مثالی مومن ، مثالی مسلم

مسلمان وہ ہے جسکی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں سے رک جائے۔[1]

آیئے! ذرہ اس حدیث کا تجزیہ کریں، غور کریں یہاں لفظ مسلم سے پہلے "ال" ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ مثالی مومن ہیں، جو امن و تحفظ کی فضا مین اس قدر داخل ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھوں اور زبان سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتے۔ یہ صرف ان مثالی مسلمانوں کی بات ہو رہی ہے، جو دوسروں کے اذہان مین اپنا نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ نہیں جو محض اسلام کا دعوی کریں اور ان کے پاسپورٹ پر مسلم لکھا ہو۔ یہ مطلب ہمیں "ال" سے پتہ چلا جو کہ 'خصوصیت' پر دلالت کرتا ہے۔ اس کی بنیاد عربی کا مشہور قاعدہ ہے؛ "جب کسی چیز کو معرف باللام کیا جائے تو اس چیز کی سب سے اعلی اور ارفع حالت مراد ہوتی ہے"۔ اس لئے جب ہم "مومن" کا لفط سنتے ہیں تو پہلی چیز جو ذہن میں آتی ہے، وہ مومن کا سب سے مکمل معنی ہوتا ہے۔ اس حدیث سے یہی مراد ہے۔

اس طرح کی نحوی باتیں از خود کوئی نہیں سیکھ سکتا، بلکہ اس کے لئے باقاعدہ تعلیم چاہیئے۔ اس لئے آپﷺ کے لئے اس طرح کا تجربہ ممکن نہ تھا، اس لئے کہ وہ امّی تھے۔وہ اپنی طرف سے نہ بولتے تھے بلکہ استاد ازل نے ان کو جو سکھایاتھا وہی بولتے تھے۔اس وجہ سے ہمیں پیغمبرﷺ کی احادیث اور اقوال میں اس طرح کے بے شمار قواعد نظر آتے ہیں، جن کے استعمال میں کوئی غلطی نہیں ہے۔

اب اس حدیث کی طرف لوٹتے ہیں: اصل مسلمان وہ ہیں جن پر اعتبار اور بھروسہ کیا جا سکے، یہاں تک کہ دوسرے مسلمان بلا خوف و خطر ان کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کے مسلم کے اعتبار پر بلا خوف و خطر اپنا کنبہ بھی چھوڑا جا سکتا ہے، اور اس کے ہاتھ اور زبان سے کوئی نقصان بھی نہیں پہنچنے والا۔ اگر کسی کو سچے مسلمانوں کی صحبت میسر ہو تو اسے اعتبار ہونا چاہئے کہ وہ کسی کے خلاف بات نہیں کرے گا۔ نہ ہی دوسروں کے متعلق کوئی ایسی چیز سننے میں آئے گی۔ ایسے مسلمان دوسروں کی عزت اور اکرام میں ایسے ہی حساس ہوتے ہیں، جتنا اپنی عزت اور اکرام کے لئے ہو تے ہیں۔ وہ خود نہ کھا کر دوسروں کو کھلاتے ہیں۔ وہ اپنے لئے نہیں، دوسروں کو جینا سکھانے کےلئے زندہ رہتے ہیں۔ وہ اپنی روحانی خوشی کو بھی دوسروں پر قربان کر دیتے ہیں۔ یہ سارے معانی اس "ال" سے لے رہا ہوں، جو "حصر" پر بھی دلالت کرتا ہے۔ یعنی ایک خاص مقصد پر رک جانا یا جم جانا۔

تحفظ اور مسلمان:

لغوی لحاظ سے "مسلم" اور "سَلِمَ" دونوں کا مصدر "سِلم" ہے اسکا مطلب ہے مسلمان کےلئے ہر چیز سِلم (تحفط)، سلامت (امن) اور مسلما نیت کے ساتھ پیش آتی ہے۔مسلمان اس الہی جذب سے معمور ہوتے کہ ان کا ہر کام اس طاقتور مرکز سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔

مسلمان ہر ایک کو سلامتی کے ساتھ آداب عرض کرتے ہیں، جس سے ہر ایک کے دل میں انکی عزت بڑھتی ہے۔[2] وہ اپنی نمازوں کو سلام پر ختم کرتے ہیں۔ سب انسان، جن اور دوسری مخلوقات انکا سلام وصول کرتے ہیں۔ اس طرح وہ غیر مرئی مخلوق سے بھی تبادلہ آداب کرتے ہیں۔ آج تک کسی نے اس احسن درجہ کے آداب کسی کو نہیں دیے جیسے مسلمانوں نے دیے ہیں۔ اسلام بنیادی چیزوں کا درس دیتا ہے جیسے روزہ رکھنا، زکواۃ دینا، حج کرنا اور ایمان کی اشاعت کےلئے کوشش کرنا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اس حکم "اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ" (بقرۃ: 208) کو پورا کرکے، تحفظ کے لئے سمندر میں جہاز پر بادبان لگا دیتے ہیں۔ جو لوگ اس سمندر میں غوطہ لگاتے وہ ہر حال میں تحفظ اور اسلام پاتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں میں کوئی عمل اور رویہ اچھائی کے سوا کچھ نہیں پاتا۔

صرف زبان اور ہاتھ کا ذکر کیوں؟

ہمارے آقاﷺ کی مذکورۃ الصدر حدیث کے ہر بیان میں ایک ایک لفظ چن چن کر منتخب کیا گیا ہے۔ آپﷺ نے صرف زبان اور ہاتھ کا خاص طور پر انتخاب کیوں کیا؟ اس خصوصیات کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ انسان دوسرے کو دو طرح سے ایذا پہنچا سکتا ہے؛ بالواسطہ یا بالمشافہ، ہاتھ بالمشافہ نقصان پہنچاتا ہے، اور زبان بالواسطہ نقصان پہنچاتی ہے۔ لوگ دوسروں پر یا تو بالمشافہ یعنی حسی طور پر حملہ کرتے ہیں، یا بالواسطہ یعنی غیبت کر کے، یا برائی کر کے حملہ آور ہوتے ہیں۔ سچے مسلمان ان دونوں چیزوں میں ملوث نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ وہ چاہے بالمشافہ کام کر رہے ہوں یا بالواسطہ ہر حال میں انصاف اور اعتدال کے ساتھ رہتے ہیں۔

آپﷺ نے زبان کا تذکرہ ہاتھ سے پہلے اس لئے کیاکہ اسلام میں ہاتھ سے پہنچائی گئی ایذا کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ لیکن بالواسطہ ایذا، یعنی غیبت اور بہتان وغیرہ کا جواب دینا ہر جگہ درست نہیں ہوتا۔ اس طرح کے عمل سے افراد معاشروں اور قوموں کے بیچ تنازعات کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کی ایذا سے ہاتھ سے پہنچائی گئی ایذا کی نسبت نمٹنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے زبان کو ہاتھ سے مقدم ذکر کیا۔ دوسری جانب، یہاں مسلمان کی اللہ کی نگاہ میں وقعت بتائی گئی ہے۔ مسلمان ہونا خدا کو اتنا محبوب ہے کہ دوسرےمسلمان کو کہا گیا ہے کہ اپنے ہاتھ اور زبان اپنے کنٹرول میں رکھیں۔

