قرآنِ کریم ہمیں اولوالامر کی اطاعت کا حکم دیتاہے۔امام کی اطاعت کا کیا حکم ہے؟

قرآنِ کریم ہمیں اولوالامر کی اطاعت کا حکم دیتاہے۔امام کی اطاعت کا کیا حکم ہے؟

بلاشبہ قرآنِ کریم اولوالامر کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔ارشادِخداوندی ہے: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ ﴾(النساء: ۵۹)‘‘مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی۔’’ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احکام کی بجاآوری،حکم عدولی نہ کرنے اور رسول اللہﷺکی اطاعت کا حکم دے رہے ہیں۔‘‘الرسول’’ کے لفظ کو معرف ذکر کیا گیا ہے،جس سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جس رسول کو تم اچھی جانتے ہو،یعنی محمدﷺ ان کی اطاعت کرو۔درحقیقت ہم دوسرے تمام انبیائے کرام اور رسولوں سے بھی محبت کرتے اور ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ان سے محبت کرنے اور ان پر ایمان لانے کی تعلیم ہمیں رسول اللہﷺنے ہی دی ہے۔رسول اللہﷺ نے ان میں سے جس کا جو مقام ہمیں بتایا ہے،ہم اس کے مطابق ان کی عزت و احترام کرتے ہیں۔

ہمیں سیدنا مسیح علیہ السلام کے عالی مقام کا آپﷺکے ذریعے ہی علم ہوا ہے،حالانکہ عقیدہ تثلیث اور کنیسہ نے ان کی سیرت کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک کے تمام انبیائے کرام کا علم ہمیں آپﷺکے واسطے سے ہوا ہے، لہٰذا دوسروں کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے آپﷺکو پہچانیں،ان کی اطاعت کریں اور ان کے روشن مدار میں گردش کریں،جس کے نتیجے میں ہم پر ہر چیز کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔

﴿وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ﴾کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان رسول اللہﷺکے روشن راستے پر چلنے والے اپنے اولوالامر کی اطاعت کریں اور اپنے تمام چھوٹے بڑے قائدین اور زعماء کی اس وقت تک پیروی کریں جب تک وہ اللہ اوراس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہیں اور پوری سنجیدگی اور خلوص سے اس پر چلتے رہنے کے لیے پرعزم رہیں۔اگرچہ متعین حدود اور معیارات میں رہتے ہوئے ایسے قائدین کے علاوہ دیگر قائدین کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے،لیکن مکمل اطاعت صرف رسول اللہﷺکے راستے اورآپ کی سنت پر چلنے والے اولوالامر کا حق ہے۔

آیت مبارکہ میں اللہ،رسول اور اولوالامر کی اطاعت یعنی ایک دوسرے سے مربوط تین اطاعتوں کا ذکرہے۔رسول اللہﷺکو عظمت اور عالی مقام اللہ تعالیٰ کا رسول ہونے کی وجہ سے حاصل ہے،اگرچہ آپﷺایک انسان ہیں،لیکن اللہ تعالیٰ تک ہمارے پہنچنے کا اہم ترین وسیلہ ہیں۔اپنے راستے پر چلتے ہوئے ہم اسی وسیلے کا سہارا لیتے ہیں۔رسول اللہﷺکے ہاتھ میں موجود یہ وسیلہ اللہ تعالیٰ کی ایسی مضبوط رسی ہے کہ اگر ہم اسے تھام لیں تو ہم اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں،کیونکہ اس رسی کا دوسرا سرا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔رسول اللہﷺقرآنِ کریم کاتذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ‘‘اللہ کی کتاب آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے۔یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے۔یہ پُرحکمت نصیحت اور صراط مستقیم ہے۔خواہشات اس میں کجی اور زبانیں اس میں التباس پیدا نہیں کر سکتیں اور علماء اس سے سیر نہیں ہوتے۔بار بار پڑھنے سے یہ بوسیدہ ہو گی اور نہ ہی اس کے عجائبات کبھی ختم ہوں گے۔’’(1)

