رزق حلال اور عمل صالح کا تعلق

رزق حلال اور عمل صالح کا تعلق

سوال: اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ (سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ: 51)(اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤاور نیک عمل کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں اس سے میں واقف ہوںْْْْْْْْْْْْْ) پس رزق حلال اور عمل صالح میں کیا تعلق ہے؟

جواب: قران کریم او ر سنت نبویہ میں رزق حلال کا نہایت اہتمام کیا گیا ہے یہاں تک کہ علمائے قرآن و سنت نے اس اہتمام کا بیان ان الفاظ میں کیا ہے کہ’’ دین معاملات کا نام ہے‘‘ یعنی اسلام کا مطلب حلال اور حرام کی پہچان اور اعمال کی بنیاد اس پر رکھتا ہے۔ اس بات کی اہمیت کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے : ’’ کسی بھی نماز اورروزے کو مت دیکھو بلکہ اس آدمی کو دیکھو جب بات کرے تو سچ بولے ، جب امانت رکھی جائے تو ادا کرے اور جب موت کے قریب ہو تو گناہوں سے بچے ( البیہقی ،السنن الکبریٰ: 288/6)۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حج، روزہ اور زکوٰۃ جیسے احکام اللہ کے ہاں بڑی عظیم عبادات ہیں ان کے بہت سے فضائل ہیں، کوئی بھی شخص ان کے مرتبے سے انکار نہیں کرسکتالیکن انسان کے اپنے کھانے پینے، لباس پوشاک، فرد اور دوسرے لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنا اور حق کی خاطر اپنی عمر گزارنا بھی اس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ مطلب یہ ہے آدمی اپنی زندگی حلال اور حرام کے بارے میں انتہائی خیال رکھتے ہوئے گزارے کیونکہ اسلام میں یہ ایسا بنیادی حکم ہے جس سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں ۔ اس لئے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ : زندگی میں اس حکم کو نافد کرنا انفرادی عبادت سے زیادہ مشکل ہے ۔ اس لئے جو شخص اسلام کی نمائندگی کرتا ہے اور اس پر سچ مچ عمل بھی کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ حلال رزق کو تلاش کرے اور اس کا خیال رکھے، حرام کو ترک کرنے پر صبر کرے اور اس پر قائم رہے اور دیکھے کہ اس کے پیٹ میں حرام نہ آجائے خواہ وہ ایک لقمہ ہی کیوں نہ ہو۔

اگر ہم اولیائے اکرام کے طور طریقوں اوطرزِ زندگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک اس مشکل میں دوسروں کا حقیقی مرشد تھا۔ اس لئے وہ تقویٰ اور زبردست ارادوں سے کام کرتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اکثر مقامات پر بھی حرام سے محفوظ فرمایا جس کی جانب ان کا خیال بھی نہ گیا۔ جی ہاں ،ان میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں کہ ا گر ان میں سے ایک شخص نامعلوم حرام کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو ان پر رعشہ طاری ہو جاتا، دھڑکن تیز ہو جاتی جس سے معلوم ہوتا کہ وہ حرام ہے اور وہ فوراً اس سے رک جاتا۔ ایک اور بزرگ نے غلطی سے حرام لقمہ منہ میں رکھ لیا اور بڑی دیر چباتے رہےمگر حلق سے نیچے نہ اتر سکا۔ اسی طرح ایسے بھی لوگ تھےکہ اگر معلوم ہوجاتا کہ حرام لقمہ پیٹ میں بلا ارادہ چلا گیا ہے تو معلوم ہونے پر پیٹ کو فوراً خالی کردیتے اور اس لقمے کو باہر نکال دیتے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے کہ آپ نے اپنے ایک غلام کی اس کمائی سے خریدے کھانے سے کچھ تناول فرمایاجو اسے زمانۂ جاہلیت میں کہانت سے حاصل ہوئی تھی اور آپ کو اس کا علم نہ تھا۔ اسی طرح حضرت عمرؓ نے دودھ نوش فرمایا جس کے بارے میں معلوم نہ تھا کہ یہ زکوٰۃ کے اونٹوں کا ہے ۔ ان دونوں حضرات کو جونہی حقیقت کا علم ہوا منہ میں انگلی ڈال کر اس طرح قے کردی کہ معدے میں کوئی چیز باقی نہ رہی۔ اس سے معلوم ہوا کہ لقمہ حرام سے فوراً بچنا اور دور بھاگنا اسلام میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ

حلال اور حرام کا خیال رکھنا بڑی اہم بات ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اوامر اور اس کی ذات کی تعظیم کا اظہار کرتی ہے ۔ اس لیے انسان کی ہر وہ کوشش جو حلال کمانے اور حرام سے بچنے کے لیے کرتا ہے وہ ایک خاص رنگ کی عبادت ہے کیونکہ مسلمان کی جانب سے محرمات، مصائب اور آزمائشوں پر صبراور ثبات سے مقابلہ کرنا ’’ سلبی عبادت‘‘ (1)ہے اور رزق حال کے لئے کوشش بھی بالکل اسی طرح عبادت ہے۔اس بات پر اللہ تعالیٰ اس کلام کی روشنی میں غور فرمائیں: ﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ﴾ (سُورَةُ فَاطِرٍ: 10) (اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتے ہیں) اس آیت میں اس بات کی صراحت ہے کہ مبارک کلمات جیسے حمد، تسبیح، تکبیر اور درود شریف کو اعمال صالحہ کے علاوہ کوئی شے حق تعالی سبحانہ تک نہیں پہنچاتی۔ اس لیے عبادت کی دونوں قسمیں خواہ وہ فلت جیسے نماز ،زکوٰۃ اور روزہ یا ترک ہو جیسے حرام سے پختہ عزم کے ساتھ بچنا، ان میں ایک ایسا پر ہے جس سے پاکیزہ کلمات اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوتے ہیں۔ اس لیے اس بات کو معمولی نہ سمجھنا چاہیے اور ہم پر لازم ہے کہ حلال کی طلب اور حرام سے بچنے کے لیے پوری پوری سعی اور کوشش کریں۔

جی ہاں ،کھانے میں حلال حرام کی تمیز اور ناجائز چیزوں کو جائز چیزوں کے ساتھ غلط ملط نہ کرنے اور اس بارے میں حساسیت کے ساتھ کام کرنے میں عبادت جیسا ثواب ہے ۔ مثال کے طور پر انسان کا علاج میں استعمال میں ہونے والی چیزوں کے اجزاء کی حلت کا خیال ، غذائی چیز یں خریدتے وقت حلال کا خیال رکھنا اور قصائی سے گوشت خریدتے وقت شرعی ذبیحے کا یقین کرنے اور کمانے میں حلال کا خیال رکھنے سے اس کو روحانی ترقی حاصل ہوگی جبکہ اس بارے میں اپنے ارادے کا حق ادا نہ کرنے اور ان امور کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے اس کی روحانی زندگی بجھتی چلی جائے گی او راس کے روحانی لطائف مرتے چلے جائیں گے اور اس کی ہلاکت کا سبب بن جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ﴾ (سُورَةُ الْمَائِدَةِ: 42) ( (یہ )جھوٹی باتیں بنانے کے لئے جاسوسی کرنے والے اور حرام مال کھانے والے ہیں) میں ایک ایسے فرقے کی نہایت گندی تصویر پیش کی گئی ہے جو حرام کھاتا ہے جبکہ بعض احادیث شریفہ میں آیا ہے کہ انسان کی عبادت اور اطاعت بلکہ اس کی دعا بھی اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک اس کی رگوں میں رزق حرام یعنی ’’السحت‘‘ دوڑ رہا ہو جیسے کہ مندرجہ بالا آیت میں ارشاد ہوا ہے ۔ مثلاً ایک حدیث شریف میں ہے آپ ﷺ سے مروی ہے کہ : ’’ جو شخص حرام کا ایک لقمہ کھائے گا اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہ ہوگی،چالیس دن تک اس کی دعا قبول نہ ہوگی اور حرام سے بننے والا گوشت آگ ہی کے قابل ہے جبکہ حرام کا ایک لقمہ بھی گوشت بناتا ہے‘‘ ۔ (مسند الدیلمی : 591/3)

حرام خور کا انجامِ بد

امام مسلم اور امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جو حرام کے منفی اثرات کو بیان کرتی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حلال چیزیں کھانے کا حکم فرمایا ہے اس کے بعد فرمایا: ’’ ایک آدمی طویل سفر کرتا ہے ، بکھرے بال اور پراگندہ حالت ، آسمان کی طرف ہاتھ بلند کرتا ہے اور دعا کرتا ہے اے میرے رب ،اے میرے رب ،جبکہ اس کا کھانا حرام ہے اوراس کی نشوونما حرام سے ہوئی ہے تو پھر اس کی دعا کیسے قبول ہوگی؟ (مسلم ،الزکاۃ:65 ، الترمذی، التفسیر:3)

