آج کے پرستار

ارفع آئیڈیلز، بلند مقاصد، موثر اور عالمی منصوبے صرف انہی لوگوں کو سوجھتے ہیں جو اونچا اڑتے، مستقل مزاج، اپنی راہوں پر استحکام سے چلنے والے، پختہ موقف والے اور انتہائی وجد سے معمور ہوتے ہیں۔ ہمیں عام بندوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے، جو الہی حقیقت کے پرستار اور انتہادرجے کے سوچ والے ہوں۔ ایسے لوگ جو اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا کر پہلے اپنی قوم پھر دوسرے لوگوں کی روشن خیالی اور خدا تک پہنچنے میں راہنمائی  کرتے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایسے لوگ ہیں جو ایسا سوچتے ہیں، جو سوچنا چاہئے۔ وہ ایسا جانتے ہیں جسکا جاننا ضروری ہے۔ وہ بغیر جھجک کے اس پر عمل کریں جو وہ جانتے ہیں، اور اسرافیل کی طرح آخری صور منہ میں لئے پھرتے ہیں تاکہ مردہ لوگوں کو یوم آخرت کی طرف تیار کرکے لے جایئں، اور ہر ایک میں امید کو بیدار کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کے دل اخلاص کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اگر وہ بیان کر سکیں تو اپنے دل کے وجدان کو بول کر، اگر لکھ سکیں تو لکھ کر، اگر شاعر ہوں تو شعر و  شاعری کے ذریعے اور اگر موسیقی پسند ہوں  تو موسیقی کی دلکشی سے اظہار کرتے ہیں۔

اگر ان ہیروز کو سٹیج پر آکر اسکی مثال بننا پڑے تو وہ پوری دنیا میں سفر کرتے ہیں اور آخر کار ایک مقدس ہجرت کے تصور  کے ساتھ وہ اپنی دل کی کہانی زبان سے اپنے ملنے والوں کے گوش گزار کرتے  ہیں۔

وہ اپنے اردگرد میں محبت پھیلاتے ہیں وہ اپنے ملنے والے کے جذبوں میں محبت بھر دیتے ہیں اور انکی آغوش میں محبت کے تخت بنا دیتے ہیں۔ انہی لوگوں کے طفیل وہ نفوس جو محبت اور دوستی کےلئے پیاسے ہوتے ہیں، نئی جلا پاتے ہیں اور انہی لوگوں کی بات، یہ جلانے پانے والے سنتے ہیں۔ جو ہجرت کرتے ہیں وہ بھی اور جو انہیں خوش آمدید کہتے ہیں دونوں آوارگی سے بے بہرہ اور مخلص ہوتے ہیں۔ سننے والوں اور بولنے والوں کے بیچ جو اپنی طینت کا اظہار کرتے اور  جو انہیں مشاہدہ کرتے ہیں، جو مدد کرتے ہیں اور جن کی مدد کی جاتی ہے، جو زندگی کا پیالہ لے کے آتے ہیں اور جو حقیقت کی طرف بیدار کئے جاتے ہیں، کے درمیان کوئی ذاتی مفادات نہیں ہوتے۔ ان کے ہاں خدا کی مرضی کے سوا کوئی چیز قابل اعتبار ہوتی ہی نہیں۔ اس طرح کے بلند پایہ اور مخلص تعلقات، عالمی انسانی اقدار اور وہ عزت جو ان اقدار  کے لئے ہوتی ہے، سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔

دنیا میں کھلے گلاب کے پھول انہی لوگوں کے کھلے چہروں اور مکمل ارواح سے رنگ مستعار لیتے ہیں، انہی کے خیالات سے معاشرتی جغرافیہ میں نقش و نگار بنتے ہیں۔ اور ایسا لگتا ہے، پوری انسانیت ان وقت کی قید سے آزاد نغموں سے گنگناتے رہی ہے۔ ان کے ذرائع کو دیکھتے ہوئے لگے گا کہ اس قسم کے خالص احساسات و نظریات والے چند قطرےہیں، لیکن جو لوگ ا نکےمخفی اعلی معانی کو سمجھتے ہیں، ان کو یہ خوشی سے جھاگ سےبکھیرتے بے کنارہ سمندر معلوم ہوتے ہیں۔

