہی والی ہے۔اس چیونٹی نے بارش کی دعامانگی ہے جسے شرف قبولیت حاصل ہو چکا ہے۔’’ دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر اس کے حضور اپنی ضروریات پیش کرتی ہے اور اس سے گڑگڑاکے دعا مانگتی ہے۔اللہ تعالیٰ دعاؤں کو قبول فرماتے ہیں اور درج ذیل آیت مبارکہ میں اس حقیقت کا اظہار فرماتے ہیں: ﴿أَمَّن یُجِیْبُ الْمُضْطَرَّ﴾(النمل:۶۲)‘‘بھلا کون بے قرار کی التجا قبول کرتا ہے۔’’ نیزہمارے ضمیر بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہیں،ہر آواز سنتے ہیں، ہر چیز کے حال سے واقف ہیں،سب کی ضروریات پوری فرماتے ہیں اوراپنی صفت رحمانیت اور رحیمیت کے ذریعے سب کے سامنے جلوہ گر ہوتے ہیں۔وہ عظیم پرجلال اور زبردست قوت کے مالک ہیں۔انہیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں،بلکہ اکیلے ہی ہر کام سرانجام دینے پر قدرت رکھتے ہیں۔ان کی عظمت،جلال اور وحدانیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے لیے جنت کی تخلیق اتنی ہی آسان ہے جتنا کہ موسم بہار کو وجود بخشنا۔وہ ہر جگہ موجود ہیں اور ہر چیز کو دیکھتے سنتے ہیں،لیکن کسی جسم کی مانند کوئی جگہ نہیں گھیرتے،ہر جگہ موجود ہونے کے باوجود اپنے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کی بدولت ہر قسم کے کیف و کم سے پاک ہیں۔یہ اس کے جمال،احدیت،رحمانیت اور رحیمیت کی ایک تجلی ہے۔

اس کی ایک دلیل ملاحظہ فرمائیے:اگر میری آنکھوں کی رطوبت خشک ہو جائے اور اس میں رطوبت نہ رہے تو میں آنکھوں کے خشک ہونے کے مرض (Dry Eye) میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لحظہ میری آنکھ کی نگرانی کرتے ہیں اور اسے بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے مرطوب رکھتے ہیں،لہٰذا ان تمام امورکے سرانجام دیئے جانے کے لیے کسی ایسی ذات کا وجود ناگزیر ہے،جس نے مجھے دیکھنے کے لیے آنکھیں عطا کیں اور جو کچھ میری آنکھیں دیکھتی ہیں وہ اس سے باخبر ہے، نیز کوئی ذات ہے جو کھانے کے دوران ہمارے لقموں کو قابل ہضم بنانے کے لیے انہیں مرطوب بناتی ہے، معدے کی طرف خفیہ پیغام بھیجتی ہے، جبڑوں کو حرکت میں لاتی ہے اور زندگی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے خلیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق غذا بہم پہنچاتی ہے، اسی لیے ہم کہتے ہیں:‘‘ہمارے پروردگارکے اسمائے حسنی اس کی رحمانیت اور رحیمیت کی صورت میں ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتے ہیں۔’’اگر اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود نہ ہوتے اورہمیں دیکھ اور سن نہ رہے ہوتے تو لقمہ ہمارے منہ میں سوکھ جاتا اور پتھر کی مانند بن کر ہمارے معدے میں اترتا، نیز غذا خلیوں تک متوازن انداز میں نہ پہنچ پاتی۔اس سے ثابت ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے ہماری جانوں سے زیادہ قریب ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اسمائے حسنیٰ کی تجلیات کی بدولت ہم سے ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں،گو ہم اپنی بشری خصوصیات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے بہت دورہیں،تاہم ان دونوں صورتوں میں ہم آہنگی کیسے پیدا کی جاسکتی ہے؟

ہم اس کی وضاحت ایک مثال سے کرتے ہیں:سورج ہم سے بہت قریب ہے،لیکن ہم اس سے بہت دورہیں۔اگرچہ سورج ایک ہی ہے،لیکن اس کی مختلف قسم کی طویل کرنیں ہر روز ہمارے سروں کو نرمی سے چھوتی اور ہمارے لیے درختوں پر لگے پھلوں کو پکاتی ہیں۔سورج کی حرارت،روشنی اور رنگ اس کی مختلف صفات کی طرح ہیں۔ اگر اس کی حرارت میں قدرت، روشنی میں علم اور سات رنگوں میں سماعت وبصارت جیسے حواس ہوتے تو سورج ہم سے ہماری جانوں سے زیادہ قریب ہوتا اور ہم میں مختلف قسم کے تصرفات کرتا،حالانکہ وہ ایک کثیف مادی جسم ہے۔اس میں ہردم ہائیڈروجن ہیلیم میں تحویل ہوتی رہتی ہے۔کروڑوں ٹن ہائیڈروجن کے ہیلیم میں تبدیل ہونے سے روشنی اور شعاعوں کی صورت میں بہت زیادہ توانائی پیدا ہوتی ہے، حالانکہ سورج محض ایک مادی جسم ہے،جبکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ مادے سے منزہ ہیں۔اللہ تعالیٰ روشنی ہیں نہ شعاع ہیں اور نہ ہی ایٹم ہیں،بلکہ ان تمام موجودات کے خالق ہیں،یہی وجہ ہے کہ وہ ہر چیز سے مختلف ہیں۔

اللہ تعالیٰ نور کو روشنی اور شکل و صورت عطا کرنے والے ہیں،اس کا سرچشمہ اور اس کے خالق ہیں۔ہر قسم کے انوار،روشنیاں،حرارت اور رنگ ان کے دست قدرت میں ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق سورج کی یہ حالت ہے تو ازل سے موجود وحدہ لاشریک خدا کے ہر جگہ حاضر و ناظرہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے؟

فرشتے اور جنات ایک وقت میں مختلف مقامات پر موجود ہو سکتے ہیں، نیز ابلیس تنِ تنہا ایک لحظے میں وسوسہ ڈال کر بہت سے لوگوں پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی بعض حقیر اور عاجز مخلوقات میں یہ صلاحیت موجود ہے تو حی و قیوم خدا کے اسمائے حسنیٰ ہر جگہ جلوہ گر ہو کر ہر چیز پر نگاہ کیوں نہیں رکھ سکتے؟

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