آپﷺنبی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اوامر اور اللہ تعالیٰ کے حق میں ہماری ذمہ داریوں کے ساتھ آپﷺ کی ذاتِ اقدس کا اس قدر ارتباط ہے۔نعوذباللہ آپﷺمعبود نہیں ہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب تشریف فرما ہیں جیساکہ عیسائیوں کا حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں عقیدہ ہے،بلکہ آپﷺتجلیاتِ الہٰیہ کو منعکس کرنے والاشفاف آئینہ ہیں،لہٰذا اگر آپ اس آئینے میں نہ دیکھیں گے توآپ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والے راستے کو کبھی نہ دیکھ پائیں گے۔

یہ راستہ آج تک واضح اور روشن رہاہے اور آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا،تاہم جس طرح رسول اللہﷺاللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلے فرماتے تھے اوراہل ایمان کو اسی بنیاد پر اپنی اطاعت کرنے کا کہتے تھے،اسی طرح جن لوگوں کو ہم اولوالامر کہتے ہیں ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ رسول اللہﷺکے راستے اور طریقِ کار کی پیروی کرتے ہوئے آپﷺکے نقش قدم پرچلیں۔

صدیقِ اکبر،عمرفاروق،عثمانِ ذوالنورین اور حیدرِکرار رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پلک جھپکنے کی مقدار بھی رسول اللہﷺکی مخالفت نہ کی۔رسول اللہﷺکی ادنیٰ سی نافرمانی کے مقابلے میں زمین میں دھنسا دیا جانا ان کے لیے نسبتاً زیادہ قابل قبول تھا۔اہل ایمان کو ایسے امراء اور قائدین کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔جس قدر اولوالامر رسول اللہﷺکی مخالفت کریں گے،اسی قدر وہ لوگوں کی اطاعت کے حق سے محروم ہو جائیں گے،خواہ ان کی خدمات کتنی ہی جلیل القدر کیوں نہ ہوں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محض امارت مکمل اطاعت کو ضروری قرار نہیں دیتی۔اگر امیر اپنی امارت کے ساتھ رسول اللہﷺکا مطیع وفرمانبردار بھی ہو تو اس کی اطاعت واجب ہے اور ایسی اطاعت عبادت ہے،تاہم اگر اہل ایمان اوپر ذکر کردہ معیارات پر عملدرآمد نہ کر پائیں تو ان کے علاوہ بعض دوسری شرعی مصلحتیں اور ضروریات بھی موجود ہوتی ہیں،لہٰذا اگر دینی خدمت اور اسلام کی سربلندی صلح،اطاعت اور مثبت طرزعمل کی متقاضی ہو تو خواہ ساری دنیا ہی کیوں نہ امڈ آئے،انہیں کسی بھی قسم کے منفی طرزعمل سے گریز کرنا چاہیے۔

دوم: اطاعت کا دائرہ بہت وسیع اور باہم مربوط ہے۔رسول اللہ ﷺکا ارشاد ہے:‘‘جب تین شخص سفر پر نکلیں تو اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لیں۔’’(2) یعنی ان میں سے ایک امیر ہو گا اور باقی دو اس کی اطاعت کرتے ہوئے ہدایات کے مطابق عملدرآمد کریں گے۔امیر سفر کی تمام سرگرمیوں مثلاً کھانے، پینے،جاگنے،سونے اور نشاط و تفریح وغیرہ کا ذمہ دار ہو گا۔یہ اطاعت کے دائرے کا آغاز ہے۔

نماز بھی ہمیں اطاعت کرنا سکھاتی ہے،کیونکہ ہم امام کے رکوع کے ساتھ رکوع اور اس کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں۔جس طرح سپاہی کو نظم و ضبط کی تربیت دی جاتی ہے،اسی طرح نماز اپنی اصل غرض و غایت کے علاوہ ہمیں نظم و ضبط بھی سکھاتی ہے۔باجماعت نماز کے ذریعے ہمیں غور سے سننے کی عادت پڑتی ہے۔