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ ’’ جب آدمی حلال نفقے سے حج کے ارادے سے نکلتا ہے اور پاؤں رکاب میں رکھتا ہے اور’’ لبکھ اللہم لبیک‘‘ کی صدا لگاتا ہے تو آسمان سے ایک منادی اس کو آواز دیتا ہے : ’’لبیک و سعدیک‘‘ ( تیرا آنا مبارک اور قبول ہے) تیرا زادِ راہ حلال ہے ،تیری سواری حلال ہے اور تیرا حج مقبول ہے جس میں کوئی گناہ نہیں اور جب کوئی حرام نفقہ ساتھ سے کر نکلتا ہے اور پاؤں رکاب میں رکھ کر ’’ لبیک‘‘ کی صدا لگاتا ہے تو آسمان سے ایک منادی اس کو آواز دیتا ہے ۔’’ لا لبیک ولا سعدیک‘‘ ( تیرا آنا مبارک ہے نہ قبول)تیرا زادِ راہ حرام ہے ، تیرا خرچہ حرام ہے اور تیرا حج غیر مقبول ہے ‘‘۔ (الطبرانی، العجمل الاوسط: 251/5)

جی ہاں ، کیا ایسے انسان کی دعا قبول ہوسکتی ہے جس کا کھانا،جس کا پینا، جس کی سواری اور جس کا لباس حرام ہو اور اس کی پرورش حرام سے ہوئی ہو ۔ کیا اس کا حج قبول ہو جائے گا جبکہ وہ سر تا پا حرام میں غرق ہے ؟ اس قدر حرام میں ڈوبا شخص ’’ لبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ!‘‘ ( حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ،میں حاضر ہوں اور تیرا کوئی شریک نہیں ، میں حاضر ہوں ، ساری حمد ،نعمت اور حکومت تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے) کی صدا کب لگا سکتا ہے ! اور اگر وہ یہ صدا لگا بھی لے تو کیا وہ اعمال گندے چیتھڑے کی طرح اس کے منہ پر نہ ماردیئے جائیں گے ؟ پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق حلال سے پرورش اور حلال کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارنے کی کس قدر اہمیت ہے تاکہ اس کی وجہ سے ہماری عبادات کو اللہ کے حضور پیش کیا جاسکے۔ اسی جانب سوال میں مذکورہ آیت شریفہ ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ (سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ: 51)(اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤاور نیک عمل کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں اس سے میں واقف ہوںْْْْْْْْْْْ) میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ رزق حلال سے انسان کی پرورش اس کی عبادت اور اطاعت کے قبول ہونے میں زبردست اور حقیقی ا ثر رکھتی ہے ۔

ایک اور بات یہ ہے کہ : رزق حلال کھانے کا حکم کئی آیات میں آیا ہے ۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے حلال کو تلاش کرنے کی کوشش کرے کیونکہ ہر حلال اپنے جیسی دوسری چیزوں کی طرف لے کر جاتا ہے اور ہر حرام اپنے جیسے دیگر حرام کاموں کی طرف لے کر جانے کا سبب بنتا ہے ۔ اس لیے ہر شے اپنی جیسی دیگر چیزوں کی طالب ہوتی ہے جو اسی جیسی ہوں اور اس کی صفات سے متصف اور اس کے لیے لازمہ کی حیثیت رکھتی ہوں۔ اسی طرح ہمارے تصرفات اور اعمال اور حرکتیں بھی اپنی جیسی چیزوں کے پیچھے چلتی ہیں۔ ایک آیت کریمہ بتاتی ہے کہ گندے لوگ اپنے مزاج کی وجہ سے گندی چیزوں کو تلاش کرتے ہیں جبکہ پاکیزہ لوگ اپنی فطرت کی وجہ سے اچھی چیزوں کے پیچھے جاتے ہیں۔ ( سورۃ النور :26) پس آپ کہہ سکتے ہیں : صفائی، طہارت، خوبصورتی اور اچھائی ، دیگر اچھی چیزوں کی جانب لے جاتی ہیں جبکہ برائیاں، میل کچیل اور خباثت، ہمیشہ بری چیزوں کو ہی تلاش کرتی ہیں ۔ اس لیے جب انسان حلال کو تلاش کرتا اور اس بارے میں سعی کرتا ہے تو وقت گزرنے ساتھ ایک ایسا دائرہ وجود میں آتا ہے جس کا ماحول خیر کا ہوتا ہے اور انسان اس ماحول میں اپنی زندگی گزارتا چلا جاتا ہے ۔ اس لئے آغاز سے ہی حلال ا ور حرام میں باریک بینی کے ساتھ تمیز کرنا بہت ضروری ہے۔