جیسا کہ کام سے ہی ظاہر ہے، روشنی کے یہ گھوڑ سوار ،جو لگتاہے کہ صرف اپنے اردگرد کو چند لمحوں کے لئے روشن کئے ہوئے ہیں،  یہ باران رحمت کے بادلوں کی طرح ہمارے اوپر رحمت، خوشی، محبت اور امید یں برسا رہے ہیں تاکہ ان خشک دلوں کو جو برسات کی تمنا کرتےہیں، جنت کے باغات میں بدل دیں۔ یہ دعوی بے جا  نہیں ہے کہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک زمین بکھرے بیجوں سے بھری پڑی ہے جو رحمت کی پیدائش کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ اسی طرح تمام انسان رحمت کے اس لمحے کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ گر چہ آوازیں اور سدائیں مختلف ہوں لیکن دلوں کی عین گہرائیوں میں جو چیز محسوس کی جا رہی ہے وہ ایک ہی ہے۔ نسیم سحر دریائے حیات سے آواز  لئے، ابراہیمی عطر یوسفؑ کی قمیص سے یعقوب تک پہنچائے جا رہی ہے۔

 اسے ہماری آخری کوشش کہا جا سکتا ہے۔ اپنی منزل کی طرف پیش قدمی، اس طرح انسانیت کوخطاب کئے گئے تجدید نو  کا متبادل پیغام ہے۔  حقیقت میں وہ اقوام  جنکے ساتھ برا کیا گیا ہے وہ ایک عرصے سے امید کی ہوا کے چلنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ وہ انعام یافتہ لائحہ کتنا خوش قسمت ہے کہ ان واقعات کے ساتھ مل گیا ہے اور کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے سینے اس ہوا کو قبول کرتے ہیں۔

ہمیں پر خلوص یقین ہے کہ دنیا کا نقشہ اور ہیئت بدلنے والی ہے اور انسانیت اپنے ان ہیروز کے ساتھ سکون چاہیے گی، جو انسانی اقدار کے یادگار کو بلند کرنے میں مخلص ہیں۔ مستقبل کی دنیا میں انسانی خیالات ان لوگوں کی وجہ سے مزید منفرد ہوں گے۔ انسانی مقاصد حاصل ہوں گے اور  ہمارے بہت سے مقاصد ان لوگوں کے ذریعے پورے ہوں گے۔ یہ آئیڈیلز اس سطح تک حاصل ہو جائیں گے کہ ہماری بہت ساری مثالی خوابوں تک پہنچ جائیں گے۔ یہ سب کچھ ایک ہی دن میں ہو جائے گا۔ اور جب وہ وقت آئے گا تو خالی دل والے پچھتائیں گے، روئیں گے اور ان روشن خیال ارواح سے معافی مانگیں گے۔ لیکن اب ان ضائع شدہ مواقع کا عوض پانے کا وقت گزر چگا ہو گا۔ اگر یہ برے احساسات والی سخت اور تند ارواح وہ دن آنے سے قبل ذرہ شکر گزار اور دیانتدار ہوں تو جس دن وہ برے طریقے سے پچھتایئں گے، تو ان کا مستقبل تاریک نہیں ہوگا۔