دل و جان سے دعوت کے کام سے وابستہ اہل ایمان سے یہ ممکن نہیں کہ وہ اسلام سے متعلق کسی کام کو انفرادی سطح پر سرانجام دیں،بلکہ وہ اسے اجتماعی حیثیت سے لیتے ہیں،اس کے بارے میں باہمی مشاورت کرتے ہیں اور جب ضرورت پڑتی ہے تو اس معاملے کو زیادہ قابل بھروسا اور تجربہ کار لوگوں کے سپرد کر دیتے ہیں اور پھر جس بات پر اتفاق ہوتا ہے اس پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ایسی صورت میں اطاعت و فرمانبرداری واجب ہے۔درحقیقت شورائی انداز میں کام کرنے والے اولوالامر کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔حق اور اس کی سربلندی کی خاطر ہم پر لازم ہے کہ اگر امیرکشمش جیسے سر والا حبشی غلام ہو تب بھی ہم اس کی اطاعت وفرمانبرداری کریں۔ارشادِنبوی ہے:‘‘سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر کشمش جیسے سر والے حبشی غلام کو امیر بنا دیا جائے۔’’(3) اس دورکے رسم ورواج اور عرف کے مطابق یہ بات ناقابل فہم تھی کہ ایک قریشی سردار حبشی غلام کی اطاعت کرے،لیکن رسول اللہﷺ دورِجاہلیت کی تمام جاہلانہ عادات کو ختم کرنے کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔اس حدیث سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتاہے کہ کیا امام وقت کا قریشی ہونا ضروری ہے یا کسی حبشی غلام کو بھی امام مقرر کیا جا سکتا ہے؟اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک حبشی غلام کو بھی مسلمانوں کا حاکم اور امام بنایا جا سکتا ہے۔

لہٰذا مسلمانوں کو اسلامی اور ایمانی خدمت سے متعلق ہر معاملے میں باہمی مشاورت کے بعد کسی نہ کسی فیصلے پر پہنچنا چاہیے یا جس شخص کی عقل،تجربے اور اخلاص پر انہیں بھروسا ہو اس کے فیصلے پر راضی ہو جانا چاہیے اور اس کے بعد اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنی چاہیے،لیکن اگر اس کے برعکس ہر شخص نے اپنی رائے پر عمل کیا تو نتیجہ اضطراب اور بدامنی کی صورت میں نکلے گا اور چونکہ دلوں میں اتفاق و اتحاد نہیں ہو گا،اس لیے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو اس فضل سے محروم فرما دیں گے جو وہ جماعت پر فرماتے ہیں۔

بعض اوقات کوئی شخص اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں کی بنیاد پر کوئی مقصدمتعین کرتاہے اور اللہ تعالیٰ اس کے مقصد کو پورا فرما کر وہ چیز اسے عطا فرما دیتے ہیں،لیکن بعض چیزیں اور نعمتیں ایسی ہیں،جو اللہ تعالیٰ صرف جماعت کو دیتے ہیں۔اگر لوگ جماعت کے نظام کو درہم برہم کر دیں گے اور ہر کوئی انفرادی سطح پر امور سرانجام دینے لگے گا تو وہ ان انعامات اور رحمتوں سے محروم ہو جائیں گے،جو اللہ تعالیٰ صرف جماعت پر نازل فرماتے ہیں۔نمازِاستسقاء،نمازِکسوف و خسوف،نمازِعید اور جبل عرفات کا قیام سب اجتماعی سرگرمیاں ہیں اور بغیر جماعت کے ادا نہیں ہوتیں۔یہ سرگرمیاں اسی وقت فرض قرار دی گئیں جب مسلمان جماعت تشکیل دینے کے قابل ہوگئے۔

نماز اگرچہ مکہ معظمہ میں فرض ہوئی تھی،لیکن نمازِجمعہ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔ چونکہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کی جماعت بن گئی تھی اس لیے اس وقت نمازِجمعہ فرض کی گئی،بلکہ مکہ سے پہلے ہی مدینہ منورہ میں یہ صورتحال پیدا ہو چکی تھی۔اگرچہ ابھی تک نمازِجمعہ فرض نہ ہوئی تھی،لیکن حضرت اسعد بن زرارۃ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو جمع کر کے انہیں نمازِجمعہ پڑھاتے،کیونکہ مدینہ منورہ کی فضا اجتماعی سرگرمیوں کے لیے مکہ معظمہ کی بہ نسبت زیادہ سازگار تھی۔