اسلام کا ایک اور اخلاقی پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کو وہ چیزیں جو حسی طور پر یا روحانی طور پر دوسروں کیلئے نقصان دہ ہوں، انہیں چھوڑ دینا چاہئے اور انہیں پوری کوشش کرنی چاہئے کہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچاٰیئں۔ نقصان پہنچانے کو تو چھوڑیں مسلمان معاشرے کے ہر طبقے کو چاہئے کہ تحفظ اور امن و امان کا مظہر ہو۔ مسلمان اس وقت تک صحیح مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک تحفظ کے احساسات لے کر نہ چلیں اور انکا دل اعتماد کے ساتھ نہ دھڑکے۔ وہ چاہے جہاں بھی ہوں اور رہیں، اسلام سے اخذ شدہ احساس ان پر عیاں ہونا چاہئے۔ وہ جاتے وقت سلامتی کی دعا دیں، اپنی نمازوں میں آداب پیش کریں، اور نمازوں کا اختتام کریں تو دوسرے مسلمانوں کو سلام پیش کریں۔ کسی بھی طور یہ بات قابل فہم نہیں ہے کہ جو لوگ ساری زندگی اسلام کے اس دائرے میں گزارتے ہیں، وہ کیسے اس راہ پر چل سکتے ہیں جو امن، اعتماد، بہتری اور دنیاوی یا غیر دنیاوی تحفظ کے ابتدائی اصولوں کے بھی منافی ہو۔ اور اس سے وہ اپنے آپ کو بھی اور دوسروں کو بھی نقصان پہنچائیں۔

یہاں مناسب ہوگا کہ ان نکات کی اصل کا ایک بار پھر تجزیہ کر لیا جائے:

سچے مسلمان عالمی امن کے سب سے زیادہ قابل اعتبار نمائندے ہوتے ہیں۔ وہ ہر جگہ اس عظیم احساس کو لے کر چلتے ہیں جو ان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچا ہوا ہوتا ہے۔ تکلیف اور ایذا پہنچانے سے ہٹ کے ان کو ہر جگہ امن اور تحفظ کے نشان کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ انکی نظر میں دوسروں کے حقوق کی حسی (بالمشافہ) یا زبانی (بالواسطہ) خلاف ورزی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ بلکہ بسا اوقات تو مؤخرالذکر کو مقدم الذکر سے بھی زیادہ بڑا جرم سمجھا جاتا ہے۔

مثالی نفوس اور محبت کے ہیرو

جو لوگ محبت سے بھرپور ہیں صرف وہی لوگ خوشحال اور روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ان کے لب محبت سے تبسم کرتے ہیں، ان کے قلوب محبت سے لبالب بھرے ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہوں سے محبت اور سب سے نازک انسانی احساس پھوٹتا ہے۔ یہ محبت کے ایسے ہیرو ہیں جو سورج کے طلوع و غروب اور ستاروں کی چمک سے محبت کا پیغام وصول کرتے ہیں۔

جو دنیا کی اصلاح چاہتے ہوں، انہیں پہلے اپنی اصلاح کرنا ہوگی۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی اچھے معاشرے کو قائم کرنے میں اقتدا کریں تو انہیں من کی نفرت، بغض، حسد کی دنیا کو صحیح کرنا ہوگا۔ اور بیرونی دنیا کو ہر طرح کی اچھائی سے تزئین کرنا ہوگا۔ ان لوگوں کے بیانات جو خود تملکی اور نظم و نسق سے عاری ہوں اور اپنے احساسات کو درست نہ کرتے ہوں، ظاہراً تو جاذب اور بصیرت افروز ہو سکتے ہیں لیکن اس سے دوسروں کو تلقین نہیں ہوگی۔ اور اگر تلقین ہو بھی جائے تو اس کے نتیجے میں آنے والے احساسات و جذبات بہت جلد ختم ہو جاتے ہیں ۔

اچھائی، خوبصورتی، سچائی اور نیکوکاری دنیا کی ماہیت میں رچی ہوئی ہے۔ کچھ بھی ہوجائے، دنیا ایک دن اس ماہیت کو پا لیتی ہے اور کوئی اس پانے اس کو روک بھی نہیں سکتا۔

جو دوسروں کو روشن کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو دوسروں کو خوشی کے حصول میں مدد دیتے ہیں، انہوں نے محافظ فرشتوں کی طرح اپنے نفس کو ترقی دے کر روشن کر لیا ہے۔ وہ معاشرے میں آنے والی آفات میں جدوجہد کرتے ہیں اور "طوفانوں" کا مقابلہ کرتے ہیں، وہ آگ بھجانے کےلئے کوشش کرتے ہیں اور ہر طرح کے متوقع خطرات سے نمٹنے کےلئے ہمہ دم تیار رہتے ہیں۔

محبت کے پرستار :

بدیع الزمان نےکہا ہے: "ہم محبت کے پرستار ہیں، ہمارے پاس عداوت اور مخالفت(دشمنی) کا وقت نہیں ہے"۔ یہ ہمارے لئے اہم ترین اصول ہے لیکن صرف اتنا کہنا کافی نہیں، اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس کی صحیح نمائندگی کی جائے۔ درحقیقت لوگ انسانیت سے محبت کیلئے بہت سے خوبصورت الفاظ بولتے ہیں اور یہ بھی خوبصورت الفاظ ہیں۔ لیکن مجھے تعجب ہوتا ہے کہ ایسے کتنے لوگ ہیں جو اس طرح الفاظ بولتے تو ہیں، لیکن اپنی زندگی میں اپنے کردار میں اپنے کہے ہوئے پر عمل بھی کرتے ہوں؟ میرا خیال ہے اس کا تسلی بخش جواب ملن مشکل ہے۔