دنیا کے ہر خطے کو روشن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایسی پرستاری کے ساتھ جو آپﷺ کے صحابہ کا خاصہ تھی اپنی ذات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اور دوسروں کے لئے زندہ رہنے کی کوشش، طمطراقی کے بغیر  - یا دوسرے لفظوں انتہائی عجز کے ساتھ کام کرتے ہوئے یہ عظیم ہیرو باوجود منفی عوامل کے ایسی عالی ہمتی دکھا رہے ہیں جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی وہ انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، وہ اپنے دل کی گہرائیوں سے سرگوشی کر رہے ہیں اور دنیا میں ہر طرف نرسری کے پودے لگا کر ایک جنت پیدا کر رہے ہیں۔ اور دوسروں کو ابدیت کی طرف بلا رہے ہیں- یہ ہمیشہ وفادار، طےکنندہ، فیصلہ کن اور مستقبل کے بارے میں پرامید ہوتے ہیں۔ وہ راستہ جس پر وہ چل رہے ہوتے ہیں خطرناک بھی ہو سکتا ہے اور ان کو اسکا پتہ بھی ہے۔ انکو پہلے ہی سے معلوم ہے کہ ان کی راہیں مشکل اور پرخار ہوں گی۔ پل ناقابل عبور اور سڑکیں مسدود ہوں گی۔ ان کے سامنے نفرت اور دشمنی کا ہنگامہ بھی ہے۔ یہ سچ ہے کہ انکا اپنے راہوں پر چلنے کا ایمان غیر متزلزل ہے، پھر بھی  وہ اس امکان سے کہ راہ میں ایسی رکاوٹیں ہو سکتی ہیں جو کبھی نہ دیکھی ہوں، پوری  طرح واقف ہیں۔ وہ ان مشکلات کو خدا کے راستے کا حصہ سمجھتے ہیں اور اپنا قدم بڑھاتے ہوئے کبھی جذبات ہارتے نہیں۔ ان مشکلات کے مقابلے میں وہ خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں اور ایمان کے قلعے میں پناہ لیتے ہیں اور زمانے اور اس کے حوادث کو سمجھنے اور خدا کی رضا کی طرف چلنے کی، اس کے وعدے پر یقین کرتے ہوئے کوشش کرتے ہیں۔

در حقیقت کسی کا ان صحیح لوگوں کو جو اپنے قلوب و ذہن کی مفاہمت کے ساتھ جیتے ہیں، اس بات پر قائل کرنا کہ اپنی اقدار   کو جن پر وہ یقین رکھتے ہیں چھوڑ دیں نقصان دہ ہوگا۔ نہ ہی کوئی ان کو خدا کی رضا میں عمل کرنے سے اور اپنے احساسات اور خالق  کےاحساسات کو دنیا میں داخل کرنے  سے روک سکتا ہے۔ اس احساس ذمہ داری و فریضہ کے ساتھ وہ اس قابل ہوں گے کہ پہاڑوں  کی طرح کھڑے ہو سکیں اور طوفانوں اور جھکروں کا مقابلہ کر سکیں اور عناصر کے ساتھ جدوجہد کر سکیں اور ہر موسم  کے اگتے پھلوں کے راز  کو دریافت کر کے گلاب کے پھولوں کو اگانا اور  گلابوں کے نغمے گانا سیکھ لیں گے۔