اجتماعی معاملات میں اطاعت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔جونہی لوگ اجتماعی سطح پر امور سرانجام دینے لگتے ہیں ہر چھوٹے بڑے شعبے میں اطاعت وفرمانبرداری کو مرکزی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔مؤمن کو اطاعت اور اسے بجا لانے کے مفہوم سے ضرور آگاہی ہونی چاہیے۔رسول اللہﷺنے اس پہلو پر خصوصی توجہ دی اور اس احساس کو بڑھانے اور عام کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش فرمائی۔ذیل میں ہم اس سلسلے کی دو ایک مثالیں ذکر کرنے پر اکتفا کریں گے:

ایک مرتبہ حضرت عماربن یاسر اور حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہما ایک سریے میں شریک ہوئے۔کسی معاملے پر ان دونوں حضرات کے درمیان بات بڑھ گئی اور حضرت خالد نے حضرت عمار کو کوئی سخت بات کہہ دی۔اس موقع پر رسول اللہﷺ نے دونوں حضرات کے مناسبِ حال بات ارشاد فرمائی۔حضرت عمار السابقون الاولون میں سے تھے اور حضرت خالد امیرلشکر تھے۔آپﷺنے حضرت عمار سے اپنے امیر کی اطاعت کرنے کا کہا اور حضرت خالد کو حضرت عمار سے تعرض کرنے پر ملامت کی، کیونکہ ایمان لانے میں حضرت عمار کو حضرت خالد پر سبقت حاصل تھی۔

ایک بار رسول اللہﷺنے ایک لشکر بھیجا اور اس کے شرکاء کو امیر کی اطاعت کرنے کی تاکید فرمائی۔ راستے میں امیر نے آگ جلا کر لشکر کے شرکاء کو اس میں داخل ہونے کا حکم دیا۔بعض شرکاء اس میں داخل ہونے کے لیے تیار ہو گئے، جبکہ بعض نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم آگ سے ہی فرار ہوئے ہیں۔نبی اکرمﷺ کے سامنے اس واقعے کا ذکر ہوا تو آپﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا تھا،فرمایا:‘‘اگر وہ اس میں داخل ہوتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔’’اور دوسرے لوگوں سے فرمایا: ‘‘معصیت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں، اطاعت صرف نیکی کے کام میں واجب ہے۔’’(4) کیونکہ خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت کرنا جائز نہیں۔اس سے یہ اصول معلوم ہوتا ہے کہ امیر کی اطاعت واجب ہے،بشرطیکہ اس میں خالق کی نافرمانی نہ ہوتی ہو۔

اطاعت کے مفہوم کو راسخ کرنے کے لیے رسول اللہﷺنے‘‘مؤتہ’’کی طرف بھیجے جانے والے لشکر کی قیادت اپنے آزادکردہ غلام اور لے پالک بیٹے(5) حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کے سپردکی،حالانکہ اس لشکر میں کبارِصحابہ میں سے حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ جیسی نابغہ روزگار شخصیات موجود تھیں۔ حضرت جعفررضی اللہ عنہ نے بہت سے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بھائی اور ان سے آٹھ سال بڑے تھے۔وہ ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور نجاشی کے سامنے قرآن کریم پڑھا،جس کا اس پر گہرا اثر پڑا۔