اپنے قول کی عمل سے نمائندگی کرنا ہمارے پہغمبرﷺ کا ایک خاصہ تھا۔ آپﷺ جو کہتے تھے اس پر عمل بھی کرتے تھے اور جو فرماتے تھے اسے اپنی زندگی میں نافذ بھی کرتے تھے۔ وہ الفاظ جن پر عمل نہیں کیا جائے، چاہے وہ کتنے ہی خوبصورت اور کامل کیوں نہ ہوں، وہ ختم ہو کر ضائع ہو جاتے ہیں اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ انک اثر زائل ہو جاتا ہے۔ دلوں پر الفاظ کے اثر سے ہی ظاہر ہوگا، چاہے وہ انسانوں کے الفاظ ہوں یا خدا کے، کہ وہ کتنے مضبوط ہیں اور اگر ان پر عمل نہ کیا جائے تو وہ کس قدر بے حس ہو جاتے ہیں۔ قرآن کے ایک حرف میں بھی تبدیلی نہیں آئی اور نزول کے وقت جو تازگی اور اصلیت تھی وہ ابھی تک قائم ہے۔ یہ ایک کتاب رحمت و ہدایت ہے لیکن کمزور انسانی نمائندگی اور خلا کی وجہ سے پیدا شدہ دھندلی فضا کی وجہ سے صحیح نطر نہیں آتا۔ جس کی بناء پر لوگ قرآن کے متعلق بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں۔ حالانکہ اسمیں قرآن کا کوئی دوش نہیں ہے، بلکہ ان معاشروں کا قصور ہیں جنہوں نے اسے اپنی زندگی میں نہ لانے کا جرم کیا ہے۔ مذہب اور قرآن زندگی کے لئے اہم ہیں اور انکا سمجھنا حرکی قوت رکہنے کےلئے بہت ضروری ہے۔ قرآن کی مکمل نمائندگی ہونی چاہے تاکہ یہ وہ کام کر سکے جنکی اس سے توقع ہے۔ المختصر میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم محبت کے پرستار اور امن کے علمبردار ہیں۔ ہمیں بہت ساری رکاوٹیں عبور کرنی ہیں خلاصۃ الکلام یہ ہے کہ حسین الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔

محبت اور شفقت اسلام کے دو انتہائی زریں اصول ہیں ہمیں پوری پوری دنیا میں ان کی نمائندگی کرنی چاہئے۔ تاہم ماضی قریب کے چند منفی واقعات نے، بالخصوص، لوگوں کو اسلام کے متعلق اسکے برعکس سوچنے پر مجبور کر دیا ہے جو اصل میں اسلام میں نہیں۔ کچھ لوگوں کی غلطیوں کو اسلام کے ساتھ جوڑنا بالکل غلط ہے۔ یہ سچ ہے کہ پڑوس کے ملک میں اہم تبدیلی ہوئیہے اور اس سے عالم اسلام کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن پھر بھی بہت سے مسائل کو مفاہمت سے حل کیا جا سکتا تھا۔ یہ پہلے اسلئے نہیں ہو سکا کہ یہ محض دعوؤں کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ وہ اکیلا ملک نہیں جس نے عالم اسلام کے غلط تصور کو اجاگر کیا ہے۔ دنیا میں ایسے ممالک اور قائدین موجود ہیں جواپنے رویوں اور معاملات سے اسلام کی غلط تصویر پیش کر رہے ہیں، جس سے صرف قرآن دشمنوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ہمیں اپنے قول پر جمے رہنا چاہئے اور ہر عمل کا پورا جذبہ ہونا چاہئے۔ ہمارے دل میں دشمنی کے لئے بالکل کوئی جگہ نہیں ہونی چاہے۔ اس میں کوئی شک نہ رہے کہ آنے والی صدی محبت اور مکالمہ کے پروان چڑھنے کی صدی ہے۔ نفرتیں ختم ہوں گی اور محبت اور تحمل ہر طرف پھیلے گا۔ اس کے امکانات روشن ہیں اس لئے کہ ہم گلوبلائزیشن دیکھ رہے ہیں۔ انشاءاللہ جب وقت آئے گا تو مقدس لوگ اس کام کو سرانجام دیںگے۔

مر دم ہائے محبت:

محبت کے لوگ جیسے رومی، یسیوی، اور بدیع الزمان وغیرہ کا خدا سے رشتہ ہم سے زیادہ مضبوط تھا اس لئے انکے ناکام ہونے کے امکانات کم تھے۔ اس لئے انہوں نے محبت، شفقت اور تحمل کے سلسلے میں بے انتہا کام کئے اور اپنے اردگرد لوگوں کو آمادہ و متاثر کیا۔ لیکن اگر ہم ان کے دور کا آج سے موازنہ کریں تو آج ان کے مقابلے میں مکالمہ اور تحمل کی فضا زیادہ ہموار ہے اور اس کے پیچھے انہی کی کاوشیں کار فرما ہیں۔ انکے ساتھ تو بدسلوکیاں بھی کی گئیں اور اکے مقابلے میں جو ہم نے دیکھا وہ کچھ نہیں ہے۔ بدیع الزمان نے اپنے ابتدائی دور کو اس طرح بیان کیا ہے۔

´کیا وہ سمجھتے ہیں کہ میں خود غرض ہوں صرف اپنے فائدے کی سوچتا ہوں؟ معاشرے کے ایمان کو بچانے کے لئے میں نے ساری زندگی قربان کر دی ہے اور آخرت کا کبھی سوچا بھی نہیں۔اپنی ۸۰ سالہ زندگی میں میں نے دنیا کی کوئی لذت حاصل نہیں کی۔ میں نے اپنی زندگی میدان جنگ ، ملک کی جیلوں، قیدو بند اور عدالتوں میں گزاری دی ہے۔ انہوں نے میرے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا اور قریہ قریہ پھراتے رہے اور مسلسل نگرانی کرتے رہے۔ کوئی ایسی تہمت نہیں جو مجھ پر نہ لگی ہو۔کوئی ایسا دباؤ نہیں جو مجھ پر نہ ڈالا گیا ہو۔ لیکن اگر مجھے پتہ ہوتا کہ معاشرے کا ایمان محفوظ ہے تو مجھے اس کی پرواہ نہ ہوتی، چاہے مجھے دوزخ کی آگ میں بھی جلا دیا جاتا۔ اس لئے کہ جب اس حالت میں میرا جسم سوزاں ہوتا، لیکن میرا دل تو گلابستان کی طرح دمک رہا ہوتا" (بدیع الزمان سید نورسی،Tarince-i-Hayati سوانح عمری)

ان سب مشکلات کے باوجود مردم ہائے محبت نے اپنے دور میں وہ قبولیت نہیں دیکھی جو آج مکالمہ اور تحمل کے نمائندوں کو مل رہی ہے۔ ان کے پیغام نے عوام پر وہ اثر نہیں ڈالا جو آج مکالمہ اور تحمل کے نمائندے ڈال رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر وہ لوگ اس صدی میں زندہ ہوتے اور مکالمہ اور تحمل کی طرف عوام کا رجحان دیکھتے تو ضرور پوچھتے "تم دنیا بھر میں مکالمہ کرانے میں کامیاب کیسے ہوگئے۔ اس کا کیا راز ہے"؟