جہاں تک انکے اعمال کا تعلق ہے وہ گھڑی کی طرح ہمیشہ  قابل اعتبار ہوتے ہیں اور وہ تجدید، تازگی ار راست بازی کی مثال ہوتے ہیں۔ ان کے  رویوں  میں ہم آہنگی ختم ہوتی ہے، نہ ان کے اظہارات میں کڑواہت محسوس ہوتی ہے۔ انکے قلوب فرشتوں کی طرح خالص ہیں اور ان کی زبانیں انکی اندرونی گہرائی  کی سچی ترجمان ہیں۔ اس لحاظ سے ان کے اعمال تقریباً ہمیشہ حسد کا سامان ہوتے ہیں اور ان کے اظہارات خوشی کو پیدا کرتے ہیں اپنی اندر کی سلطنت میں جو وہ لوگ پے درپے سوچتے ہیں وہ خدا کا خیال ہوتا ہے۔ انکے اظہارات میں خدا کی محبت بداہۃً گہری ہوتی ہے۔  موجودات میں تحمل،شفقت، حفاظت اور عفوو درگزر سے محبت انکا منفرد مقصد یعنی خدا کی رضا ہے۔ ان کا اٹل جذبہ یہی ہوتا ہے کہ  کانائت اور مظاہر قدرت کو صحیح طریقے سے پڑھ سکیں۔ ان کی فطرت کا حقیقی رنگ اور لوگوں کیلئے ان کے سینوں کی سمت محبت ہے۔ جس وقت وہ اپنا موقف گہری ترین محبت کے ساتھ خدا کی طرف پیش کرتے ہیں تو وہ پگھل جاتے ہیں اور اس طرح ہو جاتے ہیں کہ سخت دل اور شدت بھری فطرت کے اندر بھی محبت کی طلمساتی کنجی کے ساتھ داخل ہو جاتے ہیں۔ اس وقت وہ لوگ خالق عظیم کی رحمت کے اعزاز کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ محبت کرتے بھی ہیں اور لوگ بھی ان سے محبت کرتے ہیں۔ پیغمبرانہ جذبات  کے ساتھ وہ لوگ انتہائی بے رحموں کے سامنے بھی پہاڑ بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اپنے اردگرد وہ الہی نطروں سے دیکھتے ہیں نہ تو وہ  پڑے پڑے طوفانوں میں ختم ہوتے ہیں نہ ہی شدید زلزلوں میں وہ دہلتے ہیں وہ لہروں اور مسلسل بہتے پانی کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے ہیں اور ہمیشہ عالی ہمتی کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ عظیم لوگ خدا کی رضا کے حصول جیسے بڑے کام کو لینے کے لئے ضروری چیزوں سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ اس لئے اس کو حاصل کرنے کےلئے تیار ہوتے ہیں، چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ اپنی شخصیات کے بارے میں وہ شمع کی طرح نازک اور با وقار ہوتے ہیں، جس کی ترکیب ہی جل کر دوسروں کو روشنی پہنچانے پر ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ مقابلہ باز نظر نہ آئیں پھر بھی دوسرے صوفیاء کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ چاہے ظاہراً جامد ہی نظر آئیں وہ ہمیشہ اندرونی عمل کے لحاظ سے زندہ، پرعزم اور  بے قرار نظر آتے ہیں۔ بارہا وہ سمندروں کی طرح اپنی لہروں سے ماحول کو سیراب کرتے ہیں یا دور کی زمینوں کو بخارات بھرے بادلوں کے ساتھ ٹھنڈا کرتے ہیں۔ قریب یا دور وہ ہر ایک کو آب حیات دیتے ہیں۔ اور زمانوں سے آزمائش میں مبتلا بے شمار اشیاء کو نشاہ دینے کےلئے چکر لگاتے رہتے ہیں، اور اپنے دل کی کہانی دوسروں کو ہمیشہ سناتے رہتے ہیں، اور ایسی گفتگو سے لا تعلقی رکھتے ہیں جس سے معاشرے میں نفرت پھیلے۔

ہمیشہ کی طرح وہ معاشرے کےلئے سودمند رہنے کے خواب دیکھتے ہیں وہ اپنی ارواح کی گہرائی میں دوسروں کے درد اور تناؤ کو مخلصانہ طریقے سے محسوس کرتے رہتے ہیں وہ ہر انے والے کیلئے خوشامدی روش اپنائے رکھتے ہیں اور ان کے مسائل سن کر ان کے حل کیلئے کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ غمزدہ لوگوں کو دلاسہ دیتے اور ان لوگوں کے ساتھ جو دوسرے لوگوں کے غم کو ہلکا کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں، جلدی شامل ہو جاتے ہیں۔ کئی بار وہ بہادری سے اور عزم کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ بھی کرتے ہیں حتی کہ کانٹوں کے بیچوں بیچ بھی گلاب لگاتے رہتے ہیں اور  برابر گلابوں کے نغمے گاتے رہتے ہیں۔

 کبھی کبھی درد اور غم کی شدید تکلیف سے خون کا رنگ بدل دیتے ہیں، اس گلاب کی طرح جو ان بیجوں پر جو اس نے باہر کی دنیا میں بھیجے ہوتے ہیں نوحہ کناں ہوتا ہے۔ کبھی وہ تقریباً برانگیختہ  بھی ہوجاتے ہیں اور ان کے نغمے نوحہ بن جاتے ہیں۔ اس سب کے باوجود وہ اپنے ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر بڑبڑاتے ہیں "سب کچھ خدا کا ہے" اور  مسکراتے ہوئے اپنی جگہ کو گلشن بناتے ہوئے، اپنے مقصد کی طرف چل پڑتے ہیں۔  وہ لوگ جنہیں وہ ہاتھ دیتے ہیں یا جن کو انہوں نے بحال کیا ہوتا ہے وہ ایسے محسوس کرتے ہیں جیسے انہوں نے آب حیات پی لیاہو۔ انکے معاون ہاتھ موسیؑ کے یدبیضا کی طرح چمک رہے ہوتے ہیں۔ انکی انتھک کوشش، جادوگروں کے ٹونے توڑ دیتی ہے اور فرعونی خیالات ماند پڑ جاتےہیں۔