ان کی گفتگو بڑی پرُتاثیر ہوا کرتی تھی،لیکن اب ان کی تلوار کے آزمائے جانے کا وقت تھا۔وہ اس میدان میں بھی کسی سے کم نہ تھے،لیکن ان تمام خصوصیات کے باوجود رسول اللہﷺ نے حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا۔ کتب مغازی میں لکھا ہے کہ غزوہ مؤتہ میں دشمن کے لشکر کی تعداد دو لاکھ سپاہیوں سے زیادہ تھی اور اس لشکرجرار کے مقابلے میں مسلمانوں کا لشکر صرف تین ہزار نفوس پر مشتمل تھا۔ہر مسلمان سپاہی کے مقابلے میں دشمن کے کتنے سپاہی تھے،اس کا خود ہی اندازہ لگا لیجئے۔حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود لوگ بیان کرتے ہیں کہ تلواریں ان پر برس رہی تھیں اور ہر وار پر ان کا کوئی نہ کوئی عضو کٹ رہا تھا،لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنا چہرہ نہیں پھیرا۔رسول اللہﷺ مسجدنبوی میں بیٹھ کر صحابہ کرام کو مسلمانوں کے لشکر کو پیش آنے والی صورتحال اتنی تفصیل سے بتا رہے تھے،جیسے آپ واقعات کو کسی روحانی اسکرین پر رونما ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہوں، پھر آپﷺ نے صحابہ کرام کو بتایا کہ میں نے جعفر کو جنت میں دیکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں دو پر عطا فرمائے ہیں،جن کی مدد سے وہ جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں۔رسول اللہﷺنے تینوں قائدین کی شہادت کے بعد فرمایا: ’’انہیں سونے کے تختوں پرجنت کی طرف لے جایا گیا۔میں نے عبداللہ بن رواحہ کے تخت میں ان کے دونوں ساتھیوں کے تختوں کی بہ نسبت کچھ ٹیڑھا پن دیکھا۔میں نے اس کی وجہ پوچھی تو مجھے بتایا گیاکہ وہ دونوں آگے بڑھے اور عبداللہ بن رواحہ کو کچھ تذبذب ہوا اور پھر وہ بھی آگے بڑھ گئے۔’’(6) حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی یہ شان تھی، لیکن اس کے باوجود انہیں فوج کا امیر نہیں بنایا گیا،بلکہ امیر حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے،جو پہلے غلام تھے اور اسلام نے انہیں آزادی عطا کی۔سب ان کی اطاعت کرتے تھے۔

جب مسلمانوں نے دشمن کے لشکر کی تعداد دیکھی تو ان میں سے بعض نے کہا: ‘‘ہم رسول اللہﷺکو دشمن کی تعداد کے بارے میں لکھتے ہیں۔رسول اللہﷺیا تو ہمیں مزید آدمیوں کی کمک دیں گے یا کوئی اور حکم ارشاد فرمائیں گے،جسے ہم بجا لائیں گے۔یہ سن کر لشکر کے ایک بہادر سپہ سالار حضرت عبداللہ بن رواحہ آگے بڑھے اور پرعزم لہجے میں کہا: ‘‘اے قوم!جس چیز کو تم ناپسند کر رہے ہو،تم اسی شہادت کی تلاش میں تو نکلے ہو۔ہم لوگوں سے قوت و کثرت یا تعداد کی بنیاد پر نہیں لڑتے،بلکہ ہم اس دین کی بنیاد پر لڑتے ہیں،جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت بخشی ہے۔آگے بڑھو، دوبھلائیوں یعنی فتح اور شہادت میں سے ایک تو تمہیں مل کر رہے گی۔’’یہ سن کر لوگوں نے کہا: ‘‘بخدا!ابن رواحہ نے سچ کہا ہے۔’’غزوہ مؤتہ میں تینوں سپہ سالار شہید ہو گئے یہاں تک کہ قیادت حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آگئی۔وہ مسلمانوں کے خون کے سیلِ رواں سے سخت رنجیدہ تھے۔اب اس سپہ سالار کی باری تھی،جس پر مسلمان ہمیشہ فخر کرتے رہیں گے۔انہیں اسلام لائے ہوئے ابھی صرف چند ماہ ہی گزرے تھے کہ وہ اس معرکہ کارزار میں شریک تھے،کیونکہ انہیں اس جنگ میں شریک ہونے کا بے حد شوق تھا۔بعض کتب مغازی میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابتدا میں ان کا اس جنگ میں شریک ہونا پسند نہ فرمایا،لیکن بعد میں انہیں اس میں شرکت کی اجازت مل گئی۔اس موقع پر ہم سوال کرتے ہیں: ‘‘اس تھوڑی سی مدت میں حضرت خالدبن ولید نے قرآنِ کریم سے کیاکچھ سیکھا؟اور رسول اللہﷺ سے کتنی آگاہی حاصل کی؟’’بلاشبہ انہیں رسول اللہﷺ سے اس قدر آشنائی ہو چکی تھی کہ انہوں نے اپنی معاشرتی حیثیت کو قربان کر کے ایک ایسے شخص کی قیادت قبول کر لی،جو پہلے غلام رہ چکا تھا پھر تقدیر کا ظہور ہوا اور وہ صف اول میں پہنچ گئے،کیونکہ جونہی پہلے سپہ سالار شہید ہوئے،فوج کی قیادت حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آگئی اور ان کے بعد فوج کی قیادت حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ جس طرح وہ تلوار کے دھنی تھے،اسی طرح تقریر کے بھی شہسوار تھے۔حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد قیادت حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آئی،جن کے مستقبل میں عظیم سپہ سالار کی حیثیت سے ظہورپذیر ہونے کے لیے تقدیر راہ ہموار کر رہی تھی۔اب ہم اس موضوع پر اجتماعیت اور اطاعت کی روح کے پہلو سے روشنی ڈالتے ہیں: رسول اللہﷺنے ایک آزادکردہ غلام کو لشکر کی قیادت سونپ کر اطاعت و فرمانبرداری کا درس دیا۔ہمیں اِس بات پر موجودہ معیارات کے مطابق عملدرآمد کرنا چاہیے۔اس دور میں غلام کے ساتھ حیوانوں جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔اسے اس قابل نہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ اپنے آقا کے برابر بیٹھے یا اس کے ساتھ کھانا کھائے۔