روشنی کے ان میناروں کے مقدر میں یہ اعزاز اس لئے نہیں تھا کہ اس وقت حالات سازگار نہ تھے۔ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس راہ پر استقلال سے رہا جائے۔ کل ایک مشہور بندے نے مجھ سے کہا "کل تک جو حلقے مسلمانوں کی مخالفت کر رہے تھے، آج انکی مدد اور تعریف کر رہے ہیں"۔ یہ استقلال ان کے احساسات کا مظہر ہے۔ اس کو نظر انداز کرنا انتہائی نا شکری ہوگا اور اس کو دیکھ کر شکر بجا نہ لانا ایک طرح کا کفر ہوگا۔

مومن بننےکیلئے کیا چاہئے

آج سب چیزوں سے زیادہ ہمیں ایک نسل کی ضرورت ہے جو خدا کے فریضہ کو ادا کرنے کے لئے پر شوق ہو اور ایسے مثالی بندوں کی ضرورت ہے جو معاشرے کی راہنمائی کر سکیں۔ ہمیں ان مثالی راہنماؤں کی ضرورت ہے جو انسانیت کو شرک جہالت ظلم اور تعدی کی لعنت سے چھٹکارہ دلا سکے اور ایمان، بصیرت، منزل حق اور امن کی طرف راہنمائی کر سکے۔ ہر موقع پر تناؤ کے کچھ اذہان ایسے رہے ہیں جو مذہبی، ذہنی، سماجی، کسبی اور اخلاقی تناؤ کے دوران لوگوں کی راہنمائی کرتے رہے ہیں۔ان اذہان نے انسانیت، کائنات، موجودات اور اسکی جامعیت کی تشریح نو کی ہے۔ اور یہاں تک کہ موجودات کی پس منظر اور ہمارے خیالات کے طریق کار کی دوبارہ وضاحت کی ہے۔ لوگوں نے بارہا کفن سے اپنی قمیص بنائی ہے۔ انہوں نے چیزوں اور مظاہر قدرت کی کئی بار تشریح کی ہے۔انہوں نے کتاب موجودات - جو کہ تنگ نظر ذہن والے افراد کے نزدیک اپنا رنگ اور اپنی چمک کھو چکی ہے اور ہلکا رنگ لے رہی ہے – کو گایئگی کے انداز میں پڑھا ہے اور اسےگہرائی تک محسوس کیا ہے۔ انہوں نے اسے ایک نمائش کی طرح دیکھا ہے۔ انہوں نے کائنات کو موسم بہ موسم اور پیراگراف بہ پیراگراف تجزیہ کر کے اس کے قلب میں چھپے سچ کو نکالا ہے۔

ان عظیم لوگوں کی سب سے نمایاں خوبی وہ ایمان اور کوشش ہیں جو وہ دوسروں کو ایمان کا تجزیہ کرنے کےلئے لگاتے ہیں۔ اس ایمان اور ان کوششوں کے ساتھ انکا یقین ہے کہ وہ ہر چیز کو عبور کر کے خدا تک پہنچ جایئں گے اور ان کا یقین ہے کہ وہ امن لائیں گے۔ اس دنیا کو جنت نظیر بنائیںگے اور عدن ان کا میں مقام بلند کردیں گے۔

حقیقت میں اس نظام کی خصوصیات یا پیچیدگیاں کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، دنیا کا کوئی نظام، طرز تدریس یا فلسفہ ایسا نہیں ہے کہ اس نے انسانیت کے ایمان پر اتنا مثبت اثر ڈالا ہو۔ جب ایمان اپنی شکل کے ساتھ لوگوں کے قلوب میں داخل ہوتا ہے، تو کائنات، مقاصد اور خدا کے متعلق لوگوں کے خیالات یکسر بدل کر، اتنے گہرے اور وسعت پذیر ہو جاتے ہیں کہ یہ موجودات کا تجزیہ اس طرح کرنے لگتے ہیں گویا وہ کھلی کتاب دیکھ رہے ہوں۔ جو کچھ یہ لوگ اپنے ارد گرد دیکھتے تھے، جو چیزیں انکی دلچسپی کو مدعو نہیں کرتی ہیں، جو چیزیں بے معنی اور بے حقیقت ہوتی تھیں، وہ اچانک بدل کر دوستانہ اور محبوبانہ ہو جاتی ہیں اور گلے لگانا شروع ہو جاتی ہیں۔ دل کو گرمانے والی اس فضا میں لوگوں کو اپنی قدر کا درجہ پتہ چل جاتا ہے، ان کو سمجھ آجاتی ہے کہ وہ موجودات کا ضمیر اور منفرد حصہ ہیں۔ وہ کائنات کے صفحات اور لکیروں میں پر پیچ اور لمبے راستوں کے عجوبوں کو سمجھ جاتے ہیں۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہر چیز کے پردے کے پیچھے چھپے راز کو پانے ہی والے ہیں۔ پھر وہ اس سہ جہتی دنیا کی تنگ قید سے آزاد ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو ابدیت کے کھلے میدان میں پاتے ہیں۔

دراصل تمام مسلمان اپنی شناخت کی گہرائیوں میں چھپے خیالات اور اپنے ایمان کے درجے کے مطابق اپنی حدود میں لا محدود ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ وہ جگہ اور وقت کی قید میں ہوتے ہیں لیکن غیر ممنوعہ مخلوق اور خوبیوں کا مجموعہ بن جاتے ہیں اور ایسی سطح تک پہنچ جاتے ہیں جو جگہ کی قید سے آزاد ہو چکے ہوتے ہیں اور جہاں وہ فرشتوں کے نغمے سن سکتے ہیں۔ یہ مخلوق جو پانی کی طرح بے شکل گودا معلوم ہوتی ہے، جو کہ غیر اہم مخلوق ہے، لیکن حقیقت میں جو عظیم فائدہ اس کو حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کی اتنی اہمیت بڑھ جاتی ہیں کہ زمین اسکے اندر چھپی سانس (روح) کو دریافت کرنے کا مچان بن جاتی ہے۔ وہ ایسی مخلوق بن جاتے ہیں جو آسمان و زمین کے بیچ سما نہ سکے، ایسی خلائی مخلوق جو شمال و جنوب دونوں اقطاب تک پہنچ جائے۔

