پڑوسیوں کے حقوق

پڑوسیوں کے حقوق

سوال: دوسرے بہت سے حقوق کی طرح پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں بھی آج کل عام طورپر غفلت برتی جاتی ہے۔ اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی کی کیا اہمیت ہے؟ ایک صحت مند معاشرے کے قیام میں اس فرض کی ادائیگی کے کیا فوائد و ثمرات ہیں؟

جواب: قرآن کریم نے والدین کے ساتھ رحمدلی سے پیش آنے ، رشتہ داروں کے ساتھ مخلصانہ برتاؤکرنے اور یتیموں کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں کے حقوق کی ادئیگی پر زور دیا ہے۔ پڑوسیوں کے حقوق کی ادئیگی کا حکم درج ذیل آیت مبارکہ میں دیا گیا ہے: ¬﴿وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالاً فَخُورًا﴾ [النساء: ۳۶] (اور اللہ ہی کی عبادت کرواوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور ناداروں اور رشتہ دار ہمسایوں اور اجنبی ہمسایوں اور پاس بیٹھنے والوں اور مسافروں اور جولوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ بیشک اللہ تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔)

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرانے کے حکم کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے۔ اصولی طورپر محبت، احترام اور کسی سے ملاقات کے شوق کے معاملہ میں اللہ کے بعد سب سے زیادہ حق اس کے رسول حضرت محمدﷺ کا ہے۔ ہم اپنے پروردگار کو انہی کی وجہ سے پہچانتے ہیں۔ہمیں مخلوقات کے بارے میں صحیح تصور اور نقطہ نظر انہی کی وجہ سے ملا اور ہمارا یہ اعتقاد کہ ہمیں پیدا کیا گیا ہے اور ہماری منزل ابدیت ہے انہی کے لائے ہوئے پیغام کا مرہون منت ہے۔ ان تمام باتوں میں ہم ان کے زیر بار احسان ہیں، تاہم زیر بحث آیت مبارکہ میں عملی حیثیت سے نہ کہ بنیادی اصول کی حیثیت سے دوسرے نمبر پر رسول اللہ ﷺ کے بجائے والدین کا ذکر ہے۔ اس آیت مبارکہ کا آغاز اللہ پر ایمان لانے کے بجائے اس کی عبادت کرنے کے حکم سے ہونا بھی اسی عملی پہلو کی طرف مشیر ہے۔

والدین کے ذکر کے بعد آیت مبارکہ بالترتیب رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اس کے بعد آیت مبارکہ نزدیک اور دور کے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دے کر ان کے حقوق کی طرف توجہ مبذول کراتی ہے۔ اس لحاظ سے ہمارے اردگرد رہنے والے تمام لوگ اس آیت مبارکہ کے مفہوم میں شامل ہیں اور حسن سلوک کے مستحق ہیں۔

ایمان کامل کےحصول کا ذریعہ

بخاری و مسلم میں مروی درج ذیل صحیح حدیث نبوی ہمسائیگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺکو پڑوسیوں کے بارے میں اس قدر تاکید کرتے رہے کہ آپﷺکو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں پڑوسیوں کوایک دوسرے کاوارث قرار نہ دے دیا جائے۔ [1]

اگر اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں کہ کسی بھی انسان کے ورثاء اس کےسب سےقریبی رشتہ دار ہوتے ہیں تو ہم خدا کی نظر میں پڑوسیوں کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ درحقیقت ہم پڑوسیوں کے حقوق سے متعلق وہ تمام باتیں معلوم نہیں کرسکتے جو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریمﷺ سے کہی تھیں،کیونکہ آپ ﷺ نے ان کی تفصیل ہمیں نہیں بتائی، تاہم نبی کریمﷺ کواس بات کا اندیشہ ہونا کہ کہیں پڑوسیوں کو ایک دوسرے کی وراثت میں شریک نہ کردیا جائے اس طرف ضرور اشارہ کرتا ہے کہ حضرت جیرائیل علیہ السلام نے اس بارے میں کس قدر تاکید کی ہوگی۔

ایک اور حدیث نبوی اس مسئلے کاتعلق ایمان کے ساتھ جوڑتی ہے : ’’جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ جو شحص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے مہمان کی میزبانی کرنی چاہیے۔ جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یاپھر خاموش رہے۔ [2]

اس حدیث مبارک سے پتہ چلتا ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک حقیقی ایمان کی شرط ہے۔یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان میں دین کے دیگر بنیادی ارکان بشمول آخرت پرایمان بھی شامل تھا،لیکن اس کے باوجود یہاں آخرت پر ایمان کو علیحدہ سے اس طرف اشارہ کرنے کے لیے ذکر کیا گیا ہے کہ خدا کی خوشنودی کے لیے کی جانے والی (مندرجہ بالا) نیکیوں کا حقیقی صلہ قیامت کے دن ہی ملے گا۔