انکی پاس اتنی طاقت اور دولت ہے کہ اس کے مقابلے میں قارون کی دولت بھی ہیچ نظر آئے۔ اگر وہ چاہیں تو پوری دنیا کو اس دولت اور تونگری سے بھر دیں۔ صدقہ کا ترازو - جو انکی زندگی ہے – ہمیشہ سخاوت والی طرف ہی جھکا ہوتا ہے اتنا زیادہ کہ اس سے شیطان بھی غضب آلود  ہوجائے۔

انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ زندگی کہاں لگانی ہے۔ اسکے نتیجے میں وہ عارضی چیزوں کو باقی رہنے والی چیزوں کے بدلے خرید و فروخت کرتے ہیں۔ وہ اپنا وقت ضائع  نہیں کرتے نہ ہی خدمت کرنے میں پیچھے رہتے ہیں۔ ان کی اخلاقی تھکاوٹ انتہائی بلند ہے ان کی قوت ارادی مضبوط ہے اور انکی ہمت مسلسل ہے۔ ایمان اور عمل ان کے دلوں اور رویوں کا اہم ممنون ہیں۔وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور ہمیشہ مستقیم رہتے ہیں۔ وہ بے آمیزش  کھڑے ہوتے ہیں اور دنیا بھر کو روشن کرنے کے مقصد کی طرف عاجزی سے چلتے ہیں۔ وہ ہواوؤں کی طرح اپنے مقدس خیالات کو باہر نکالتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات اپنے اردگرد بیج بکھیرتے ہیں اور بعض اوقات بارش برساتے ہیں، جس سے زمین کی سطح پر زندگی نمودار ہوتی ہے۔ ان کے کاموں میں دھچکے اور مسلسل بحرانات بھی انکو ہلا نہیں سکتے۔ وہ کثرت سے اپنے حلف کی تجدید کرتے رہتے ہیں اور خدا کی دی ہوئی رحمتیں اپنی یاد دہانی کرنے والی ارواح کو دوبارہ بنانے میں صرف کرتے ہیں۔

جہاں کہیں بھی مذہب ، نیکی اور خدا کی رضا نظر آئے، وہ کوشش کرکے وہیں رک جاتے ہیں وہ خدا کے احکامات کو پورا کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔وہ دنیاوی معاملات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اتنی کوشش کرتے ہیں کہ انکو دیکھنے والے انہیں دنیاوی بندہ سمجھتے ہیں جسے آخرت سےکوئی سروکار نہیں ہوتا۔ لیکن جب وہ ان میں محبت دیکھتے ہیں تو ان کو اعلی درجے کا سمجھتے ہیں۔

وہ اپنی زندگی میں بے کار رہنے اور ضائع کرنے سے حقارت کرتے ہیں وہ ہمیشہ مذہبی زندگی کی بحالی کےلئے ہر دم فعال رہتے ہیں، کبھی کچھ لکھ کر اگر وہ پڑھے لکھےہوں تو، اور کبھی پڑھے لکھے لوگوں کو قلم پکڑا کر اگر وہ خود پڑھے لکھے نہ ہوں۔ وہ کاروان خدمت میں ہمیشہ اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ علم کی قدر کرتے ہیں، عقلمندوں کی عزت کرتے اور حساس لوگوں کے ساتھ دوستی کرتے ہیں اور اپنی گفتگو میں مسلسل محبوب لوگوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔

اگرچہ زمین پر حقیقی لوگ نہ رہیں اگر آفاق پر گرد جم جائے اگرچہ گلیوں میں محرومیت چھا جائے اگرچہ کانٹے پھولوں سے بڑھ جائیں، اگر مواقع 'میگ پائی' (یورپی پرندہ) کےساتھ بھر جایئں اور ان کے گانے جگنوؤں کے نغموں کو ماند کر دیں، اگرچہ شہد کے برتنوں کے گرد زنبور  اڑنا شروع کردیں، اگرچہ جنگلوں کی ویرانی سڑکوں پہ چھا جائے، اگرچہ علم کی کوئی قدر نہ رہے، اگرچہ تعلیم ہر گھر سے رخصت ہوجائے، اگرچہ انسانیت عدم وفاداری کا شکار ہوجائے، اگرچہ دوستی بھلا کر دوست دشمن بن جائیں، لیکن یہ لوگ پھر بھی اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑے رہ کر پکاریں گے۔ "اگرچہ دوسرے سارے ختم ہوگئے ہیں میں یہاں کھڑا ہوں ساری دنیا چاہے صحرا بن جائے، لیکن چونکہ میرے پاس رطوبت کے آنسو ہیں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ خدا نے مجھے چلنے کو دو پاؤں اور پکڑنے کےلئے دو ہاتھ دیے ہیں، میرا یقین ہے کہ میرا دارالخلافہ  اور میری سلطنت اتنی وسیع ہے جتنا میرا دل۔ دنیاکو بحال کرنے کے مواقع میرا انتظار کر رہے ہیں ان مواقع کے ساتھ میں پوری دنیا کو انشاءاللہ جنت بنادوں گا۔ میں مستقبل کے متعلق کیوں پریشان ہوں جبکہ یہاں کی زمین بڑی زرخیز ہے۔ کیا خدا نے وعدہ نہیں کیا کہ وہ آخرت میں ایک کا ایک ہزار بنا کر دے گا"

        اور اس طرح وہ لوگ ٹوٹے ہوئے پلوں اور مسدود راہوں میں بھی آگے بڑھتے رہتے ہیں ایک دریا کی طرح وہ ہر چیز میں زندگی لاتے ہیں اور اس آگ کو بجھاتے ہیں جو انسان میں اور ہر جگہ لگی ہوئی ہے اور آگ کی طرح اگرچہ وہ بجھ بھی چکی ہو، وہ لوگوں کو سردی سے بچاتے ہیں، وہ شمع کی طرح پگھل جاتےہیں لیکن پھر بھی ہزاروں آنکھوں کو روشنی دیتے ہیں۔ جس راہ پر وہ چلتے ہیں وہ عام صوفیاءکرام کا راستہ ہے اور کبھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ اس راہ پر چلنے والااپنی منزل پر نہ پہنچا ہو۔

وہ لوگ مسلسل وفادار اور سرگرم ہوتے ہیں۔ وہ اتنے جواد ہوتے ہیں کہ خدا کے نام پر اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ اس امید پر کہ جو کچھ اس دنیا میں خرچ کریں گے وہ کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا وہ اپنی زندگی کھانا کھلانے میں گزار  دیتے ہیں ۔ انکی نگاہوں میں دین کو محفوظ کرتے اور اس کو دنیا میں پٰھیلانے سے بڑا رتبہ کو ئ نہیں ہے۔ وہ اس مقصد کو بطور  'وجہ تخلیق' (aisen d’etre)  لیتےہیں اور اس پر زندگی گزارتے ہیں۔ وہ صرف اسی خیال سے واقف ہیں. وہ اسی کو پھیلانے کے لئےاکھٹے ہوتے ہیں اوراپنے مجمع میں خدا کے ساتھ تعلق کو گہرا بناتے ہیں۔ ملأ اعلی کے مکین انہیں پسند کر تے ہیں اور مقدس کام کی تلاش میں ان کے راستے آسان کرتے ہیں۔ چونکہ ان کے دماغ میں ہمیشہ خدا ہو تا ہے اس لئے وہ کبھی بھی اپنی آسانی کو نہیں دیھکتے۔ وہ نیکی کیلئے بہت پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں، اضافی اقدار کو بڑھاتے ہیں اور ان کے سینے پیغمبروں کی طرح ہر ایک کےلئے کھلے ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کے لئے جیتے ہیں ان کی فراخدلی کے طفیل خدا ان کو ایسے استحققات سے اس دن نوازے گا جب ہمارے ہاتھ پاؤں ہمارے کچھ کام نہ آئیں گے۔ خدا ان کو فرشتوں جیسی عمدہ صفات عطا کر تا ہے اور اپنی لقاء کا شرف بخشتا ہے۔ خدا ان کو اپنے انعام یافتہ بندوں میں شامل کر تا ہے اور انہیں اپنا مہمان خصوصی تصور کرتا ہے اور ان کو اپنی رحمت کا رضا والا تاج پہناتا ہے۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