رسول اللہﷺنے ایک آزادکردہ غلام کو مسلمانوں کی فوج کا سپہ سالار بنا کر اطاعت وفرمانبرداری کی تعلیم دی۔رسول اللہﷺاس پہلو پر اس قدر توجہ دیتے تھے کہ آپ ﷺ نے اپنی وفات سے تھوڑا عرصہ پہلے بازنطینیوں کو سبق سکھانے اور حضرت اسامہ کے والد حضرت زید کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے بھیجے گئے لشکر کی قیادت حضرت اسامہ بن زیدبن حارثہ کے سپرد کی،حالانکہ حضرت اسامہ اس وقت بیس سال کے نوجوان تھے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اس لشکر کے عام سپاہی تھے۔رسول اللہﷺاس طرزعمل سے جاہلیت کی ایک اور رسم کا خاتمہ کرنا اور اطاعت و فرمانبرداری کی روح پھیلانا چاہتے تھے،کیونکہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ایک آزادکردہ غلام کے بیٹے اور ایک نادارشخص تھے۔ایسے نادار نوجوان اور آزادکردہ غلام کے بیٹے کی اطاعت کی تعلیم دے کر رسول اللہﷺحقیقی اطاعت کے مفہوم کو راسخ اور صحابہ کی توجہ اس کی طرف مبذول کرنا چاہتے تھے۔یہ سچ ہے کہ رسول اکرمﷺنے اپنی ساری حیاتِ طیبہ میں اطاعت کے پہلو پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔

جن جماعتوں نے دعوت اور خدمت اسلام کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بنا رکھا ہے اور وہ ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہیں،ہم ان سے امید کرتے ہیں کہ وہ بھی اسی قسم کی فضا قائم کریں اور اطاعت کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھیں گے، بصورتِ دیگر تفرقہ،انتشار،ہرقسم کی بدحالی اور بدبختی،اختلاف اور نافرمانی مسلمانوں کا انجام ہو گا۔

یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ دورِحاضر کے انسان کے لیے زیادہ انتظار کرنا ممکن نہیں رہا،اس کی ہمت جواب دے رہی ہے اور اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے،لہٰذا اس جماعت کے لیے حق پر قائم رہتے ہوئے اس بحران سے کم سے کم وقت میں نکلنا ناگزیر ہے،تاکہ وہ اب تک بہت زیادہ تکلیفیں اٹھا چکنے والی انسانیت کے دل میں اپنی اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعے امید کا چراغ روشن کرنے میں کامیاب ہو سکے۔


(1) مسلم،فضائل الصحابۃ؛ الترمذی، فضائل القرآن،المناقب.
(2) أبوداؤد، الجھاد.
(3) البخاری،الأذان،الأحکام؛ ابن ماجۃ،الجھاد.
(4) البخاری، أخبارالأحاد؛ مسلم، الامارۃ.
(5) تاہم بعد میں اسلام نے لے پالک بنانے کی ممانعت کر دی۔(عربی مترجم)
(6) البدایۃ والنھایۃ، ابن کثیر،۴/۲۴۵.

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