حرام کا پھیلاؤ اسے قطعاً جائز نہیں بناتا

افسوس کی بات ہے کہ ہمارے اس زمانے میں حلال اور حرام کا کا اختلاط اور عام طور پر اس سے نہ بچنا ایک حقیقت ہے جبکہ انسان پر لازم ہے کہ وہ یہ بات جان لے کہ اس بارے دوسروں کی سستی سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا جیسے کہ حضرت بدیع الزمان سعید نورسی اپنے نفس سے فرماتے ہیں: ’’اگر تم دوسروں کی معیت اور تمہارے ساتھ مبتوس میں شرکت سے تسلی کی خواہش رکھتے ہو تو قبرکے بعد آنے والے زمانے میں یہ ایک قطعی بے بنیاد وہم ہے ۔‘‘ (چود ہواں کلمہ ۔ خاتمہ) اس لئے لوگوں کا حرام کھانا ، حرام دیکھنا اس کے بارے میں بات کرنا اور اس بارے میں زیادہ بولنا ،اگرچہ بظاہر ایک طرح کی تسلی اور سہارا محسوس ہوتا ہے مگر یہ آخرت میں انسان کو کچھ فائدہ نہ دے گا کیونکہ انسان کا دنیا میں کسی کی مصیبت میں شرکت سے آخرت کی مصیبت میں کوئی کمی نہیں آئے گی ۔ پس مسلمان پر لازم ہے کہ ہ اچھی طرح حساب لگائے کہ وہ لقمہ کہاں سے آتا ہے جو وہ اپنے منہ میں رکھتا ہے اور وہ کہاں جائے گا اور اس کا ا نجام کیا ہوگا۔

یہ بات معلوم ہونی چائیے کہ اس بارے انسان کی غفلت اور زندگی میں اس کی پروا نہ کرنے کا آخرت میں برا نتیجہ ہے کیونکہ وہاں انسان سے جو کے ایک دانے کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا بلکہ قرآن کریم کہتا ہے : ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ (الزلزال:8-7) (جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا) اس لئے اس بارے میں ایک ذرے کے وزن کا بھی خیال رکھا ہے ۔ اسی بنا پر جس طرح ذرہ بھر نیکی کرنے والے کو ثواب ملے گا،اسی طرح ذرہ بھر برائی کرنے والے کو اس کی سزا بھی ملے گی۔جی ہاں، قیامت کے دن اس ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائے گا جو اس نے کہایا سنا ہوگا ،جو منظر اس نے دیکھا ہوگا اور ہر لقمے اور گھونٹ کا حساب ہوگا جو اس کے معدے میں پہنچا ہوگا۔۔۔ اس لئے اگر انسان دنیا میں باریک بینی کے ساتھ اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرے گا تو قیامت میں شدت سے اس کا حساب ہوگا۔ اسے وہاں چڑھائی پر چڑھا چڑھا کر تھکایا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ فرمائے۔ اس لئے جو لوگ حلال حرام کے بارے میں احساس گم کر بیٹھتے ہیں وہ نئے سرے سے اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے کھانے، پینے، کمائی اور اخراجات کے بارے میں اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔

آخر میں میں یہ عرض کروں گا کہ اس بارے میں لاپرواہی اور عدم احساس کا شکار لوگوں کی سستی سے ہمارے اندر بدشگونی پیدا نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس بارے میں پہل کرنے والے لوگ تقویٰ کی مہار تھام کر اپنی زندگی گزارنے پر آجائیں تو ان کی یہ حالت ان کے ماحول میں موجوں کی طرح پھیل جائے گی اور بے شک سارا معاشرہ رفتہ رفتہ اس سوچ اور حا سیت کو قبول کر لے گا بشرطیکہ ہم اللہ کی جانب سفر کا آغاز خود اپنی ذات سے کریں اور اس بات کی نیت ، عزم اور پختہ ارادہ کرلیں کہ ہم چیزوں میں فرق کریں گے، یعنی اچھے کو برے سے ، خوبصورت کو بدصورت سے اور حلال کو حرام سے،سوچ ، غور و فکر اور وسیع گہرائیوں میں غوطہ زن ہو کر الگ الگ کریں گے۔

(1) سلبی عبادت سے مراد یہ ہے کہ مصیبت انسان کے گناہوں کو مٹاتی ہے حالانکہ اس نے اپنے ارادے سے کوئی عبادت نہیں کی۔ اس لئے یہاں سلبی سے مراد عدمی ہے کہ گویا گناہوں کی بخشش کی بنیاد عدم پر ہے جو صحت، لذتوں اوریگر امور سے محرومی ہے ۔ علاوہ ازیں اگر اس مصیبت پر صبر کرے گا تو اجر بھی پائے گا۔

Pin It
  • Created on .
حقِ اشاعت © 2020 فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ. تمام حقوق محفوظ ہیں۔
fgulen.com یہ فتح اللہ گولن. کی سرکاری ويب سائٹ ہے۔