وہ ہمارے درمیان بیٹھتے ہیں، جہاں ہم قدم رکھتے ہیں وہ بھی وہیں قدم رکھتے ہیں، اور دوران نماز وہیں سر رکھتے ہیں جہاں ہم سر رکھتے ہیں، لیکن وہ اپنے پاؤں اور سر کو جوڑ کر ایک طرح مدوّر بن جاتے ہیں۔ وہ خدا کے سامنے جھکتے ہیں، اس کے سامنے وہ جھکاؤ کیطرح ہو جاتے ہیں تا کہ اس تک پہنچ جایئں۔ وہ ان آفاق تک پہنچ جاتے ہیں کہ ایک قدم میں خدا کے قریب ترین پہنچ جائیں۔ وہ اپنے پروں کو باقی ارواح کی طرح اسی آسمان میں پھڑپھڑاتے ہیں، اور انسانی شکل میں آسمانی مخلوق بن کر زندہ رہتے ہیں۔ ایسے قلوب ہمیشہ رحمت والے احساسات کو ترقی دیکر اور پھیلا کرانفرادیت کو عبور کرجاتے ہیں۔ وہ ایک طرح سے اجتماعی شخصیت بن جاتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو گلے لگاتے ہیں۔ وہ ہر ایک کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں اور مخلوق کو اسکی کلیت کے ساتھ پر خلوص سلام پیش کرتے ہیں۔ وہ ہر چیز اور ہر انسان میں رنگ دیکھتے، شکلوں کا مشاہدہ کرتے اور مقدس بصیرتوں سے واقف ہوتے ہیں۔ وہ جنت کی آواز تقریباً ہر فریکؤنسی پر سن سکتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ فرشتوں کے پروں کی آواز بھی سن رہے ہیں۔ وہ خوبصورتیوں کا وسیع جشن، رعد کے ڈرا دینے والے بانوں سے لیکر پرندوں کے خوش کن نغموں تک، سمندر کی ہلاک کرنے والی لہروں سے لیکر، دریا کی مسحور کن آواز تک جو خلود کا احساس دلاتی ہے، تنہائی کی لکڑیوں کے طلمساتی انعکاس سے لیکر خوف دلانے والی بلندیوں تک جو آسمانون کو چھونا چاھتی ہیں، سحر بھری ہواؤں، جو سبز پہاڑوں کو چھو کر گزرتی ہیں، سے لیکر پھوٹنے والی خوشبو تک جو باغات سے نکل کر ہر طرف پھیل جاتی ہے، دیکھتے، سنتے اور محسوس کرتے ہیں۔ جو کہتے ہیں: "یہی زندگی ہوگی" وہ نمازوں کے اندر اسماء حسنی کا ورد کرتے ہوئے اپنی سانسوں کو اسکی مناسب وقعت دیتے ہیں۔

وہ اپنی آنکھوں کو کھولتے اور بند کرتے ہیں، انکی جبین نیاز ہمیشہ زمین پر لگی رہتی ہیں جیسے کہ وہ دروازے کی دہلیز پر سر رکھے اس کے کھلنے کا انتظار کر رہے ہوں۔ وہ دروازے کی دوسری سمت کا اشتیاق سے انتظار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ کب فراق اور انتظار ختم ہوگا اور امن اور قربت ان کی روح کو مقدس نقش کی طرح گھیرے گی۔ وہ اپنی ارواح کے ملنے کی خواہش میں، سکون ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کبھی اڑتے ہوئے اور کبھی زمین پر رینگتے ہوئے، ہر چیز اور ہر شخص کے ساتھ خدا کی طرف دوڑ لگائے رکھتے ہیں۔ وہ ہر جگہ میں، دوبارہ ملنے کے سائے میں 'شب زفاف"[3] کے مزے لیتے رہتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے لگی کئی طرح کی انتظار کی آگ بجھاتے رہتے ہیں۔ اور ہر موڑ پر ایک نئے شعلے سے آگ پکڑتے ہیں اور جلنا شروع کر دیتے ہیں۔ کسی کو کیا پتہ کہ کتنی بار وہ اپنے آپ کو "خدا کی قربت" کے سانس میں گھرا پاتے ہیں، اور کتنی بار انکا دل تنہائی اور ان لوگوں کے المیے کے ساتھ جو اس روحانی فیضان کو محسوس نہیں کرتے، زخمی ہوتا ہوگا۔

درحقیقت وہ ارواح جو اس طرح کے کشادہ آفاق رکھتی ہوں، اپنے آپ کو اس جھکاؤ پر پاتے ہیں، جو نئی سلطنت تک لے جاتا ہو، جو ہمیشہ انسانی اقدار کی بلندیوں کے لئے عمد اور انقلاب سے بھرپور ہو۔ وہ سوچتے ہیں کہ ایمان اور اسکے پیچھے چھپی طاقت کے ساتھ مزید کتنی طاقتوں کو حاصل کر سکتے ہیں اور کتنی کامیابیاں پا سکتے ہیں۔ وہ اپنے آفاق اور منظر کو کشادہ رکھ کر اور دلوں کے اطمینان کے ساتھ بغیر تھکاوٹ کے دوڑتے رہتے ہیں۔ ہر نئی جگہ پر اپنے ماحول سے ان کا تعلق بڑھتا اور گہرا ہوتا رہتا ہے۔ چاہے انہیں پتہ ہو یا نہ ہو لیکن جب ہو اپنی روح کو سنتے ہیں تو وہ اپنے کو امن کے نہ ختم ہونے والے پہاڑ پر پاتے ہیں۔ انتظار اور جدائی کے کئی سارے مقاصد، جو وہ دوسرے لوگوں میں دیکھتے ہیں، کے باوجود کبھی سڑک یا گھر کے متعلق اکتاتے نہیں ہیں۔ اس لئے کہ ان کو پتہ ہے کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور انہیں کہاں اور کس طرف جانا ہے، اور وہ دنیا کی کھیتی کی بوائی اور تقسیم سب سے واقف ہوتے ہیں۔ اور ان کو پتہ ہے کہ وہ ایک خاص راستے کی مشقت پر کسی مخصوص مقصد اور منشا سے دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ وہ نہ تو راستے کی مشقت سے اکتاتے ہیں، نہ ہی دوسرے لوگوں کی طرح خوف، پریشانی اور مشکلات کو محسوس کرتے ہیں۔ وہ اس امید کے ساتھ اور اس بلندی پر پہنچنے کی خوشی کے ساتھ خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں جہاں نیلے آسمانی جیسے مستقبل کے خواب ہوں۔

دراصل وہ شرک، جس کے ساتھ دنیا لمبے ڈگ بھرتی ہے، ایمان کے یہ عالی حوصلہ ہیرو اپنے ایمان کے درجے تک، اپنے راستے بناتے ہیں جیسے وہ جنت کی وادیوں کے ساتھ گھوم پھر رہے ہوں اور اس کے سوا کوئی سانس نہ لے رہے ہوں۔ دوسری جانب خدا کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر وہ پوری کائنات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ وہ کوئی بھی مشکل پاٹ سکتے ہیں۔ گرچہ ہر طرف انہیں تباہی اور ہلاکتیں نظر آئیں وہ اندوہ میں مبتلا نہیں ہوتے۔ وہ کبھی دہشت میں مبتلا نہیں ہوتے چاہے ان کے سامنے دوزخ بھی آجائے۔ وہ ہمیشہ اپنا سر بلند رکھتے ہیں اور خدا کے سوا کسے کے سامنے نہیں جھکاتے۔ وہ کسی کے آگے جھکتے نہیں، نہ کسی سے کچھ توقع رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی سے احسان لیتے ہیں۔ جب وہ فاتح ہوتے ہیں اور پیہم کامیابیاں حاصل کرتے ہیں تو یہ سوچ کر خوف سے دہل جاتے ہیں کہ اصل میں یہ ان کا خدا کے ساتھ وفاداری کا امتحان ہے۔ عین اسی وقت وہ عاجزی سے جھک جاتے ہیں اور خوشیوں کے آنسو بہاتے ہیں۔ انہوں نے ناکامیوں پر عزم مصمم کے ساتھ صبر کرنا بھی سیکھا ہے۔ وہ ارادہ کو مضبوط کر کے دوبارہ نیا سفر شروع کرتے ہیں۔ کسی انعام کے ملنے پر وہ متکبر اور نا شکرے نہیں ہوتے۔ اور جب محرومی آئے تو رنج و الم میں بھی مبتلا نہیں ہوتے۔