اچھے پڑوسی وہ ہوتے ہیں جوابدی سعادت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں

رسول اللہ ﷺنے وعید سنائی ہے کہ جو شخص خود توپیٹ بھر کر سکون سے سوجائے، لیکن اس کا پڑوسی بھوکا ہو وہ حقیقی مفہوم میں مومن نہیں ہوسکتا، نیز جس شخص کی اذیتوں سے اس کے پڑوسی مامون نہ ہوں وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ چونکہ پڑوسیوں کے حقوق پر قرآن و سنت میں بہت زور دیا گیا ہے، اس لیے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔لہذا ہر مسلمان کو اپنے دور اور قریب کے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آنا چاہیے ۔مضبوط ایمان کے حامل لوگوں کو اپنی اچھی چیزوں میں دوسروں کو شریک کرنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ یہ اسلامی آداب کا تقاضا ہے۔ پڑوسیوں کے حقوق کے ضمن میں سب سے پہلی چیز کھانے اور لباس وغیرہ کی صورت میں مادی تعاون ذہن میں آتا ہے۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے زکوۃ صرف مسلمانوں کو ہی دی جاسکتی ہے،لیکن دیگر صدقات غیرمسلموں کو بھی دیے جاسکتے ہیں۔مثال کے طورپر کوئی شخص اپنے قریبی یا دور کے پڑوسیوں کی مالی مدد کرسکتا ہےقطع نظر اس سے کہ وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم، کیونکہ یہ بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ خاص طور پر غربت کے حالات میں مسلمانوں کو اپنے پڑوسیوں کو خواہ وہ کوئی بھی ہوں ہر گزبھوکا نہیں مرنے دینا چاہیے،بلکہ ہر صورت میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔ ملازمت کی تلاش میں کسی پڑوسی کی مدد کرنا بھی حسن سلوک کی ایک عمدہ صورت ہے۔

تاہم پڑوسیوں کے حقوق کو صرف مادی امور تک محدود کرنا درست نقطہ نظر نہیں ہے۔ پڑوسیوں سے دعا سلام کرنا، ان کی خیریت دریافت کرنا، باہمی میل جول سے واقفیت بڑھانا، دوستانہ تعلقات کے لیے راہ ہموار کرنا اور اگر دل میں کوئی منفی جذبات ہوں تو انہیں ختم کرنے کی کوشش کرن سب اہم نکات ہیں۔ تمام مسلمانوں کے لیے بالعموم اور غیرمسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے بالخصوص اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا بہت ضروری ہے۔ مثال کے طورپروہ مخصوص مواقع پر اپنے پڑوسیوں کو تحائف پیش کرکے اور ان کے ساتھ ملاقات کرکے انہیں خوشی پہنچا سکتے ہیں۔اس طرح انہیں دلوں میں محبت پیدا کرنے ، مسلمانوں کے بارے میں معاندانہ خیالات کا ازالہ کرنےاوراپنی اقدار سے دوسروں کو متعارف کرانے کا موقع مل سکتا ہے۔اگر مسئلے کواس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ پڑوسیوں کے حقوق کو صرف مالی تعاون میں محصور نہیں کیا جاسکتا۔

بہت بڑی بربادی کاسبب بننےوالے گناہ

پڑوسیوں کے بارے میں ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے،جسے رسول اللہ ﷺ نے ذکر فرمایاہے ۔پڑوسن کے ساتھ بدکاری کا گناہ کئی گنازیادہ ہوجاتاہے۔یہ بات سب کو معلوم ہے کہ منہیات اور ناپسندیدہ اعمال کے مختلف درجات ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر خدا کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی وجہ سے اگر قیامت برپا ہوجائے تو کچھ تعجب نہیں،جیسا کہ درج ذیل آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے: ﴿تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا﴾ [مریم:90] (قریب ہے کہ اس جھوٹ سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہوکرگر پڑیں) اسی طرح کئی گناہ اتنے شدید ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے زمین و آسمان پھٹ پڑتے ہیں ۔جس طرح کسی رشتہ دار کے ساتھ بدکاری بہت سخت گناہ ہے اسی طرح پڑوسن کے ساتھ بدکاری کو بھی نبی کریمﷺ نے اس زمرے میں شمار کیا ہے،جس کی شناعت کئی گن بڑھ جاتی ہے، کیونکہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے درمیان اعتماد اور تحفظ کے احساسات کا عنصر یقینی طورپر غالب ہونا چاہیے۔ لہذا جن لوگوں پر آپ اعتماد کرتے ہیں ان کی جانب سے کیا جانے والے جرم معمولی جرم نہ ہوگا، بلکہ اس کی شدت کئی گنا بڑ ھ جائے گی۔

کھیر کے ایک پیالے سے دوستی کا پل قائم ہوسکتا ہے

بدقسمتی سے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اپنی حقیقی اقدار کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پڑوسیوں کے تعلقات میں بہت بڑا خلا پایا جاتا ہے ۔ مسلم ممالک میں بھی صورت حال اس قدر گھمبیر ہے کہ معاشرے کا ہر فرد اپنے گھر تک محدود رہ کر صرف اپنی دنیا میں محصور ہے۔ پڑوسی ایک دوسرے کے گھر پر صرف اس وقت دستک دیتے ہیں جب دوسرے کے گھر سے ناگوار شور کی آواز آرہی ہوتی ہے اور مقصد مؤخر الذکر کو اس بارے میں خبردار کرنا ہوتا ہے۔ لہذا اس لاعلاج مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہمیں ہر ممکن ذریعہ استعمال کرنا چاہیے۔

تاہم یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ لوگوں کے ذہنوں میں راسخ افکار و نظریات میں تبدیلی لانا کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے۔اس کے لیے استقلال اور جہدِ مسلسل درکار ہے۔ کبھی آپ کو یہ موقع روایتی انداز میں عاشوریٰ کی کھیر بنا کر اپنے ہمسائے کوکھیر کا ایک پیالہ پیش کرکے حاصل ہوسکتا ہے،کبھی آپ میلادالنبی کے موقع پر ان سے رابطہ کرسکتے ہیں اورکبھی ان کے ہاں کسی اور اہم موقع پر ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرسکتے ہیں۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ فیض رسانی انسانی فطرت کا حصہ ہے اور ہم رحمدلی کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔لہذا رحمدلانہ طرز عمل کے جلد یا بدیر اثرات ضرور ظاہر ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کے پڑوسی آپ کو ایک لمبے عرصے تک آزمائیں، لیکن جب انہیں یقین ہوجائے گا آپ ایسا کسی ذاتی مفاد کی خاطر نہیں کررہے تو وہ اپنے دروازے کھول دیں گے اور ایک دوسرے کے گھر آنا جانا شروع ہوجائے گا۔ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کے باہمی تعلق کو ایک ایسی عمارت سے تشبیہ دی ہے جس کی اینٹیں ایک دوسرے کے ساتھ درست طریقے سے ملی ہوتی ہیں۔ [3] یہ بالکل فطری بات ہے کہ زیر بحث آیت مبارکہ میں ذکرکردہ تمام عوامل یعنی والدین کے حقوق کی ادئیگی، رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا، ضرورت مندوں کا خیال رکھنااور پڑوسیوں کے حقوق کو ادا کرنا ایسے معاشرے کے قیام میں انتہائی اہم کردا ادا کرتے ہیں۔

چونکہ دور حاضر میں پڑوسیوں کےباہمی تعلقات بری طرح خراب ہوچکے ہیں، اس لیے ہوسکتا ہے کہ ان تعلقات میں بہتری لانے کی ابتدائی کوششیں زیادہ حوصلہ افزا ثابت نہ ہوں، تاہم ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ رحمدلانہ برتاؤ حتی کہ نیک خواہشات کا اظہار لوگوں کے درمیان پائی جانے والی سرد مہری کو ختم کردے گا۔ کچھ عرصہ کے بعد رحمدلانہ برتاؤ دلوں میں اچھے جذبات پیدا کرے گا جووقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افراد کے درمیان مضبوط تعلقات کا ذریعہ بن جائیں گے، جس کے نتیجے میں لوگ بدلے کی توقع کےبغیر ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ جب کوئی گرے گا تو دوسرا اس کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھائے گا اور ایک دوسرے کے بارے میں نیک جذبات رکھنے میں لوگ ایک دوسرے سے مسابقت کریں گے۔ تصادم اور مخالفت سے پاک مثالی معاشرہ صرف ایسے ہی لوگ قائم کرسکتے ہیں۔

آخری بات یہ کہ بدیع الزمان کے الفاظ میں گناہوں کے تانے بانے سے بُنا ہوا معاشرہ صحت مند معاشرہ نہیں کہلا سکتا۔لہذا ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے تمام افراد کی یہ ایک اہم ذمہ داری ہے کہ وہ گناہوں سے حفاظت اور برائیوں سے بچاؤ کے لیے ایک دوسرےکی مدد کریں۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو درج ذیل حکم دیتے ہوئے انہیں ایک دوسرے کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتا ہے: ﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ [المائدہ:2] (اور دیکھو نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں کسی کے ساتھ تعاون نہ کرو) میری رائے میں تعاون اور یکجہتی کے اس طرح کے جذبات کو برقرار رکھنے کے لیے پڑوسیوں کے باہمی تعلقات بڑی اہم بنیاد اور موقع فراہم کرتے ہیں۔اس ذمہ داری سے کبھی بھی غفلت نہیں برتی جانی چاہیے۔

[1] بخاری، کتاب الادب، 28: مسلم ، کتاب البر،141۔
[2]مسلم، کتاب الایمان، 74، بخاری، کتاب الادب ،31۔
[3] بخاری ، کتاب الصلاۃ ،88۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