لوگوں کے ساتھ معاملات میں وہ پیغمبرانہ دل رکھتے ہیں وہ ہر ایک کو پیار اور گلے لگاتے ہیں۔وہ دوسروں کی غلطیوں سے صرف نظر کرتے ہین لیکن اپنی چھوٹی سے چھوٹی غلطی پر بھی اپنی باز پرس کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی غلطیوں کو نہ صرف عام حالات میں بلکہ شدید غصے کے عالم میں بھی معاف کر دیتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ بھی پر امن رہنا جانتے ہیں جو بہت زیادہ غصہ والے ہوں۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو جتنا ممکن ہو معاف کرنا سکھاتا ہے۔ اور یہ بھی کہ مسلمان نفرت، بغض اور انتقام کے جذبات کے غلام نہ بنیں۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو خدا کے راستے پر سمجھتے ہیں کبھی نہیں ہوسکتا کہ وہ اس مذکورہ کیفیت سے مختلف ہوں۔ کسی اور طرح کا رویہ اپنانا یا سوچنا بالکل ممکن نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس اپنے سارے اعمال میں وہ دوسرں کو خوش کرنے کے ذرائع ڈھونڈتے ہیں۔ وہ دوسروں کا بھلا سوچتے ہیں اور اپنے دلوں میں محبت کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ بغض اور نفرت کے خلاف غیر متناہی جنگ کی جا سکے۔وہ اپنے گناہوں کی تپش، افسوس کے ساتھ جلتے ہوئے محسوس کرتے ہیں اور دن میں چند مرتبہ اپنے برے خیالات کا گلا گھونٹتے ہیں۔ وہ اپنا کام دلجمعی سے شروع کرتے ہیں اور اچھائی اور خوبصورتی کو ہر طرف پھیلانے کے لئے تخم ریزی کی زمین ہموار کرتے ہیں۔ رابعہ عدویہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ ہر چیز کو میٹھی شربت سبجھ کر قبول کرتے ہیں، چاہے وہ زہر ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر ان سے نفرت سے ملا جائے وہ تبسم کے ساتھ خوش آمدیدکہتے ہیں۔ اور وہ بڑے بڑے لشکروں کو محبت کے ناقابل شکست ہتھیاروں سے ہزیمت پہنچاتے ہیں۔ خدا ان سے پیار کرتا ہے اور وہ خدا سے پیار کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ محبت کی خوشی سے مسرور ہوتے ہیں اور محبت کئے جانے پر درخشندہ خوشیاں محسوس کرتے ہیں۔ ان کے عجز کے پر ہمیشہ زمین پر رہتے ہیں، اور گلاب کے پھول پیدا کرنے کی غرض سے مٹی بننا بھی گوارا کرلیتے ہیں۔ جس طرح وہ دوسروں کی عزت کرتے ہیں وہ اپنی عزت نفس ک بھی خیال رکھتے ہیں۔ وہ اپنی شاملیت، محبت، شرافت اور اچھائی کو کبھی اپنی کمزوری نہیں بننے دیتے۔ وہ دوسرے لوگوں کی ملامت یا برے اندازوں کو قابل التفات نہیں سمجھتے اس لئے کہ وہ ایمان کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ وہ اپنی سوچ کے زاویے کے نور کو ضائع کرنے سے بچاتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے اچھا مومن بننا سیکھ لیا ہے۔

خدا کے پرستار نفوس

وہ لوگ جنہوں نے خدا کی رحمتوں بھری رضا اور اس سے محبت کرنے اور کئے جانےکے آئیڈیلز کو اختیار کیا ہے، انکا سب سے زیادہ قابل ذکر خاصہ یہ ہے کہ وہ کسی سے مادی یا روحانی توقع نہیں رکھتے۔ نفع، دولت، قیمت، راحت وغیرہ جیسی اشیاء جن کے لئے دنیا کے لوگ بہت کچھ کرتے ہیں، ان لوگوں کے ہاں ان چیزوں کی نہ تو اتنی اہمیت و وقعت ہے اور نہ ہی ان چیزوں کو وہ معیار تسلیم کرتے ہیں۔

ان پرستاروں کےلئے ان کے آئیڈیلز کی وقعت زمینی چیزوں سے زیادہ ہوتی ہے، اتنی زیادہ کہ ان لوگوں اپنی چاہت یعنی خدا کی رضاسے ہٹانا مشکل ہوتا ہے۔ عارضی اور منتقل ہو جانے والی اشیاء سے ہٹ کے یہ پرستار اپنے دل میں خدا کی طرف متوجہ ہونے کی ایسی تبدیلی پاتے ہیں کہ انہیں اپنے آئیڈیلز کے سوا کوئی مقصد ہی نظر نہیں آتا، اس لئے کہ وہ لوگوں کو خدا سے پیار کرنے اور کئے جانے کےلئے وقف کر دیتے ہیں۔ اور اپنی زندگی دوسروں کو روشن کرنےمیں لگا دیتے ہیں اور چونکہ وہ اپنے مقصد کو اسی ایک جانب مبذول کراچکے ہوتے ہیں، جو ایک طرح سے انکے آئیڈیلز کی طرف ہی پیش قدمی ہوتی ہے، تو وہ لوگ تفریق کا باعث بننے والے اور معاندانہ خیالات جیسے "وہ لوگ" ، "ہم لوگ" ، "دوسروں کا" اور "ہمارا" سے اجتناب کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو دوسروں سے کوئی مسئلہ – ظاہری یا باطنی – بھی نہیں ہوتا۔ اسکے مقابل ان کے خیال کو محور یہ ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کےلئے کس طرح کارآمد بن سکتے ہیں اور اس سماج، جس کے وہ عضو ہیں، سے اختلافات کیسے ختم کئے جا سکتے ہیں۔ جب وہ معاشرے میں کوئی مسئلہ دیکھتے ہیں تو روحانی قائد، نہ کہ جنگجو کی طرح، کام کرتے ہیں کہ دوسروں کو کسی بھی طرح کے سیاسی غلبہ یا طرز حکومت سے بچتے ہوئے نیکی اور پر شوکت روحانیت کی طرف لے جایا جائے۔ان جان نثار لوگوں کی ارواح کی گہرائی میں باقی عوامل کے علاوہ، علم کو استعمال اور اخلاقیات کا صحیح اور مناسب سمجھنا اور اس کی زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرنا، وفاشعاری پر مبنی نیکی اور اس سے عدم عنصر کا جاننا ہوتے ہیں۔ وہ لوگ شہرت، مفادات پر مبنی سرد پروپیگنڈہ اور نمائشی کام اور اعمال جیسی چیزیں، جو مستقبل میں یعنی آخرت میں کسی طرح بھی کام آنے والی نہیں ہوتی، سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ مزید برآں اپنے اصول کے مطابق رہتے ہوئے وہ انتھک کوشش کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی قیادت کریں جو اعلی انسانی اقدار کے احترام کودیکھیں یا آغاز کریں۔ ایسا کرتے ہوئے یہ لوگ کبھی بھی، کسی سے فائدہ یا نرمی کے متمنی نہیں ہوتے اور مکمل کوشش کرتے ہیں کہ اسکے مقابل کوئی ذاتی فائدہ یا منافع وصول نہ کریں۔ وہ ان چیزوں سے ایسے بچتے ہیں جیسے سانپ یا بچھو سے بچا جاتا ہے۔ آخر کار ان کی اندرونی امارت کے پاس مرکزجو طاقت آجاتی ہیں جو کسی قسم کی تشہیر، شیخی یا طمطراقی سے مانع ہوتی ہے۔ ان کا ملنسار رویہ جو کہ انکی ارواح کا مظہر ہوتا ہے، اس درجہ کا ہوتا ہے کہ وہ دلوں کو موہ لیتا ہے اور دانشمند لوگوں کو ان کی اتباع پر لگا دیتا ہے۔

اس وجہ سے یہ پرستار کبھی نہیں چاہتے کہ اپنے آپ کو اچھالیں، تشہیر کریں یا پروپیگنڈہ پھیلائیں، نہ ہی انکی خواہش ہوتی ہے کہ مشہور ہوں یا قابل تعریف ہوں۔ اسکے مقابلے مین وہ اپنی ساری طاقت اور قوت لگا کر کوشش کرتے ہیں کہ روحانی زندگی حاصل کریں۔ وہ اپنے ان اعمال کو خلوص اور خدا کی رضا کے حصول کی بنیاد پر انجام دیتے ہیں۔ دوسرے لفطوں میں وہ چاہتے ہیں کہ ہر عمل میں خدا کی رضا حاصل کریں اور انتھک کوشش کرتے ہیں کہ یہ ارفع مقصد حاصل کرتے ہوئے اپنے پیغمبرانہ جذبہ کو دنیاوی توقعات، جذبات اور دوسروں کی طرف سے مشتاقانہ تعریفات سے اپنے آپ کو ملوث نہ کریں۔ چونکہ آج ایمان، اسلام اور قرآن پر تنقید ہو رہی ہے اور لوگ مختلف طرح کے سوالات کر رہے ہیں، ان لوگوں کو چاہئے کہ اپنی ساری توانائی ان حملوں کا جواب دینے میں صرف کریں۔ ضروری ہے کہ افراد کو ان کے اسلامی احساسات اور خیالات میں مدد دی جائے اور لوگوں کو بے مقصدیت سے ہٹا کر اعلی آئیڈیلز کی طرف لیجایا جائے۔ اس ضرورت کو پورا کرنا اس حد تک کہ لوگ کسی چیز سے ممنون نہ ہوں اور کسی چیز کی تمنا نہ کریں، تبھی ممکن ہے کہ ایمان کو قلوب میں ایک بار پھر ایک نئےطریقے اور انداز سے تازہ قوت بخشی جائے۔ اس کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ لوگوں کو روحانی زندگی کی طرف دوبارہ راہنمائی کی جائے۔ اس طرح کی سوچ انتہائی ضروری ہے، خصوصاً آج کے دور میں جبکہ لوگ سماجی زندگی میں تبدیلی اور قلب ہیئت پر انحصار کر رہے ہیں اور اسے نئے انداز میں شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جب روحانی زندگی کی طرف راہنمائی کی جائے گی تو اجماع، رضا مندی اور تضامن ہوگا، جب کہ صرف تبدیلی کی بات ہوگی تو اختلافات، تقسیم اور حتی کہ لڑائی بھی ہوسکتی ہے۔ پرستار کبھی اپنی زندگی میں خلا یا توجیہات محسوس نہیں کرتے۔ شکر ہے کہ وہ اس متحدہ راہنمائی کو سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف وہ توجیہ، سائنس اور منطق کو بطور خاصہ ایمان سمجھتے ہوئے قبول کرتے ہیں۔خدا کے قرب - جو کہ کسی کی صلاحیتوں پر منحصر ہے اور سمندروں میں جو کہ الہی اتحاد کی طرح ہے - میں گھل کر، ان کی زمینی خواہشات اور جسمانی لذتیں ایک نیا طریقہ (خدا کی رضا مندی سے حاصل ہونے والی روحانی خوشی) نئے انداز سے پالیتے ہیں۔

سو پرستار اپنی روحانی زندگی میں خاکی لوگوں سے بات کرتے ہیں، فرشتوں کی طرح سانس لیتے ہیں اور دنیا میں اپنی زندگی کی جائز ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ پرستار حال اور مستقبل دونوں سے متعلق نظر آتے ہیں۔ انکا حال کی زندگی سے تعلق اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ وہ جسمانی قوتوں کو لاگو کرتے اور پورا کرتے ہیں۔ اور جو چیز انکو مستقبل سے جوڑتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہر مسئلے کا اپنی روحانی زندگی اور دل کی روشنی میں تجزیہ کرتے ہیں۔ زندگی کی خواہشات کو روکنے،جو روحانی زندگی سے ممکن ہوتا ہے، سے لازم نہیں آتا کہ دنیاوی زندگی کو یکسر چھوڑ دیا جائے۔ اس وجہ سے یہ لوگ مکمل طور پر اس دنیا سے یکسر نفرت نہیں کرتے۔ یہ لوگ دنیا کے کناروں پر کھڑا ہونے کے بجائے اس کے بیچ میں کھڑے ہو کر حکمرانی کرتے ہیں۔ لیکن یہ موقف محض دنیاوی زندگی کے لئے نہیں، بلکہ جسمانی طاقتوں کو کام میں لانے اور ہر چیز کو آخرت سے جوڑنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔

حقیقت میں یہی طریقہ ہے کہ جسم کو اپنے سانچے میں اور روح کو اسکی آفاق میں رکھا جائے۔ دل اور روح کی سربراہی میں زندگی گزارنے کا یہی طریقہ ہے۔ عارضی اور چند روزہ جسمانی زندگی صرف اس حد تک ہونی چاہئے جتنا جسمانی ضرورت ہو۔ جبکہ روحانی زندگی جو ابدیت کےلئے ہمیشہ کھلی ہوتی ہے، کو ہمیشہ بے انتہا طلب کرنا چاہیے۔ اگر کوئی صرف اعلی اور خلائی خیالات سوچتا ہے، اگر کوئی مالک کی رضا کے مطابق زندگی گزارتا ہے، اگر کوئی دوسروں کو روشن کرنے کے زندگی کے بنیادی اصول سمجھتا ہے اور اگر کوئی ہمیشہ صرف نقطہ عروج طلب کرتا ہے تو پھر وہ فطری طور پو عظیم پروگرام پر عمل کرنے والا بن جاتا ہے۔ اور پھر ایک خاص حد تک اپنی خواہشات اور جذبات پر قابو پا لیتا ہے۔

ظاہر ہے ایسی زندگی گزارنا کافی مشکل ہے لیکن پھر بھی جن لوگوں نے اپنے آپ کو خدا کےلئے وقف کر دیا ہے، ان کے لئے یہ مشن پورا کرنا آسان ہے۔ جو اس کے نام کو بلند کرتے ہیں، ان لوگوں کے لئے جو خدا کے دروازے سے سرگرمی سے معاوضہ طلب کرتے ہیں تا کہ لوگوں کو اس کی پہچان ہو سکے، جبکہ ان کا ایک ہاتھ لوگوں کے دلوں کے دروازوں پر ہوتا ہے اور دوسرا خدا کے دروازے پر ہوتا ہے۔ اصل میں ان لوگوں کےلئے جو اپنی آغوش میں خالق کی گرمی کو محسوس کرتے ہوں کوئی مشکل مشکل نہیں ہوتی۔ اور جو اپنے دلوں سے معاشرے تک کبھی تو خوف کے ساتھ اور کبھی دوستانہ محبت کے ساتھ ایمان داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خدا اپنی مہربانی ان پیغمبرانہ قلوب پر نازل فرماتا ہے، جو سب سے پہلے اپنی نگاہیں صرف خدا پر لگاتے اور اسی کو سوچتے ہیں تا کہ اس تک پہنچنے تک کوئی لمحہ ضائع کئےبغیر اسے پا سکیں۔ اپنا مقدس وجود ان میں ظاہر کرتے ہوئے خدا پر ایک کو یاد دہانی کراتا ہے کہ ان لوگوں کی قدرکریں اور وہ خاکیوں کی اس وفادری کے ایک چھوٹے سے نمونے کو ایک بہت بڑے الہی وفا کے ساتھ بدلہ دیتا ہے۔ ذیل میں خدا کی رحمت کے بحر بیکراں کا ایک قطرہ بطور نمونہ پیش ہے۔

"ان لوگوں کو نہ دھتکارو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہوئے اسکی رضا کے متلاشی ہیں، نہ انہیں کوئی آپ کے کھاتے سے غرض ہے نہ ہی آپ کو ان سے کوئی سروکار ہونا چاہیے(الانعام:۵۲)

یہاں جن لوگوں کے متعلق اللہ تعالی نے محمدﷺ کو ہدایت کی ان انکو "نہ دھتکاریں" وہ لوگ ہیں جو حضورﷺ سے اکثر ملتے تھے اور جنہوں نے اپنے آپ کو خدا کی رضا کےلئے وقف کر دیا تھا۔

اگر یہ پرستاری صدق دل سے اور خلوص کے ساتھ ہو تو بہت زیادہ امکان ہے کہ جتنا زیادہ یہ لوگ خدا کی رضا چاہتے ہیں خدا ان پر اتنی ہی زیادہ نعمتیں بھیجے گا۔ اور جتنا صدق دل سے وہ خدا سے جڑنا چاہتے ہیں اتنا زیادہ خدا ان کو قبول کرے گا اور اجر دے گا۔اور اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ وہ خدا کے ساتھ اعلی مکالمات تک پہنچ جایئں گے ۔

ان لوگوں کا ہر خیال، لفظ اور عمل اگلے جہاں میں ایک روشن فضا کی شکل اختیار کر لے گا۔ ایک ایسی فضا جسے قسمت کا مسکراتا چہرہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ خوش قسمت لوگ جو اپنے بادبان کو اپنی قسمت کی چمکتی ہواؤں سے بھر لیتے ہیں کسی اور چیز سے دل لگائے بغیر خدا کی طرف خصوصی رحمت کے ساتھ روانہ ہوتے ہیں۔ قرآن نے اس طرح کے لوگوں کے متعلق جو کچھ کہا ہے وہ دیکھنے کے قابل ہے۔

"یہ ایسے لوگ ہے جن کو تجارت اور خرید و فروخت خدا کی یاد اور نماز اور زکواۃ سے غافل نہیں کرتی، وہ ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں پلٹ جائیں گی، خدا انکو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دے گا اور ا ن پر اپنی رحمت بڑھائے گا، اس لئے کہ خدا جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔(النور:38-37)

سارے غموں اور مصیبتوں کو بھلا کو اور خدا کے سامنے سر تسلیم خم کر کے اور ہر طرح کی مشکلات سے جان چھڑا کر اس قسم کی آزاد روح کو کسی اور چیز کے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس طرح کی کامیابیوں کے مقابلے میں دنیا کی ساری نعمتیں، جذبے اور خوشیاں گندے میزوں پر پڑی خالی پلیٹوں کے سوا کچھ معلوم نہیں ہوتیں۔ دنیا اور اس کی ساری چیزوں کے اعتبار سے وہ خوبصورتی جس کی یہ لوگ اپنی روحانی دنیا میں آرزو کرتے ہیں، وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس سے بڑھ کر بہار میں جو کچھ چمکتا ہے اور اگتا ہے اور گرما میں جو زرد پڑتا ہے، یہ سب اس طرح ہوجاتا ہے جیسے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس حقیقت کو جانتے ہوئے ابد سے مماثل ارواح ہر اس چیز کو بے وقعت سمجھتی ہیں جو ابدی اجزاء پر مشتمل نہ ہو اور اپنے دل کے راستے کے ساتھ چلتے ہوئے انگوروں کے اور دوسرے باغات تک پہنچ جاتے ہیں اور اس دوران اپنے دل کو کسی بھی طرح دنیاوی یا فانی چیزوں میں نہیں لگاتے۔


[1] بخاری ، ایمان،4

[2] بخاری ،ایمان 20؛ مسلم ، ایمان، 63

[3] ایک اصطلاح جو مولانا رومی موت کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